• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’چائے اختلافات ختم کرسکتی ہے‘ پر یقین رکھنے والے واگھ بکری کے سربراہ پیوش دیسائی کا انتقال

Updated: September 19, 2026, 4:40 PM IST | Ahmedabad

۸۶؍ برس کی عمر میں ۱۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو انتقال ہوا۔ ۶؍ دہائیوں تک چائے کی صنعت سے وابستہ رہے۔ ۲۰۰۱ء کے کچھ اور ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات کے متاثرین کی مدد بھی کی۔

Wagh Bakri head Piyush Desai. Photo: INN
واگھ بکری کے سربراہ پیوش دیسائی۔ تصویر: آئی این این

واگھ بکری ٹی گروپ کے چیئرمین پیوش دیسائی کا۱۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو ۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ تقریباً ۶؍ دہائیوں تک چائے کی صنعت سے وابستہ رہنے والے دیسائی کو صنعت کار کے ساتھ ساتھ چائے کے ماہر، سماجی خدمت گار اور ہندوستانی موسیقی کے شیدائی کے طور پر بھی یاد کیا جا رہا ہے۔ پیوش دیسائی کے خاندان کا چائے سے تعلق کئی نسلوں پر محیط تھا۔ ان کے دادا نارنداس دیسائی نے ۱۸۹۲ء میں جنوبی افریقہ کے ڈربن میں ۵۰۰؍ ایکڑ پر چائے کا باغ شروع کیا تھا۔ وہ ۱۹۱۹ء میں ہندوستان واپس آئے اور احمدآباد میں گجرات ٹی ڈپو قائم کیا، جہاں سے واگھ بکری برانڈ کی بنیاد پڑی۔ برانڈ کا مشہور نشان ایک شیر اور بکری کو ایک ہی پیالی سے چائے پیتے دکھاتا ہے، جسے باہمی میل جول اور ہم آہنگی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: قبائلی اسکول ٹھیک کرو مہم کے تحت ابھیجیت دِپکے تاڈگاؤں اسکول پہنچے

دیسائی کے قریبی لوگوں کے مطابق وہ اسی سوچ کو اپنی عملی زندگی میں بھی اہمیت دیتے تھے اور مذہبی بنیاد پر امتیاز کے مخالف تھے۔ واگھ بکری برانڈ کا بنیادی پیغام بھی یہی رہا کہ ’’چائے اختلافات کو ختم کرسکتی ہے۔‘‘ ان کے ساتھیوں کے مطابق ہندو اور مسلمان ان کے لیے برابر تھے اور وہ کسی بھی شخص کو مشکل میں دیکھ کر اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ احمدآباد کی بلائنڈ پیپلز اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری بھوشن پونانی نے دیسائی کی سماجی خدمات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ۱۹۸۴ء میں دیسائی اور ان کے بھائی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ احمدآباد گئے تھے، لیکن ادارہ بند ہونے کی وجہ سے وہ رہنمائی کے لیے قریب واقع بلائنڈ پیپلز اسوسی ایشن پہنچے۔ وہاں انہوں نے اس وقت ۵۱ء۱؍ لاکھ کا عطیہ دیا، جو اس ادارے کو کسی ایک فرد کی جانب سے ملنے والے بڑے عطیات میں شمار ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: لاڈلی بہن اسکیم میں۵؍ ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا: سپریہ سُلے

۲۰۰۱ء کے کچھ کے زلزلے کے بعد بھی دیسائی نے متاثرین کی مدد کے لیے۱۵؍ لاکھ بلائنڈ پیپلز اسوسی ایشن کو دیے۔ بعد میں ان کا ایک اہم عطیہ بصارت سے محروم افراد کے لیے ۲۰۰؍ اسمارٹ گلاسیز کی صورت میں آیا، جن کے ذریعے وہ مطالعے اور تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کرسکیں۔ دیسائی ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۰ء 2020 تک اسی ادارے کے صدر بھی رہے۔ ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات کے دوران دیسائی نے متاثرین کی مدد اور بازآبادکاری کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق وہ ریاست کے ان صنعت کاروں میں نمایاں تھے جنہوں نے اس وقت کھل کر فسادات پر تنقیدی موقف اختیار کیا۔ ایک قریبی ساتھی کے مطابق دیسائی نے متاثرہ افراد کے لیے امدادی اور بازآبادکاری کے کام کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ دیسائی کا تعلق گجرات ودیا پیٹھ سے بھی رہا، جبکہ وہ احمدآباد کی سماجی تنظیم سدوچار پریوار کے نائب صدر بھی رہے۔ تنظیم کے مطابق انہوں نے گاندھی نگر کے اواسرد میں جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے ہاسٹل کی تعمیر کے لیے ۳۱؍ لاکھ کا عطیہ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ریاستی حکومت خشک سالی کا فوراً اعلان کرےاور کسانوں کو مالی مدد دے

کاروباری سطح پر ان کے دور میں واگھ بکری ٹی گروپ نے نمایاں توسیع کی۔ تقریباً ۶۰؍ برس تک چائے کے کاروبار سے وابستہ رہنے والے دیسائی خود چائے کے ذائقے اور معیار کی جانچ کے ماہر تھے۔ ان کی قیادت میں کمپنی کی موجودگی ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے ساتھ ساتھ ۶۶؍ سے زیادہ ممالک تک پہنچی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق کمپنی کی مالیت تقریباً ۲؍ ہزار کروڑ بتائی جاتی ہے اور ہندوستانی چائے کی مارکیٹ میں اس کا حصہ تقریباً ۹؍ فیصد ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK