Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کرنا ہوگا: نیتن یاہو

Updated: June 24, 2026, 3:04 PM IST | Jerusalem

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے ناخوش اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کا امریکی فوجی امداد پر انحصار کے حوالے سے اہم بیان سامنے آگیا۔

Netanyahu.Photo:INN
نیتن یاہو۔ تصویر:آئی این این

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے ناخوش اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کا امریکی فوجی امداد پر انحصار کے حوالے سے اہم بیان سامنے آگیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق انہوں نے ایک بار پھر اپنے ملک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی خودمختاری میں اضافہ کرے اور امریکہ کی فوجی امداد پر انحصار کم کرے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیل فلسطینی بچوں کو نشانہ بنا کر نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے: اقوام متحدہ

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک تربیتی کورس کے دوران ریزرو افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے امریکی دوستوں سے ملنے والی فوجی امداد کی دل سے تعریف کرتا ہوں، لیکن ہمیں اس انحصار سے آزاد ہونے اور اپنا آزادانہ اسلحہ سازی کا نیٹ ورک بنانے کی ضرورت ہے۔ 
واضح رہے کہ نیتن یاہو کا مذکورہ بیان ۱۸؍ جون کو اُس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے ابتدائی معاہدے ہوا، اسرائیل میں اس معاہدے کے خلاف شدید مخالفت کی گئی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنے آزاد اسلحہ سازی کے نیٹ ورک کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے ہتھیار خود تیار کرنے چاہئیں۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے اعداد و شمار کے مطابق  ۱۹۴۸ء سے اسرائیل نے ۳۰۰؍ بلین ڈالر سے زیادہ کی امریکی اقتصادی اور فوجی امداد حاصل کی ہے جو کہ ۱۹۴۶ء کے بعد سے کسی بھی دوسرے ملک کو ملنے والی امداد سے کہیں زیادہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار کی آواز میں’’ تیرا پیسہ میرا پیسہ‘‘ گیت ریلیزہوا

۲۰۱۶ء میں دستخط کیے گئے اور۲۰۱۹ء سے نافذ العمل ایک معاہدے کے تحت اسرائیل کو سالانہ تقریباً ۸ء۳؍ بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری کیلئے مالی امداد ملتی ہے جو کہ اس کے دفاعی بجٹ کا تقریباً ۱۵؍ فیصد ہے۔ یہ معاہدہ ۲۰۲۸ء تک لاگو رہے گا۔  نیتن یاہو اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی فوجی امداد پر اسرائیل کا انحصار ختم کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اسرائیل کا سب سے قریبی اتحادی ہے، لیکن ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل کی جنگی حکمت عملی پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK