واشنگٹن نے الزام لگایا تھا کہ’ پاسداران انقلاب‘ اس اسکول کو اپنے اوپر ہونے والے حملے کا دفاع کرنے کیلئے استعمال کر رہا تھا ۔
مناب اسکول کا ملبہ جسے امریکہ نے بمباری میں مسمار کر دیا- تصویر:آئی این این
ایران نے اپنے شہر مناب کے ایک اسکول پر امریکی بمباری کے حوالے سے واشنگٹن کے دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹ قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔ یہ شدید ردِعمل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے اس حالیہ دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی فوج نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایران میں نشانہ بنایا گیا مناب اسکول دراصل پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) کے ایک فعال میزائل لانچنگ سائٹ کے بالکل قریب واقع تھا جس کا مقصد حملے کا دفاع کرنا تھا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے امریکی مہم جوئی اور الزامات کو سخت الفاظ میں نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کا یہ دعویٰ محض اپنی فوجی غلطی اور جرم پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ترجمان نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ اس تاریخی اور ہولناک حقیقت کو کسی بھی صورت جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ایک گنجان آباد شہری علاقے میں واقع اور پڑھائی کے باقاعدہ اوقات کے دوران اس اسکول پر دانستہ امریکی حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں موجود طلبہ، طالبات اور اساتذہ سمیت مجموعی طور پر ۱۷۰؍بے گناہ افراد شہید ہو گئے تھے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عالمی برادری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس وحشیانہ حملے کے اصل ذمہ داروں اور امریکی فوجی قیادت کو بین الاقوامی قانون کے تحت ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس سنگین جنگی جرم کا کڑا احتساب کیا جائے۔ تہران کا یہ سخت موقف خطے میں جاری کشیدگی اور امریکہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے بیچ سامنے آیا ہے جس سے دونوں ممالک کے مابین کھائی مزید گہری ہو گئی ہے۔