جنوبی لبنان کے۲۹؍ گاؤں خالی کرنے کا حکم۔ اس سے مستقل جنگ بندی کیلئے سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسرائیل کا حملہ۔ تصویر:آئی این این
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی ایک بار پھر انتہا پر پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اتوارکولبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں واقع حزب اللہ کے مضبوط گڑھ ’داحیہ‘ پر شدید فضائی حملے کئے ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں اس حملے کی تصدیق کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی علاقے میں کی جانے والی حالیہ شیلنگ کے جواب میں کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کا موقف ہے کہ اتوار کو حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی آبادیوں کو نشانہ بناتے ہوئے۳؍ راکٹ فائر کئے جسے اسرائیل نے ’جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔ یہ راکٹ شومیرہ اور شلومی کی آبادیوں کے قریب گرے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو دنوں (ویک اینڈ) کے دوران بھی حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے ۲؍ ڈرونز شمالی اسرائیل کی سرحد کے قریب گرے۔ تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایک طرف بیروت پر بمباری کی گئی تو دوسری طرف اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کی تیاری کرتے ہوئے۲۹؍ دیہاتوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان کرنل افیخائی ادرعی نے یکے بعد دیگرے انخلاء کے ۲؍نوٹس جاری کئے۔ پہلے نوٹس میں۱۳؍دیہات اور دوسرے نوٹس میں دریائے زہرانی کے شمال میں واقع مزید۱۶؍ دیہاتوں کے شہریوں کو فوری طور پر نقل مکانی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس سے مستقل جنگ بندی کیلئے سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔