Updated: October 10, 2026, 3:55 PM IST
| New Delhi
’’ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں‘‘: دہلی پولیس کی حراست میں لیے جانے کے بعد اروند کیجریوال
دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے دن کے اوائل میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے موجودہ صورتِ حال کو ’’ایمرجنسی سے بھی بدتر‘‘ قرار دیا۔ سی جے پی کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے وسطی دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور تنظیم کی اعلیٰ قیادت کو حراست میں لیا گیا ہے۔
جمعہ کے روز کیجریوال نے کہا تھا کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ احتجاج میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے نوجوانوں سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرے میں شامل ہوں۔
اس کے علاوہ، آج صبح سی جے پی رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کے بعد کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پرواز کے دوران ’’کاکروچوں‘‘ کو گرفتار کرکے یہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ ’’خوف زدہ‘‘ ہیں۔
’’اگر دہلی پولیس آپ کو روکنے کی کوشش کرے تو جہاں روکے گی، وہی آپ کا جنتر منتر بن جائے گا‘‘: سی جے پی کے نئے رہنما اجنکیا کی پہلی اپیل
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے، اور دیگر لیڈران سورو داس اور اشوتوش رانکا کے حراست میں لئے جانے کے بعد نئے لیڈر اجنکیا شندے نے مظاہرین سے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کہا ہے کہ پولیس جہاں روکے وہیں پروٹیسٹ جاری کریں۔ ویڈیو میں انہوں نے لکھا، ’’ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ جنتر منتر کی جانب مارچ کریں!
اگر دہلی پولیس آپ کو روکنے کی کوشش کرے تو وہ جہاں بھی آپ کو روکے گی، وہی جگہ آپ کا جنتر منتر بن جائے گی۔‘‘
چیف جسٹس آف انڈیا کی مداخلت کے بعد حراست میں لئے گئے وکلاء رہا
سی جے پی کے احتجاج میں شرکت پر حراست میں لئے جانے والے کئی وکلاء کو دہلی پویس کی جانب سے وحراست میں لئے جانے کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کی مداخلت کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔وکلاء کے درمیان گردش کرنے والے پیغامات میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تقریباً ۱۰۰؍ وکلاء کو سپریم کورٹ کے باہر سے حراست میں لے کر یمنا اسپورٹس کمپلیکس منتقل کیا گیا تھا۔ آج ہی کے روز ایسوسی ایشن نے ایک قرار داد پاس کر کے اس معاملے میں چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت سے فوری مداخلت کی اپیل کی تھی۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن نے بھی چیف جسٹس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسی طرح کی ایک قرارداد پاس کی تھی۔ حالانکہ سی جے آئی اورسالیسیٹر جنرل کی مداخلت کے بعد وکلاء کو رہا کر دیا ہے۔
بی جے پی نے راہل گاندھی کو ’نالائق لیڈر‘ کہا، صدرِ جمہوریہ کو سڑکوں پر ہونے والے احتجاج میں گھسیٹنے کا الزام
بی جے پی کے رہنما سمبت پاترا نے کہا، ’’کل چند سیاست دان راشٹرپتی بھون گئے تھے۔ راشٹرپتی بھون سے باہر آنے کے بعد راہل گاندھی کا بیان ایک ’نالائق لیڈر‘ جیسا تھا۔ اس سے پہلے کبھی صدرِ جمہوریہ کو سڑکوں پر ہونے والے احتجاج میں گھسیٹنے کی کوشش نہیں کی گئی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لیکن ایک نالائق لیڈر نے ایسا کرنے کی کوشش کی۔ انتشار پسند راہل گاندھی نے ہندوستان کے صدر کو بھی اس انتشار کی جانب کھینچنے کی کوشش کی، جسے وہ ہندوستان کی سڑکوں پر پھیلانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
ممتا بنرجی سمیت ۶؍ افراد دہلی پولیس کی حراست میں، رہائش گاہ کے باہر سی آر پی ایف تعینات
ایک پارٹی رکن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ممتا بنرجی سمیت ۶؍ افراد کو ان کی رہائش گاہ کے باہر سے دہلی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے حراست میں لے لیا ہے۔
گروپ نے بتایا کہ انہیں ایک قیدی وین میں نامعلوم مقام پر لے جایا جا رہا ہے۔ یہ کارروائی الیکشن کمیشن کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج سے قبل قومی راجدھانی میں سکیورٹی سخت کیے جانے کے درمیان ہوئی ہے۔
احتجاج کے دوران مظاہرین اور صحافیوں کی گرفتاریوں پر اپوزیشن کا ردِعمل: ’’یہ ایمرجنسی سے بھی بدتر ہے‘‘
ہفتے کے روز اپوزیشن لیڈران نے دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران سیکڑوں مظاہرین، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ایمرجنسی سے بھی بدتر ہے۔‘‘
عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے کہا، ’’ہم مودی کی حکمرانی میں ایک مکمل آمریت کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین، بشمول کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈِپکے، کو طیارے سے حراست میں لیا جانا حکومت کے ’’غیر معمولی خوف‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
کیجریوال نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر ’’جمہوریت کو کچل کر‘‘ انتخابی دھاندلی کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
نیہا بورا، دیپانکر بھٹاچاریہ، پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو آئی این اے مارکیٹ کے قریب حراست میں
عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی رہنما نیہا بورا، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، وکیل پرشانت بھوشن اور سماجی کارکن یوگیندر یادو سمیت کئی اہم شخصیات کو ہفتے کے روز دہلی کی آئی این اے مارکیٹ کے قریب حراست میں لے لیا گیا۔ یہ تمام افراد الیکشن کمیشن کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
یہ کارروائی مجوزہ مظاہرے سے قبل قومی راجدھانی میں سکیورٹی سخت کیے جانے اور مختلف پابندیاں عائد کیے جانے کے درمیان عمل میں آئی۔
سی جے پی احتجاج کا مقام تبدیل، دہلی پولیس کی کارروائیوں کے درمیان اب دلی ہاٹ میں مظاہرہ ہوگا
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی قومی صدر نیہا بورا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کا مقام تبدیل کرکے دلی ہاٹ کر دیا گیا ہے۔ بورا نے مقام کی تبدیلی کی وجہ واضح نہیں کی، تاہم اس فیصلے کا تعلق احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
’کیا آپ ایمرجنسی دیکھ سکتے ہیں؟‘ سیاست دانوں، صحافیوں اور وکلا کو حراست میں لیے جانے پر سی جے پی کا ردِعمل
اطلاعات کے مطابق احتجاج سے قبل دہلی میں بڑے پیمانے پر طلبہ، صحافیوں، وکلا اور سیاسی لیڈران کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی جے پی نے اپنے آفیشیل ایکس ہنڈل سے پوسٹ شیئر کی ہے جس میں لکھا ہے، ’’کیا آپ ایمرجنسی دیکھ سکتے ہیں، فرانڈز؟‘‘
سی جے پی کے مظاہرے سے قبل دہلی میں ایس ایف آئی کے ۴۰۰؍ سے زائد ارکان اور وکلا حراست میں
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے پیشِ نظر دہلی پولیس نے اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے ۴۰۰؍ سے زائد ارکان، دیگر طلبہ تنظیموں کے کارکنوں اور سپریم کورٹ سے جنتر منتر کی جانب مارچ کرنے والے وکلا کو حراست میں لے لیا۔
ایس ایف آئی کے قومی صدر آدرش ایم ساجی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب مظاہرین نے صبح تقریباً ۱۰؍ بجے مارچ شروع کیا۔
سی جے پی نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرِثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ میں مبینہ چھیڑ چھاڑ اور ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم ۶؍ میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی نے گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ پولیس نے سکیورٹی خدشات اور ضابطے کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
سی جے پی احتجاج: دہلی پہنچتے ہی دِپکے، داس اور رنکا طیارے سے اترتے ہی حراست میں
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے لیڈروں ابھیجیت دِپکے، سورَو داس اور آشوتوش رنکا کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچنے پر طیارے سے اترتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔ پارٹی نے ان تینوں لیڈروں کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے انہیں مجوزہ پُرامن مظاہرے کے مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کارروائی کی۔ سی جے پی نے اس اقدام کو نقل و حرکت کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تینوں لیڈروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج سے قبل یوٹیوبر دھرو راٹھی کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔
دھرو راٹھی کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع
لائیو میڈیا رپورٹس کے مطابق، یوٹیوبر دھرو راٹھی کو جنتر منتر احتجاج سے قبل گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سی جے پی اور اس سے وابستہ طلبہ تنظیمیں احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم، دھرو راٹھی کی حراست کی وجہ اور ان کے خلاف کسی قانونی کارروائی کی تفصیلات کی سرکاری تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔
دہلی میں ہزاروں اہلکار تعینات، پولیس کی سخت نگرانی
احتجاج کے پیشِ نظر دہلی میں بڑے پیمانے پر سیکوریٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق، پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں، جبکہ اہم مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس نے جنتر منتر اور اطراف کے علاقوں میں اجتماع کو روکنے کے لیے پابندیاں نافذ کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا ہے۔
ملک بھر میں ۱۰؍ ہزار افراد کی حراست کا دعویٰ
کاکروچ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج سے قبل ملک بھر میں طلبہ، کسانوں، دلت تنظیموں اور سیاسی گروپوں سے وابستہ کم از کم ۱۰؍ ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پارٹی کے مطابق، کئی ریاستوں میں کارکنوں کو دہلی جانے سے روکا گیا۔ دوسری جانب، دہلی میں کم از کم ایک ہزار افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع پولیس کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ ملک بھر میں ۱۰؍ ہزار افراد کی حراست کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
طلبہ کو ٹرینوں سے اتارنے کا الزام
احتجاج میں شرکت کے لیے پونے سے دہلی روانہ ہونے والے کم از کم ۱۴؍ طلبہ کو مدھیہ پردیش کے اٹارسی ریلوے اسٹیشن پر حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔ یہ طلبہ مختلف طلبہ تنظیموں سے وابستہ تھے۔ رپورٹ کے مطابق، انہیں گووا ایکسپریس سے اتارا گیا اور بعد میں ایک مقام پر لے جایا گیا۔ اس معاملے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے حکام کو طلبہ کو ۱۳؍ اکتوبر تک پیش کرنے اور ان کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کیا
دہلی پولیس نے جنتر منتر پر ۱۰؍ اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، اجازت کی درخواست مقررہ وقت سے بہت کم پہلے دی گئی تھی اور گزشتہ احتجاج کے دوران قواعد کی خلاف ورزیوں کے خدشات بھی موجود تھے۔ پولیس نے نئی دہلی ضلع میں امتناعی احکامات نافذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی سلامتی، امن و امان اور ٹریفک کے انتظام کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
میٹرو، ٹرینوں اور انٹرنیٹ خدمات پر پابندیاں
احتجاج کے باعث دارالحکومت میں آمدورفت پر بھی اثر پڑا ہے۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق، کئی میٹرو اسٹیشنوں پر داخلے اور اخراج پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ طویل فاصلے کی بعض ٹرینیں منسوخ یا ان کے اوقات میں تبدیلی کی گئی ہے۔ جنپتھ اور کرتویہ پتھ کے چوراہے کے اطراف چار کلومیٹر کے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔ مسافروں کو سفر سے قبل تازہ ترین ٹریفک اور ٹرانسپورٹ معلومات حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیوں؟
سی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیمیں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ اس عمل سے حقیقی ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہونے اور ان کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس عمل سے متعلق سوالات اور تجاویز کو معمول کی انتظامی کارروائی کا حصہ قرار دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کی حمایت
سی جے پی کے احتجاج کو بائیں بازو کی جماعتوں اور عام آدمی پارٹی سمیت بعض اپوزیشن گروپوں کی حمایت حاصل ہے۔ مظاہرین اسے انتخابی شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، پولیس کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے اور بڑے پیمانے پر سیکوریٹی انتظامات کے باعث احتجاج کے انعقاد اور شرکا کی نقل و حرکت پر غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔