Inquilab Logo Happiest Places to Work

پری میٹ گالا تقریب میں ایشا امبانی کا لباس توجہ کا مرکز، ۲۶؍ ریاستوں کی نمائندگی

Updated: May 04, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

لباس کے ساتھ پھولوں کی شکل کے ہیروں کے کانوں کے جھمکوں اور ہاتھ پھول (ہاتھ کے زیور) کے ساتھ، امبانی نے آؤٹ ہاؤس جیولری کا’’میجیسٹک لیپرڈ کُوتور‘‘ہیئر آرنامنٹ بھی پہنا، جسے ہاتھ سے بنانے میں ۳۰۰؍ گھنٹے لگے۔

Isha Ambani.Photo:Insta
ایشا امبانی۔ تصویر:انسٹا

ایشا امبانی ووگ کی ۲۰۲۶ ءمیٹ گالا پری پارٹی میں منیش ملہوترا اور سوَدیش کے اشتراک سے تیار کردہ لباس میں شریک ہوئیں، جس کی خاص بات ان کے ۲۶؍ منفرد بارڈرز تھے، جن میں سے ہر ایک ہندوستان کے مختلف خطے کی نمائندگی کرتا ہے، اور اس سال کے تھیم ’’کاسٹیوم آرٹ‘‘ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ لباس ہندوستان کی بھرپور دستکاری کی روایت سے جڑا ہوا ہے اور ارب پتی تاجر مکیش امبانی کی بیٹی نے اس کے ذریعے ملک بھر کے ہنرمندوں کو اجاگر کیا، جو علاقائی تکنیکوں کے تنوع اور گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈیزائنر نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ’’ہر بارڈر اپنے ہنر کی ایک الگ زبان رکھتا ہے۔زری ورک سے لے کر گارا، کانجیورم اور بنارسی تک جو مل کر ایک مسلسل داستان بناتے ہیں۔‘‘
انائتا شروف اڈجانیا کی اسٹائلنگ میں، امبانی نے ایک بینڈیج ڈریس پہنا جسے ہندوستانی انداز میں نئے سرے سے پیش کیا گیا، جو جسم کی فطری ساخت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی روایتی دستکاری کو خراج پیش کرتا ہے۔ اس لباس کو سوَدیش کے کاریگروں نے ۴۵۰؍ گھنٹوں میں تیار کیا اور اس میں۲۶؍ مختلف بارڈرز شامل ہیں، جو ہندوستان کے مختلف علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس میں اتر پردیش کی زری کاری، پارسی گارا کڑھائی، مہیشوری بُنائی، کرچوبی، آری بھارت، تلّا، کانتھا، کانجیورم ریشم، پَیٹھنی  اور بنارسی بروکیڈ جیسی تکنیکیں شامل ہیں۔ یہ اسٹریپ لیس لباس ہندوستان کے شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کی روایات کو یکجا کر کے ایک جیتی جاگتی تصویری کہانی بناتا ہے۔
ہر بارڈر اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے اور یہ سب مل کر ثقافت، ہنرمندی اور جدیدیت کا ایک متحد اظہار پیش کرتے ہیں۔ جو چیز بظاہر ایک ساخت معلوم ہوتی ہے، وہ دراصل ایک کہانی ہے جہاں ہر کنارہ اپنی تاریخ سنبھالے ہوئے ہے  اور یہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ حدیں بھی جوڑنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پروپیگنڈافلم بنانے میں کیا غلط ہے؟ جاوید اختر نے’’دُھرندھر‘‘ کا دفاع کیا


زیورات پر خصوصی توجہ 
امبانی کا میک اپ سادہ مگر دلکش تھا، جس میں اسموکی آئیز اور کورل بلش شامل تھے۔ لباس کے ساتھ پھولوں کے انداز کے ہیروں کے جھمکے اور ہاتھ پھول پہن کر انہوں نے آؤٹ ہاؤس جیولری کا ’میجیسٹک لیپرڈ کُوتور‘ ہیئر آرنامنٹ بھی زیب تن کیا، جسے ۳۰۰؍ گھنٹوں میں ہاتھ سے تیار کیا گیا۔ یہ زیور اعلیٰ درجے کی کُوتور کاریگری کا شاندار نمونہ ہے، جسے ایک مکمل کھلے ہوئے زیورات سے مزین ربن (بو) کی شکل میں تصور کیا گیا ہے—دو فٹ لمبا مجسماتی شاہکار جو فوراً توجہ حاصل کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:القادسیہ کے ہاتھوں النصر کو شکست:خطاب کی امیدوں کو شدید جھٹکا


ڈیزائنر کے مطابق’’اس کے مرکز میں دو تراشے گئے چیتے ایک چمکتے ہوئے پریہنائٹ پتھر کو متوازن انداز میں گھیرے ہوئے ہیں، جو طاقت، اتحاد اور نسوانی قوت کی علامت ہیں۔‘‘ ان کے لباس کا ہر پہلو وقت، مہارت اور نسل در نسل منتقل ہونے والی تکنیکوں کی عکاسی کرتا ہے۔یہ یاد دہانی ہے کہ حقیقی ہنر آہستہ آہستہ بنتا ہے اور ہمیشہ قائم رہنے کے لیے ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK