اکیڈمک فریڈم انڈیکس (اے ایف آئی) ۲۰۲۶ء کی رپورٹ میں ۱۷۹؍ ملکوں کے تعلیمی نظام کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج کہتے ہیں کہ صرف ۹؍ ملکوں نے اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ ہندوستان تو ہانگ کانگ، انڈونیشیا، پاکستان، یوکرین اور مغربی کنارہ جیسے ۶؍ ملکوں میں ہے جہاں تعلیمی آزادی محدود کر دی گئی ہے۔
جنتر منتر کے بعد بھی یہ ملک نئی نسل کا احتجاج دیکھتا رہا ہے۔ کوٹا، دہرہ دون، الٰہ آباد، پونے اور اندور میں چھاتروں کی گونج پروگرام منعقد کیا جا چکا ہے۔ جو مسائل نوجوانوں اور طالب علموں کے اجتماعات میں اٹھائے جا رہے ہیں ان میں نیٹ پیپر لیک بھی ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے نظام ِ امتحان اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی کارکردگی پر بھی دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اسی دوران اکیڈمک فریڈم انڈیکس (اے ایف آئی) ۲۰۲۶ء رپورٹ عام ہوئی ہے جس کا کہنا ہے کہ گزرے ہوئے دہے میں اس نے ۱۷۹؍ ملکوں کے تعلیمی نظام کا تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ صرف ۹؍ ملکوں نے اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ ہندوستان تو ہانگ کانگ، انڈونیشیا، پاکستان، یوکرین اور مغربی کنارہ جیسے ۶؍ ملکوں میں ہے جہاں تعلیمی آزادی محدود کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایک معتبر ادارہ جس پر اب اعتبار نہیں
راقم الحروف ایک سچا ہندوستانی ہے اور وہ نالندہ و ٹکسلا کے دور پر بھی فخر محسوس کرتا ہے اور شاہ ولی اللہ کی تحریک اور مولانا ابوالکلام آزاد کی بنائی ہوئی تعلیمی پالیسی پر بھی۔ اس کو دکھ ہوا کہ ہندوستان میں تعلیمی آزادی محدود کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ اعلیٰ تعلیم اور اس کی ترجمانی و کارکردگی میں حکومت کی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ جن ملکوں میں تعلیم کو محدود تر کر دیا گیا ہے (مثلاً افغانستان، چین، ایران، روس، ترکی، شام، وینزویلا، زمبابوے وغیرہ) اُن کے مقابلے میں ہندوستان بہرحال بہتر حالت میں ہے مگر رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے مداخلت میں اضافہ کیا ہے۔ یہ مداخلت کیمپس انتظام، تقرری اور تعلیمی ترجیحات کے سلسلے میں ہے۔ حکومت یا حکومت کے کہنے پر یونیورسٹی نے فیکلٹی ممبرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔ طالب علموں کی آزادی یا آزادانہ ترجمانی پر روک لگائی ہے اور تعلیمی تقریبات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ بیشتر اقدامات جو تعلیمی آزادی کو محدود کرتے ہیں یو جی سی کے ذریعہ کئے گئے ہیں۔ وائس چانسلر کیلئے جتنی اور جیسی تعلیم کی ضرورت ہے اس میں تبدیلی اور دس فیصد غیر مستقل اسٹاف کی ملازمت بھی چھینی گئی ہے۔
یہ تو ہوئی حکومتی مداخلت اور کارکردگی کی بات۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا رپورٹ میں کوئی ذکر نہیں ہے مگر مشاہدہ یہ ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ترقی کیلئے کسی خوبی کو شمار کیا جاتا ہے تو وہ ’جی حضوری‘ ہے۔ ایک سے ایک ذہنی معذور قسم کے لوگ ملازمت میں لائے گئے اور ترقی پا رہے ہیں۔ سفارش و جی حضوری کی روش نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تعلیمی اداروں کو اور ان میں پروان چڑھنے والے ’کلچر‘ کو۔ اب تو طالبعلموں کی زبان پر بھی آنے لگا ہے کہ حکمرانوں نے تعلیمی نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے اور ان کا ایسا کہنا بے دلیل بھی نہیں ہے مثلاً ایک طالبہ نے سوال لکھا ہے کہ دیا جلانے کیلئے حکومت کے پاس رقم ہے محفوظ ہاسٹل بنانے کیلئے نہیں؟ حکومت کی خواہش ہے کہ اندھ بھکت پیدا ہوں، سوال پوچھنے والے نہ پیدا ہوں۔ نئی دہلی کے ستیہ نکیتن جیسے واقعات کے رونما ہونے کے باوجود کوئی ایسی پہل نہیں کی گئی ہے کہ محفوظ ہاسٹل بنائے جائیں حالانکہ اس سلسلے میں مطالبے پارلیمنٹ میں بھی کئے گئے ہیں۔ ہاسٹل نہ ہونے کی صورت میں طلبہ کو پے اینگ گیسٹ کے طور پر رہنا پڑتا ہے جس میں روپیہ بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے اور محفوظ جائے قیام بھی نہیں ملتی۔
یہ بھی پڑھئے:اک حافظہ ہے جو کمزور ہوتا جاتا ہے
نیٹ تنازع پر جس طرح مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہونے پر مجبور کئے گئے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کا غصہ کتنا شدید تھا۔ حکومت اور حکمراں جماعت دونوں قابل مبارکباد ہیں اس کے باوجود یہ توقع کرنا صحیح نہیں ہے کہ برسوں کی خرابی ایک شخص کے مستعفی ہونے سے دور ہوجائے گی لیکن ہمارے ملک میں اخلاقی ذمہ داری یا سیاسی دباؤ کے تحت ایک شخص کے استعفیٰ کی روایت نئی نہیں ہے اس سے اتنا تو ہوتا ہے کہ اخلاقیات کا نام لیا جاتا ہے لیکن یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اخلاقیات کا نام اعلیٰ سطح پر اور صرف ایک شخص کیلئے کیوں لیا جاتا ہے؟ اس کیلئے بڑی تعداد میں حکام اور کارندوں کو ذمہ دار کیوں نہیں ٹھہرایا جاتا؟ پہلے سے تیاری کیوں نہیں کی جاتی کہ مسئلہ نہ پیدا ہو مثال کے طور پر نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں ۹۴؍ ہزار سرکاری اسکول بند کئے گئے یعنی اوسطاً ۲۵؍ اسکول روزانہ بند کئے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ تعلیم کی نجکاری، تحقیقی اداروں کی امداد میں کمی، اقلیتی تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی پالیسی عام لوگوں کی تعلیم کیلئے نقصاندہ ثابت ہو رہی ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ملک کی تعلیمی پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ یہ کام کب ہوگا۔ تسلیم کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں فنڈ کی کمی ہے مگر یہ دیکھنا بھی تو ضروری ہے کہ کوئی ادارہ کیوں قائم کیا گیا تھا اور کس نے کس ادارے کو کیا ہدیہ یا وقف کیا تھا۔ کئی اداروں میں تو دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے لوگ اقتدار میں آئے ہیں جن کا مقصد صرف روپیہ اور شہرت کمانا تھا۔ ایسے لوگوں نے نہ صرف اداروں کو تباہ کیا بلکہ وہاں کام کرنے والے عملے کا بھی جینا دوبھر کیا۔ اس بات میں اس سوال کا جواب بھی چھپا ہوا ہے کہ ۸۶؍ لاکھ طلبہ پرائیویٹ اسکولوں میں کیوں منتقل ہوئے ہیں یا اُردو اسکول کیوں بند ہو رہے ہیں۔
ایک بات اور حکومتی اور پرائیویٹ دونوں قسم کے تعلیمی اداروں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے کہ جس شعبے یا ادارے کو بند کرنا مقصود ہوتا ہے اس کو ایسے لوگوں کے ذمے کر دیتے ہیں جو اس کو بآسانی تباہ کر دیں۔ شاید اسی لئے ۲۶-۲۰۲۵ء کے درمیان سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والوں کی تعداد میں ۸۶؍ لاکھ کی کمی درج کی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں ایسے کالجز چلائے جا رہے ہیں جہاں کھیل میدان، لیباریٹری اور لائبریری ہے نہ اہل اساتذہ۔ حال ہی میں سی بی ایس سی میں تین زبانیں پڑھانے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو واضح ہوا کہ عدالت زبان پڑھائے جانے کی مخالف نہیں مگر سیشن کے درمیان ایسی پالیسی کے نفاذ سے تعلیمی اور انتظامی بوجھ بڑھنے پر بھی اس کی نظر ہے۔ ہم اُردو کے شیدائی ہیں مگر اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بچہ اسی زبان میں تعلیم حاصل کرے جس میں اس کو کم سے کم خرچ کرنا پڑے۔ پڑھنے والے بچوں کے سرپرستوں/ والدین کی مالی حالت کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ میرے خیال میں یہ ضرورت مادری زبان کے سرکاری اسکولوں سے پوری کی جاسکتی ہے مگر ان اسکولوں میں انگریزی کا بہتر طور پر پڑھایا جانا ضروری ہے۔ اچھی انگریزی اچھی تعلیم کی سند نہیں ہے مگر سمجھا یہی جاتا ہے۔