Updated: August 17, 2026, 12:40 PM IST
| Istanbul
ترکی، پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کی جانب سے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کے لائحۂ عمل کو مسترد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا اقدام پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، آٹھوں ممالک نے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کو بھی مسترد کرتے ہوئے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو منصوبے پر عمل درآمد کا پابند بنانے کے لیے مسلسل اور فعال کردار ادا کرے، مشترکہ بیان میں ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ترکی اور ۷؍ دیگر ممالک نے اتوار کے روز غزہ تنازع کے خاتمے سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد مکمل کرنے کیلئے تیار کئے گئے لائحۂ عمل کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کئے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ اس اقدام سے پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں ترکی، مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے مذکورہ لائحۂ عمل کو مسترد کرنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے کی بھی مذمت کی۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے یہ مؤقف ٹرمپ کے ’’غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے‘‘ کی ’’براہِ راست تردید‘‘ کے مترادف ہیں، جس کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳؍ کے ذریعے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لائحۂ عمل کو مسترد کرنا منصوبے پر عمل درآمد کی کوششوں کو خطرے میں ڈالتا ہے اور ’’منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کیلئے کی جانے والی اجتماعی کوششوں کو بنیادی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اس طرح کا انکار اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اب غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دیگر حصوں میں امن کے قیام کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری حملے پر غور کر رہی ہے‘: مارجوری ٹیلر گرین کا بڑا دعویٰ
وزرائے خارجہ نے کہا کہ مذکورہ لائحۂ عمل، جسے فلسطینی تنظیموں نے قبول کرلیا ہے، مصر، قطر، ترکی اور امریکہ سمیت ثالثوں کی وسیع کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کوششوں میں غزہ کے اعلیٰ نمائندے اور امن بورڈ بھی شامل رہے ہیں۔ انہوں نے لائحۂ عمل کو ہتھیاروں کو مرحلہ وار غیر فعال کرنے، اسرائیلی فوج کے انخلا، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی، غزہ کے انتظامی اختیارات قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کو منتقل کرنے اور تباہ حال علاقے کی تعمیرِ نو کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
امریکہ سے مسلسل کردار ادا کرنے کا مطالبہ
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ لائحۂ عمل کو مسترد کرنا ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد سے واضح انکار کے مترادف ہے اور اس سے جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کیلئے حالات پیدا کرنے کی امریکی کوششیں پٹری سے اتر سکتی ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو منصوبے اور لائحۂ عمل کے تحت طے شدہ وعدوں اور انتظامات کی مکمل پابندی کا پابند بنانے اور مزید رکاوٹوں کو روکنے کیلئے ’’مسلسل اور فعال امریکی کردار‘‘ کی اہمیت پر زور دیا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ لائحۂ عمل کو مسلسل مسترد کرنے، اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے، تاخیر کرنے یا اس کی شرائط کی پابندی نہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی ’’براہِ راست اور مکمل ذمہ داری‘‘ اسرائیل پر عائد ہوگی۔ اس میں زمینی صورت حال میں مزید بگاڑ یا غزہ میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں خلل بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حماس کے اعلیٰ سطحی وفد کا مصری حکام کے ساتھ مذاکرات
وزرائے خارجہ نے غزہ کی انسانی صورت حال سے نمٹنے، سلامتی اور استحکام یقینی بنانے اور تعمیرِ نو و بحالی کی راہ ہموار کرنے کیلئے منصوبے پر مکمل اور فوری عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار یا اسے روکنے کی ہر کوشش کو قطعی طور پر مسترد کردیا، جس میں یک طرفہ اقدامات بھی شامل ہیں۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا، ’’منصفانہ، پائیدار اور جامع امن صرف دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، جس کے تحت ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔‘‘ وزرائے خارجہ نے امن بورڈ کے مسلسل کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا اور تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ لائحۂ عمل پر عمل درآمد اور ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کیلئے بورڈ کی کوششوں کی حمایت کریں۔ انہوں نے امن بورڈ پر زور دیا کہ وہ امریکہ کی فعال حمایت اور شمولیت کے ساتھ اپنے اختیارات کے دائرے میں ’’فوری اور ٹھوس اقدامات‘‘ کرے تاکہ منصوبے کی سالمیت برقرار رکھی جاسکے اور کسی بھی فریق کو اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے سے روکا جاسکے۔