Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کے مخصوص علاقوں میں بین الاقوامی فورس کو داخلے کی اجازت

Updated: July 28, 2026, 10:30 AM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیر اعظم کی سیکوریٹی کابینہ نے اس کی منظوری دی ،یہ اسٹیبلائزیشن فورس ہوگی جوان علاقوں میںتعینات رہے گی جہاںاسرائیل کا کنٹرول نہیں ہے۔

Benjamin Netanyahu. Photo: INN
بنجامن نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی سیکوریٹی کابینہ نے غزہ کے مخصوص علاقوں میں بین الاقوامی فورس کو داخلے کی اجازت دے دی ہے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی سیکوریٹی کابینہ نے اتوار کو اس قانونی فریم ورک کی منظوری دے دی جس کے تحت بین الاقوامی فورس کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔ عہدیدار کے مطابق اس مشن کو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا نام دیا گیا ہے جس میں تقریباً۲۰۰؍ اہلکار شامل ہوں گے جو یوگنڈا اور مراکش جیسے دوست ممالک  سے آئیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے شہرسیئٹل میں سالانہ فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ

یہ اہلکار ان علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے جو اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہیں جبکہ ہر دستے کے داخلے کے لیے اسرائیل کی علیحدہ منظوری درکار ہوگی تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ فورس کب تعینات کی جائے گی۔گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا جس میں انسانی امداد میں اضافہ، فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے ذریعے سول انتظام، حماس کا ہتھیار ڈالنا اور اسرائیلی افواج کا انخلا شامل تھا۔ تاہم یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے اور نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ نامی ٹیکنوکریٹ گروپ اب تک غزہ سے باہر ہے۔اس وقت اسرائیل غزہ کے تقریباً۶۴؍ فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے جبکہ تقریباً۲۰؍ لاکھ افراد ساحلی پٹی کے ایک محدود حصے میں حماس کے زیر کنٹرول علاقوں میں خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں انتہائی خراب حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے سیکوریٹی کابینہ کے ارکان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ غزہ، جنوبی لبنان اور شامی علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلاء کے کسی بھی امریکی مطالبے کو مسترد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ہیوم ‘ کے مطابق، کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے کہا کہ امریکہ نے مطالبات کی ایک فہرست پیش کی ہے جس میں غزہ، شام اور لبنان کے محاذوں سے وسیع پیمانے پر انخلا شامل ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: لیبیا: دارالحکومت طرابلس میں سول نافرمانی کی لہر، بجلی کی بندش اور مہنگائی کے خلاف مظاہرے

نیتن یاہو کا کہنا تھا’’ میں اس کی مخالفت کروں گا اور انہیں صاف جواب دوں گاکہ’ نہیں‘۔واضح رہے کہ چند روز بعد نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات متوقع ہے جبکہ خطے کی صورتحال پر دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر مسلسل نگرانی برقرار رکھنے  پر زور دیں گے، اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی نئی انٹیلی جنس معلومات موجود نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK