Updated: July 30, 2026, 6:07 PM IST
| New Delhi
نئی رپورٹ کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے اہم بحری راستوں میں ممکنہ رکاوٹیں ہندوستانی برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی منافع بخش سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو سمندری انشورنس پریمیم، مال برداری (فریٹ) کے اخراجات اور سامان کی ترسیل کا وقت بڑھ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این
نئی رپورٹ کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے اہم بحری راستوں میں ممکنہ رکاوٹیں ہندوستانی برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی منافع بخش سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو سمندری انشورنس پریمیم، مال برداری (فریٹ) کے اخراجات اور سامان کی ترسیل کا وقت بڑھ سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ہوگا کیونکہ ان کے لیے بڑھتی ہوئی لاگت صارفین تک منتقل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:ملک میں دولت پیدا کرنے والوں کی ۳۶۰؍ون فہرست میں ٹاپ ۳؍ میں ۳؍ہندوستانی
کیئر ایج ریٹنگز کی رپورٹ کے مطابقہندوستان کی تقریباً ۴۰؍ فیصد خام تیل (کروڈ آئل) کی درآمدات کے علاوہ ایل این جی اور ایل پی جی کی بڑی سپلائی بھی آبنائے ہرمز پر منحصر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مئی ۲۰۲۶ء میں آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۱۵؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ اگر آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر دونوں راستے ایک ساتھ متاثر ہوئے تو برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۳۰؍ سے ۱۳۵؍ ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ اور توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء سے جاری مغربی ایشیا کے تنازع نے ہندوستان کے لیے غیر معمولی توانائی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اگرچہ روس سمیت مختلف ذرائع سے خام تیل کی خریداری بڑھانے کے باعث ہندوستان نے اپنی توانائی کی سپلائی کو کافی حد تک محفوظ رکھا ہے، تاہم اس بحران کے معاشی اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران یمن کے حوثی گروپ نے بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت متاثر کرنے کی دھمکی دی ہے اور سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پر حملے بھی کیے ہیں۔ دوسری جانب، اطلاعات کے مطابق ایران نے حوثیوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر امریکہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر فوجی کارروائی کرتا ہے تو وہ باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی تیاری کریں۔
باب المندب آبنائے بحرِ ہند کو بحیرۂ احمر سے جوڑنے والا واحد اہم بحری راستہ ہے، جو نہرِ سویز کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں متاثر ہوتے ہیں تو عالمی لاجسٹکس، توانائی کی سپلائی چین اور ہندوستان کی مجموعی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے سے توانائی پر انحصار کرنے والی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ اگر جہازوں کو کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے بھیجنا پڑا تو سامان کی ترسیل میں دو سے تین ہفتوں کی اضافی تاخیر اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کیئر ایج ریٹنگز کی سینئر ڈائریکر پریتی اگروال نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر دونوں چند ہفتوں کے لیے بھی بند رہتے ہیں تو عالمی توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں برینٹ کروڈ کی قیمت۱۳۰؍ سے ۱۳۵؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ میں ایل این جی کی سپلائی بھی شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:سی ڈبلیو جی: سچن، جادومنی سنگھ، ساکشی چودھری، اروندھتی اور پریا گھنگھس سیمی فائنل میں
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے کے علاوہ اس طرح کی رکاوٹوں سے سمندری انشورنس پریمیم بڑھیں گے، بندرگاہوں پر بھیڑ میں اضافہ ہوگا، جہازوں کے راستے اور سفر کا دورانیہ طویل ہوگا، جبکہ عالمی سپلائی چین میں مال برداری کی لاگت بھی بڑھ جائے گی۔ کیئر ایج ریٹنگز کے ڈائریکٹر پونیت کنسل کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور آبنائے ہرمز و بحیرۂ احمر سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات ہندوستانی کمپنیوں پر نیا مالی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خام مال مہنگا ہوگا، سپلائی چین متاثر ہوگی اور کمپنیوں کے آپریشنل کیش فلو پر بھی منفی اثر پڑے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی کمپنیاں اپنی مضبوط مالی حیثیت، بہتر سودے بازی کی صلاحیت اور متبادل سپلائی ذرائع کے باعث اس جھٹکے کا کسی حد تک مقابلہ کر سکتی ہیں، لیکن چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، جن کے پاس بڑھتی ہوئی لاگت صارفین پر منتقل کرنے کی محدود گنجائش ہے، انہیں منافع میں کمی، ورکنگ کیپیٹل کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور نقدی کے بحران جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔