• Sat, 26 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممکنہ امریکی پابندیوں سے بچاؤ، عالمی فوجداری عدالت کے ہنگامی اقدامات

Updated: September 26, 2026, 3:04 PM IST | The Hague

عدالت نے مائیکروسافٹ کا سافٹ ویئر تبدیل کرکے جرمن نظام اپنایا، بینکنگ اور تنخواہوں کے متبادل انتظامات کیے؛ امریکی پابندیوں کی باضابطہ اطلاع ابھی نہیں ملی۔

International Criminal Court building. Photo: X
عالمی فوجداری عدالت کی عمارت۔ تصویر: ایکس

عالمی فوجداری عدالت نے ممکنہ نئی امریکی پابندیوں سے اپنے کام کاج کو محفوظ رکھنے کے لیے پہلے ہی متعدد انتظامات کرلیے ہیں۔ عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان نے بتایا ہے کہ ادارے نے اپنے تکنیکی نظام میں تبدیلی کے ساتھ بینکنگ، صحت بیمہ اور ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق متبادل انتظامات بھی کیے ہیں تاکہ اگر واشنگٹن کی جانب سے عدالت کو بحیثیت ادارہ پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے روزمرہ کام میں خلل کم سے کم ہو۔ تاہم عدالت کو اب تک ایسی کسی نئی پابندی کی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ نزہت شمیم خان نے فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ عدالت نے ’’ممکنہ مستقبل کی پابندیوں کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے بہت سا کام کیا ہے‘‘۔ ان کے مطابق عدالت کے حکام کو مزید اقدامات کی افواہوں کی اطلاع ملی ہے، لیکن امریکی حکومت کی جانب سے انہیں باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: کردفان، سوڈان: ۰۸ء۳؍ لاکھ سے زائد افراد بے گھر، ۱۰؍ میں ۱۱۸؍ واقعاتا

ممکنہ پابندیوں سے نمٹنے کے لیے عدالت نے اپنے دفتری سافٹ ویئر میں بھی تبدیلی کی ہے۔ مائیکروسافٹ کے سافٹ ویئر پر انحصار کم کرتے ہوئے عدالت نے جرمنی کے تیار کردہ اوپن ڈیسک نظام کو اپنایا ہے۔ اس کے علاوہ بینکنگ خدمات، صحت بیمہ اور تنخواہوں کی ادائیگی کے ایسے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں جن سے امریکی پابندیوں کی صورت میں عدالت کے معمول کے انتظامی امور متاثر نہ ہوں۔ عدالت کے ملازمین کو کئی ماہ کی تنخواہیں پیشگی ادا کیے جانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب واشنگٹن اور عالمی فوجداری عدالت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی حکومت پہلے ہی عدالت کے متعدد ججوں اور عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرچکی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق عالمی فوجداری عدالت سے متعلق پابندیوں کا موجودہ نظام ۶؍ فروری ۲۰۲۵ء کے صدارتی حکم کے تحت قائم کیا گیا تھا، جبکہ ۲۰۲۶ء میں بھی عدالت سے وابستہ افراد کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اگست میں امریکی حکومت نے عدالت کی صدر جج توموکو اکانے اور پراسیکیوٹر کے دفتر کے سینئر وکیل عبداللہ سیے کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ عالمی فوجداری عدالت کے مطابق ان تازہ اقدامات کے بعد اس کے ۱۸؍ میں سے ۹؍ جج، دونوں نائب پراسیکیوٹرز، سابق پراسیکیوٹر اور ایک ملازم امریکی پابندیوں کی زد میں آچکے ہیں۔ عدالت نے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ طور پر انجام دیتی رہے گی۔

امریکی دباؤ کا اگلا مرحلہ عدالت کو بحیثیت ادارہ پابندیوں کا نشانہ بنانے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ ایسی پابندیوں کی تیاری کر رہی ہے جن کے ذریعے عدالت کے ساتھ مالی لین دین اور اسے خدمات فراہم کرنے پر پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔ ایسی صورت میں امریکی کمپنیاں اور شہری خصوصی اجازت کے بغیر عدالت کو رقم، اشیا یا خدمات فراہم نہیں کرسکیں گے۔ امریکی پابندیوں کا ممکنہ اثر صرف براہ راست امریکی اداروں تک محدود نہیں رہنے کا خدشہ ہے۔ عدالت کے لیے بینکنگ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، بیمہ، تفتیشی خدمات اور دیگر ضروری سہولیات حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے، کیونکہ بہت سے بین الاقوامی ادارے امریکی مالیاتی نظام سے وابستہ ہیں۔ اسی وجہ سے نیدرلینڈز اور یورپی ممالک بھی عدالت کے کام کو جاری رکھنے کے لیے ممکنہ حفاظتی انتظامات پر غور کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۶؍ سال کے لڑکے کو ۳؍ ماہ کی عمر کی بھی باتیں یاد: تحقیق

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ۲۲؍ ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی عالمی فوجداری عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے رکن ممالک سے عدالت سے علیحدگی اختیار کرنے کی اپیل کی۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ عدالت نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جن میں امریکہ یا اس کے اتحادی شامل ہوں۔ امریکہ روم معاہدے کا رکن نہیں ہے۔ عالمی فوجداری عدالت ۲۰۰۲ء میں قائم ہوئی تھی اور نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کی تحقیقات اور کارروائی کرتی ہے، بالخصوص ایسے حالات میں جہاں متعلقہ قومی نظام حقیقی طور پر کارروائی کرنے سے قاصر یا غیر خواہاں ہو۔ عدالت کے اس وقت ۱۲۵؍ رکن ممالک ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK