’’انڈین آئیڈل ۱۶‘‘ کی فاتح جیوتیرمئی نائک نے کہا ہے کہ وہ بالی ووڈ اداکاراؤں عالیہ بھٹ اور دپیکا پڈوکون کے لیے پلے بیک سنگنگ کرنا اپنی زندگی کے بڑے خوابوں میں شمار کرتی ہیں۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 5:06 PM IST | Mumbai
’’انڈین آئیڈل ۱۶‘‘ کی فاتح جیوتیرمئی نائک نے کہا ہے کہ وہ بالی ووڈ اداکاراؤں عالیہ بھٹ اور دپیکا پڈوکون کے لیے پلے بیک سنگنگ کرنا اپنی زندگی کے بڑے خوابوں میں شمار کرتی ہیں۔
’’انڈین آئیڈل ۱۶‘‘ کی فاتح جیوتیرمئی نائک نے کہا ہے کہ وہ بالی ووڈ اداکاراؤں عالیہ بھٹ اور دپیکا پڈوکون کے لیے پلے بیک سنگنگ کرنا اپنی زندگی کے بڑے خوابوں میں شمار کرتی ہیں۔جیوتیرمئی نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں شریا گھوشال اور اریجیت سنگھ کے ساتھ کسی اوریجنل گانے میں کام کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا’’میں عالیہ میم کی اداکاری کی بہت بڑی مداح ہوں، اس لیے میری خواہش ہے کہ مجھے ان کے لیے پلے بیک سنگنگ کا موقع ملے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ وہ دپیکا پڈوکون کے لیے بھی اپنی آواز دینا چاہیں گی۔
یہ بھی پڑھئے:ہند امریکہ تجارتی معاہدہ کی جلد تکمیل کی کوشش پھر تیز
جیوتیرمئی نے یہ بھی بتایا کہ اگر انہیں کبھی کسی بایوپک کے لیے گانے کا موقع ملا تو وہ لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کی زندگی پر بننے والی فلم کے لیے اپنی آواز دینا پسند کریں گی۔ اپنے موسیقی کے سفر پر ’’انڈین آئیڈل ۱۶‘‘ کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے جیوتیرمئی نے کہا کہ اس مقابلے نے انہیں بطور گلوکارہ اپنی صلاحیتوں کے نئے پہلو دریافت کرنے میں مدد دی۔
انہوں نے کہا’’اس شو نے مجھے مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اس سے پہلے میں اوڑیا سپر اسٹار جیت چکی تھی، لیکن انڈین آئیڈل جیتنے کے بعد مجھے اپنی آواز اور گائیکی کے کئی نئے انداز دریافت کرنے کا موقع ملا۔ پہلے میں زیادہ تر لتا منگیشکر جی اور آشا بھوسلے جی کے گانے گاتی تھی، لیکن مقابلے کے دوران میں نے اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکل کر وائس ماڈیولیشن سیکھی۔ فائنل میں میں نے بالکل مختلف انداز میں گایا، جو میری پرفارمنس کی نمایاں خصوصیت بن گیا۔
انہوں نے شو کے ایک یادگار لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا ’’جب میں نے ’’گزر نے کیا ہے اشارہ‘‘ گانا پیش کیا تو شریا گھوشال میم نے میری تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے فائنل کے لیے اتنا مشکل انداز منتخب کیا اور کامیابی سے اپنی آواز کو ماڈیولیٹ کیا۔ جیوتیرمئی نے اپنی جذباتی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شدید گلے کی بیماری پر قابو پانے کے بعد ٹائٹل جیتنا ان کے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں تھا۔
انہوں نے کہا’’میرا سفر نشیب و فراز سے بھرپور رہا۔ جو لوگ میری جدوجہد سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب گلے کی شدید تکلیف کی وجہ سے میں گانا بھی نہیں گا سکتی تھی۔ اس مرحلے سے فائنل تک پہنچنا اور پھر ٹرافی جیتنا میرے لیے ناقابلِ یقین سفر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا’’اسٹیج پر میری پوری توجہ صرف اپنی بہترین پرفارمنس دینے پر تھی۔ جب میرا نام فاتح کے طور پر اعلان کیا گیا تو مجھے فوراً یقین ہی نہیں آیا کہ میں واقعی جیت گئی ہوں۔ میں ہمیشہ خود سے کہتی تھی کہ میں ضرور فاتح بنوں گی، پورے اعتماد اور مثبت سوچ کے ساتھ۔ آج وہ خواب حقیقت بن چکا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’حالات کیسے بھی ہوں، میں پُرسکون رہنے کی کوشش کرتی ہوں‘‘
جیوتیرمئی نائک کا تعلق ریاست ادیشہ کے ضلع بالاسور کے نیل گیری بلاک کے باؤنسانال گاؤں سے ہے۔ وہ اوڑیا موسیقی کی دنیا کی معروف پلے بیک سنگر ہیں اور ایک تربیت یافتہ **میوزک تھراپسٹ بھی ہیں، جو کینسر کے مریضوں اور حاملہ خواتین کے ساتھ موسیقی کے ذریعے علاج اور معاونت کا کام کرتی ہیں۔