یورپی ملک پولینڈ میں ایک ایک غیر معمولی سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً۱۹؍ پولش شہریوں کا طبّی ڈیٹا لیک ہوگیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 1:47 PM IST | Agency | Warsaw
یورپی ملک پولینڈ میں ایک ایک غیر معمولی سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً۱۹؍ پولش شہریوں کا طبّی ڈیٹا لیک ہوگیا ہے۔
یورپی ملک پولینڈ میں ایک ایک غیر معمولی سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً۱۹؍ پولش شہریوں کا طبّی ڈیٹا لیک ہوگیا ہے۔ ٹی وی پی ورلڈ چینل کی خبر کے مطابق پولینڈ کے وزیر برائے ڈیجیٹل امور کژیشتوف گاکوفسکی نے بدھ کے روزجاری کردہ بیان میں بڑے پیمانے پر طبی ڈیٹا لیک ہونے اور اس واقعے سے تقریباً۱۹؍ ملین شہریوں کے متاثر ہونے کا اعلان کیاہے۔ گاکوفسکی نے کہا ہے کہ ایک غیر معمولی سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً ۱۹؍ملین پولش شہریوں کا ڈیٹا لیک ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سائبر حملہ، ڈاکٹروں اور کلینکوں کے زیرِ استعمال اور ملک میں خفیہ طبی ریکارڈ فراہم کرنے والے بڑے ترین اداروں میں سے ایک کے، مریضوں کے آن لائن ریکارڈ پلیٹ فارم کو نشانہ بنا کر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ’’کمپنی نے بھی۱۹؍ ملین مریضوں کا ریکارڈ چوری ہونے کی تصدیق کی اور کہا ہے کہ اس ریکارڈ کو آپس میں جوڑا بھی جا سکتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بل کی ادائیگی نہ ہونے سے ناراض سرکاری ٹھیکیداروں کا ۱۸؍ اگست کو احتجاج
وزیر نے کہا ہے کہ سائبر سیکوریٹی کے ادارے واقعے کی نوعیت اور اسباب کے تعین کے لیے کام کر رہے ہیں اور حکومت نے چوری سے متعلقہ تمام معلومات کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے ہیں۔گاکوفسکی نے کہا ہے کہ فی الحال ڈیٹا کے کسی دوسرے ملک کی طرف سے چوری کئے جانے کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا ۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ’’کوئی بھی نہ تو کسی سے مذاکرات کرے گا اور نہ ہی کسی قسم کی بلیک میلنگ کے سامنے جھکے گا۔‘‘