Updated: May 04, 2026, 6:03 PM IST
| Gaza
غزہ میں ۱۹؍ سالہ ہالہ سلیم درویش اپنی شادی سے محض ۱۰؍ دن پہلے اسرائیلی اسنائپر کی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئی۔ ان کے منگیتر محمد شريحی کے مطابق ایک لمحے میں خوشی کا ماحول المیے میں بدل گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گولی اب بھی سر میں موجود ہے اور حالت انتہائی نازک ہے۔ واقعہ غزہ کے تباہ حال صحت نظام اور جاری تشدد کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔
فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ۱۹؍ سالہ ہالہ سلیم درویش اپنی شادی کی تیاریوں کے دوران اسرائیلی اسنائپر کی گولی کا نشانہ بن گئی، جس کے بعد اس کی زندگی خوشیوں سے اچانک بقا کی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہالہ اپنے گھر میں اہلِ خانہ کے ساتھ شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک گولی کھڑکی سے اندر داخل ہوئی اور سیدھا اس کے سر میں جا لگی۔ وہ فوراً اپنے رشتہ داروں کے سامنے زمین پر گر گئی، جس کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی صحافتی یونین کی رپورٹ: ۲۰۲۶ء میں ۳۰۰؍ اسرائیلی خلاف ورزیاں، جنگ میں ۲۶۲؍ صحافی شہید ہوئے
اس کے منگیتر محمد شریحی نے بتایا کہ، ’’ہماری شادی میں صرف ۱۰؍ دن باقی تھے، لیکن ایک لمحے میں سب کچھ بدل گیا۔‘‘ انہوں نے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ ہالہ کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق گولی ابھی تک ہالہ کے سر میں موجود ہے اور اس نے دماغی بافتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی حالت انتہائی نازک اور غیر مستحکم ہے، جبکہ سرجری کرنا اس وقت ممکن نہیں کیونکہ اس میں جان کا مزید خطرہ ہے۔ ہالہ کے والد سلیم نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ، ’’ہم کھانا تیار کر رہے تھے کہ اچانک گولی کھڑکی سے آئی اور اسے جا لگی۔ وہ ہمارے سامنے گر گئی، میں وہ منظر کبھی نہیں بھول سکتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کیلئے نیا قانون بنانے کا اعلان
یہ واقعہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی ایک واضح مثال ہے، جہاں مسلسل تشدد اور ناکہ بندی کے باعث صحت کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق ہزاروں زخمی افراد کو فوری علاج کی ضرورت ہے، مگر محدود وسائل اور ادویات کی کمی کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ۲۲؍ ہزار زخمی اور بیمار افراد کو علاج کے لیے علاقے سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن سرحدی پابندیاں اور جاری تنازعہ اس عمل میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
عالمی ہلال احمر اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے ہالہ کے اہل خانہ نے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ مزید برآں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ میں جاری تنازعے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور انفراسٹرکچر کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ تعمیر نو کے لیے تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر درکار ہوں گے، جو اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔