• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ان کہی کہانیوں کو سامنے لانا بھی ضروری ہے: کونکنا سین شرما

Updated: February 26, 2026, 2:57 PM IST | Mumbai

کونکنا کا ماننا ہے کہ ایسی کہانیاں اس لیے سنانا ضروری ہیں کیونکہ معاشرے کو ہر پہلو دیکھنا چاہیے۔ یہ فلم نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ ناظرین کے سوچنے کے انداز کو بھی چیلنج کرتی ہے۔

Konkana Sen Sharma.Photo:INN
کونکنا سین شرما۔ تصویر:آئی این این

 اداکارہ کونکنا سین شرما اپنی آنے والی فلم’’ایکوزڈ‘‘ کے حوالے سے پُرجوش ہیں۔ تشہیر  کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کہی اور کم سنی جانے والی کہانیوں کو سامنے لانا بے حد ضروری ہے۔
 ’’ایکوزڈ‘‘ کام کی جگہ پر خواتین کے درمیان طاقت کے توازن (پاور ڈائنامکس)، جنسی ہراسانی کے الزامات اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو گہرائی سے اجاگر کرتی ہے۔ کونکنا کا ماننا ہے کہ ایسی کہانیاں اس لیے سنانا ضروری ہیں کیونکہ معاشرے کو ہر پہلو دیکھنا چاہیے۔ یہ فلم نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ ناظرین کے سوچنے کے انداز کو بھی چیلنج کرتی ہے۔
یہ فلم ۲۷؍فروری کونیٹ فلکس  پر ریلیز ہونے والی ہے۔ ’’ایکوزڈ‘‘ ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جس پر کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا الزام لگتا ہے۔  ایک انٹرویو کے دوران کونکنا نے کہا کہ اس فلم کا اسکرپٹ عام تصورات کو مکمل طور پر پلٹ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہم زیادہ تر وقت خواتین کو متاثرہ یا سروائیور کے طور پر دیکھتے ہیں، بطور ملزم بہت کم۔ اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر جرائم مرد کرتے ہیں، یہ درست ہے، لیکن خواتین بھی ایسا کر سکتی ہیں اور ایسا ہوتا بھی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:رشمیکا مندانا اور وجے دیورا کونڈا شادی کے بندھن میں بندھ گئے

کونکنا نے مزید کہا کہ اس فلم کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ ان کہی کہانیوں پر روشنی ڈالتی ہے جنہیں ہم عموماً نظرانداز کر دیتے ہیں۔ فلم میں کام کی جگہ پر خواتین کے درمیان طاقت کا توازن، دو خواتین کے رشتے میں اختیار کی کشمکش اور عمر کا بڑا فرق دکھایا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو سکے کا دوسرا رخ پیش کرتی ہے۔ یہاں ملزم بھی خاتون ہے اور متاثرہ بھی خاتون۔ دونوں کے درمیان عمر کا فرق، ملازمت کی نوعیت اور رشتے کی پیچیدگی وہ عناصر ہیں جو ناظرین کے سامنے ہمارے تعصبات کو آشکار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:مودی کا اسرائیل دورہ: کنیسٹ خطاب، دفاعی معاہدے اور خصوصی اعزاز

اداکارہ نے کہا کہ جب کسی خاتون پر استحصال کا الزام لگتا ہے تو معاشرے کے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب ملزم کی حیثیت مضبوط ہو اور رشتے میں عدم مساوات موجود ہو۔ کونکنا نے کہا کہ ’’ یہ فلم ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارا رویہ کیسے کام کرتا ہے۔ یہ کہانی سیاہ یا سفید نہیں بلکہ ایک گرے زون کی ہے۔ کوئی بھی کردار مکمل طور پر پسندیدہ نہیں اور یہی بات اسے حقیقت کے قریب بناتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK