اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ابو کامل، حماس کمانڈر تھے اورانکے خطرے کو ختم کرنے کیلئے نشانہ بنایا، غزہ پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کیا۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 1:53 PM IST | Agency | Gaza
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ابو کامل، حماس کمانڈر تھے اورانکے خطرے کو ختم کرنے کیلئے نشانہ بنایا، غزہ پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کیا۔
تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص شہید ہوگیا۔غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق۴۳؍ سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔ یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو خطرے کو ختم کرنے کے لئے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: یومِ آزادی کے موقع پر کاکروچ جنتا پارٹی کی ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کا آغاز کرے گی
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں شہید کیا گیا۔حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کی اور اسے قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کیخلاف کئے جانیوالے وحشیانہ جرائم کا تسلسل قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں کا حصہ ہے۔جمعرات کوجنوبی غزہ کے خان یونس میں دو موٹرسائیکل سواروںکو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا۔بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں۳؍ اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانیوالے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئیے: انڈونیشیا میں ۷ء۷؍ شدت کا زلزلہ، ۲؍ افراد ہلاک، متعدد عمارتیں منہدم
اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی
خیال رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے۱۵؍ نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کیلئے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کردیا جاتا۔