Updated: March 31, 2026, 12:03 PM IST
| New Delhi
ہندوستانی حکومت نے ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کے بعد گھریلو سطح پر مٹی کے تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزارت برائے پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مطابق ۲۱؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ۶۰؍ دنوں کے لیے ریٹیل چینلز کے ذریعے مٹی کا تیل فراہم کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد کھانا پکانے اور روشنی کے لیے فوری دستیابی یقینی بنانا ہے۔
ہندوستانی حکومت نے ایران میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر ایک اہم ہنگامی قدم اٹھایا ہے۔ وزارت برائے پیٹرولیم اور قدرتی گیس نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں گھریلو استعمال کے لیے مٹی کے تیل کی فراہمی کو تیز کرنے کے لیے پیٹرولیم سیفٹی اور لائسنسنگ قواعد میں عارضی نرمی دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل اور ایندھن کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس کا براہ راست اثر درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک، خصوصاً ہندوستان، پر پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایکس نے رام نومی کے دوران ہندوتوا تشدد کا فیکٹ چیک کرنے والے محمد زبیر کی پوسٹس کو بلاک کردیا
نوٹیفکیشن کی تفصیلات: ۶۰؍ دن کی اجازت
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، پبلک سیکٹر آئل کمپنیوں کو ۲۱؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ۶۰؍ دنوں کے لیے پیٹرول پمپ اور دیگر ریٹیل چینلز کے ذریعے مٹی کا تیل فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وزارت نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت، حکم کے ذریعے، غیر معمولی معاملات میں، ایکٹ کی کسی بھی دفعات سے استثنیٰ دینے کا اختیار رکھتی ہے… ان شرائط کے ساتھ جو عائد کی جا سکتی ہیں۔‘‘ یہ فیصلہ پیٹرولیم ایکٹ ۱۹۳۴ء اور اس کے ۲۰۰۲ء اپ ڈیٹس کے تحت حاصل اختیارات کے تحت کیا گیا ہے، جو ہنگامی حالات میں قواعد میں نرمی کی اجازت دیتے ہیں۔
ریٹیل سطح پر تبدیلیاں: ذخیرہ اور تقسیم
حکومت نے مٹی کے تیل کی تقسیم کو آسان بنانے کے لیے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر ذخیرہ کرنے کے قواعد میں بھی تبدیلی کی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، تیل کمپنیاں فی یونٹ ۲۵۰۰؍ لیٹر تک مٹی کا تیل ذخیرہ کر سکیں گی۔ اس کے علاوہ، پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تحت مٹی کے تیل کی سپلائی کو ترجیحی بنیادوں پر برقرار رکھا جائے گا، جبکہ ریٹیل چینلز کے ذریعے اضافی سپلائی فراہم کی جائے گی تاکہ گھریلو ضروریات پوری کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: اکولہ: اَنوی مرزاپور گاؤں میں سلنڈر کیلئے قطار میں کھڑے سابق سرپنچ کی موت
ایران جنگ کا اثر: سپلائی چین دباؤ میں
یہ فیصلہ براہ راست ایران کے گرد جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے جڑا ہوا ہے، جس نے عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ خلیجی خطے میں عدم استحکام کے باعث شپنگ روٹس اور سپلائی لائنز پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس سے کئی ممالک کو ایندھن کی قلت کے خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔ ہندوستان، جو اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے اور گھریلو سطح پر متبادل اور ہنگامی اقدامات کر رہا ہے تاکہ عوامی ضروریات متاثر نہ ہوں۔
کلین فیول پالیسی اور عارضی واپسی
گزشتہ چند برسوں میں ہندوستانی حکومت نے ایل پی جی اور دیگر صاف ایندھن کی طرف منتقلی کے تحت مٹی کے تیل کے استعمال کو کم کرنے کی پالیسی اپنائی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال میں حکومت نے عارضی طور پر مٹی کے تیل کی سپلائی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کم آمدنی والے اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ ہنگامی حالات میں حکومت اپنی طویل مدتی پالیسیوں میں بھی لچک پیدا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کمال مولا مسجد معاملہ :ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں مسلم فریق نے چیلنج کیا
ماہرین کی رائے: قلیل مدتی حل
توانائی کے ماہرین کے مطابق، یہ اقدام ایک قلیل مدتی حل ہے جس کا مقصد فوری دباؤ کو کم کرنا ہے۔ تاہم، اگر عالمی سپلائی میں خلل طویل عرصے تک جاری رہا تو مزید اقدامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جیسے اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال یا متبادل سپلائرز کی تلاش۔
ہنگامی ردعمل اور مستقبل کے خدشات
ہندوستانی حکومت کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی تنازعات کس طرح براہ راست گھریلو توانائی پالیسیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ اقدام فوری طور پر عوامی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن طویل مدتی توانائی سیکوریٹی کے لیے مزید جامع حکمت عملی کی ضرورت برقرار رہے گی۔