• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں محمود عباس

Updated: October 02, 2026, 4:17 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین محمود عباس کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت اور خطاب کی دعوت دی گئی تھی مگر امریکہ نے راستہ روک دیا اور ویزا نہ جاری کرکے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ امن و انصاف کے ساتھ نہیں جارحیت اور نسل پرستی کے ساتھ ہے اور اسے امن نہیں، اسرائیل جیسا غارت گر ِامن عزیز ہے۔

Mahmoud Abbas. Picture: INN
محمود عباس۔ تصویر: آئی این این

فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین محمود عباس کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت اور خطاب کی دعوت دی گئی تھی مگر امریکہ نے راستہ روک دیا اور ویزا نہ جاری کرکے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ امن و انصاف کے ساتھ نہیں جارحیت اور نسل پرستی کے ساتھ ہے اور اسے امن نہیں، اسرائیل جیسا غارت گر ِامن عزیز ہے۔ اس کے خلاف محمود عباس نے بھلے ہی کچھ نہ کہا ہو مگر پچاس سال پہلے (۱۳؍ نومبر ۱۹۷۴ء) کو اِسی جنرل اسمبلی میں اُس وقت کے فلسطینی سربراہ یاسر عرفات نے، جو حق گوئی اور بے باکی میں کسی سے پیچھے نہیں تھے، یہ کہتے ہوئے امریکی حکمرانوں کے خلاف امریکی عوام کو غیرت دلائی تھی اور سمجھایا تھا کہ:’’میں امریکی عوام سے پوچھتا ہوں کہ کیا اس عظیم ہال کے باہر ہونے والے دشمنی اور عداوت کے مظاہرے امریکی عوام کے حقیقی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں؟ میں آپ سے صاف صاف پوچھتا ہوں کہ ہمارے لوگوں نے امریکی عوام کے خلاف کیا جرم کیا ہے؟ آپ ہم سے اس قدر مخاصمت کیوں برتتے ہیں؟ کیا اس طرح کی بلا جواز جارحیت واقعی آپ کا مفاد پورا کرتی ہے؟ کیا اس سے امریکی عوام کے مفاد کا تحفظ ہوتا ہے؟ امریکی عوام کو یاد رکھنا چاہئے کہ پوری عرب قوم کے ساتھ ان کی دوستی پائیدار اور انتہائی سودمند ہوسکتی ہے (بشرطیکہ ان کے حکمراں دوہرا معیار ترک کرکے اپنی منصبی ذمہ داریوں کو سمجھیں)‘‘۔ اس انتباہ کے باوجود نہ تو تب کے امریکی حکمرانوں نے ہوش کے ناخن لئے تھے نہ ہی موجودہ قیادت اسرائیل نوازی کے ماسوا کچھ سوچتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نظام ِ تعلیم میں خرابی کی اصل وجہ

اب سے ٹھیک ایک سال پہلے اپنے اووَل آفس میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ، اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق سے روکیں گے مگر کیا وہ اس یقین دہانی پر قائم رہے؟ اسرائیل غزہ کے ساتھ ساتھ اب مغربی کنارے کو بھی اپنے ناپاک عزائم کا شکار بنانے کیلئے کمربستہ ہے اور ٹرمپ کسی اور جانب دیکھ رہے ہیں۔ محمود عباس کو یہ دوغلا امریکی رویہ اجاگر کرنا چاہئے تھا۔ امریکہ کو اس کے وعدے یاد دلانے چاہئے تھے۔ مگر وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکے کہ بورڈ آف پیس کی رفتار سست ہے، دو قومی نظریہ ناکام ہو رہا ہے اور اگر اس نظریہ کو رو بہ عمل لانا ہے تو مملکت فلسطین کو زمین بھی درکار ہے اور عوام بھی جن کے خلاف کوئی دن نہیں جاتا جب اسرائیلی کارروائیاں جاری نہ رہتی ہوں۔ غزہ کو جس طرح تباہ کیا گیا اُس کے سامنے محمود عباس کی مزاحمت پست، نحیف اور کمزور ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اُنہوں نے یا تو غزہ کی تباہی اور شہادتوں کو بھرپور طریقہ سے محسوس نہیں کیا یا مصلحت کی چادر اوڑھ لی۔ معاملہ اب زمین پر قبضے کا نہیں ہے، معاملہ نسلی تطہیر (جینوسائڈ) کا ہے۔ کل تک مغربی کنارہ نسبتاً محفوظ تھا، آج نہیں ہے۔ کل تک سفارتی ذرائع پر تکیہ کیا جاسکتا تھا، آج سفارتی کوششیں بے سود ثابت ہورہی ہیں۔ ایسے میں محمود عباس کو اور اُن کے رفقائے کار کو اپنی جدوجہد کو نئی جہت عطا کرنی ہوگی، کسی نئی حکمت عملی پر غور کرنا ہوگا۔ ان کے مقابلے میں ہمیں وہ فنکار اور اسپورٹس پرسن زیادہ جری نظر آتے ہیں جو اپنے کریئر کو داؤ پر لگا کرمقابلہ گاہوں سے جینوسائڈ کے خلاف بول رہے ہیں۔ ان میں ہمت ہے، آپ میں نہیں، یہ عجب ہے! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK