Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی کے بحری اتحاد میں مزید ۱۳؍ممالک شامل

Updated: August 15, 2026, 1:36 PM IST | Agency

جدہ میں میری ٹائم ڈیفنس الائنس کا تیسرا اجلاس، ۳۹؍ ممالک کے نمائندوں کی شرکت، اتحاد کی کمان سعودی عرب کے ہاتھ میں ہوگی۔

Representatives from various countries can be seen at the consultative meeting held in Jeddah. Picture: INN
جدہ میں ہونیوالے مشاورتی اجلاس میں شامل مختلف ممالک کے نمائندے دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

سعودی عرب کی قیادت میں بحری اتحاد کا تیسرا اجلاس جدہ میں  منعقد ہوا۔ اس ’میری ٹائم ڈیفنس الائنس‘ میں ۱۳؍ ممالک نے باضابطہ شمولیت کا اعلان کر دیا  ہے۔اتحاد کے تیسرے منصوبہ بندی اجلاس میں ۳۹؍ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق میری ٹائم ڈیفنس الائنس کی کمان سعودی عرب سے مقرر کی جائے گی، جبکہ پہلے دور میں نائب کمانڈر کا منصب پاکستان کے پاس ہوگا۔ سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اتحاد کے قیام کا مقصد بحری سلامتی کو یقینی بنانا اور عالمی تجارت کے تحفظ کیلئے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے۔جدہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران اتحاد کے آئندہ لائحہ عمل اور بحری سلامتی سے متعلق تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: یومِ آزادی: لال قلعہ تقریب میں کھرگے، راہل کو پھر پیچھے کی نشست، شامل نہیں ہوئے

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اب تک۱۵؍ ممالک اتحاد کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کر چکے ہیں۔۱۳؍ ممالک باضابطہ طور پر اتحاد کے رکن بن چکے ہیں۔ اتحاد کے پہلے نائب کمانڈر پاکستان سے ہوں گے۔اس ضمن میں سعودی وزارتِ دفاع نے جمعرات کو کہا ہے کہ سعودی قیادت میں قائم کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد نے اپنے کمانڈ ڈھانچے کو فعال کرنے کیلئے  اہم انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ وزارت کے مطابق رکن ممالک کے افسران اور اہلکاروں کو اتحاد کی کمان، بحری اور انٹیلی جنس آپریشنز میں شامل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ یہ اعلان جدہ میں ’’ویسٹرن فلیٹ کمانڈ‘‘ میں ہونے والے اتحاد کے تیسرے منصوبہ بندی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں۳۹؍  ممالک  کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھئے: یومِ آزادی کے موقع پر کاکروچ جنتا پارٹی کی ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کا آغاز کرے گی

وزارتِ دفاع نے بتایا کہ شرکاء نے اتفاق کیا کہ اتحاد کے پہلے نائب کمانڈر کا تعلق پاکستان سے ہوگا۔ سعودی ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری کو گزشتہ ہفتے اتحاد کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔ اتحاد کے ہیڈکوارٹر کا بھی تعین کر دیا گیا ہے، اس کا سرکاری لوگو منظور کر لیا گیا ہے، جبکہ تنظیمی اور منصوبہ بندی سے متعلق ضروری ڈھانچے بھی مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ اتحاد باقاعدہ طور پر اپنا کام شروع کر سکے۔ الشہری نے اتحاد کے مقصد کو ’’پائیدار بحری دفاعی شراکت داری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کثیر ملکی تعاون کا مقصد طویل مدت میں بحری سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ یہ بات الشرق نیوز نے رپورٹ کی۔انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کی جانب سے اتحاد میں شمولیت کی متعدد درخواستیں مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق درخواستوں کا یہ مسلسل سلسلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشترکہ بحری خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے میں اس اتحاد کی اہمیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ اقدامات اتحاد کی عملی صلاحیتوں کی ترقی میں تیزی لانے اور اپنے دائرۂ کار میں دفاعی مشن انجام دینے کیلئے اس کی تیاری کی سطح بہتر بنانے کیلئے کئے جا رہے ہیں۔سعودی قیادت میں قائم یہ اتحاد بحری آمدورفت کی آزادی، تجارتی بحری راستوں اور اہم آبی گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے ایک مستقل کثیر ملکی دفاعی فریم ورک قائم کرنا چاہتا ہے، تاکہ بین الاقوامی تجارت اور عالمی سپلائی چینز کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اتحاد کی توجہ بحیرۂ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیجِ عدن میں بحری سلامتی پر ہوگی۔ یہ اہم آبی راستے ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ وزارت کے مطابق اتحاد کے نفاذ کے اگلے مرحلے میں عملی تیاری مکمل کرنے اور اسے تفویض مشنز انجام دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: مدنپورہ: جھولامیدان کا جمنازیم بند کرنے کے بی ایم سی کے فیصلے پراسٹے

اس بحری اتحاد کو کب تشکیل دیا گیا؟

سعودی عرب نے گزشتہ ماہ اس اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ریاض میں۴۳؍ ممالک کے نمائندوں کے اجلاس کے بعد کیا گیا تھا، جس کا مقصد تجارتی جہاز رانی اور اہم آبی گزرگاہوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان اجتماعی بحری سلامتی کو مضبوط بنانا تھا۔ابتدائی طور پر۱۴؍ ممالک، جن میں سعودی عرب بھی شامل تھا، اتحاد میں شامل ہوئے تھے۔ بعد میں الشہری نے کہا کہ اتحاد ان تمام ممالک کیلئے کھلا رہے گا جو اسکے مقاصد اور اصولوں سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ مختلف ممالک کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو اجتماعی ذمہ داری سمجھنے کے لیے وسیع بین الاقوامی حمایت موجود ہے۔سعودی حکام کے مطابق یہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک، تنظیم یا اتحاد کو ہدف نہیں بناتا۔ یہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کام کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK