Updated: January 16, 2026, 9:03 PM IST
| Mumbai
معروف شاعر و فلمی دانشور جاوید اختر نے کہا ہے کہ سیکولرازم کوئی درسی مضمون نہیں بلکہ ایسا طرزِ فکر ہے جو گھروں، تربیت اور معاشرتی رویّوں سے جنم لیتا ہے۔ ان کے مطابق اگر سیکولرازم کو صرف تقریروں تک محدود رکھا جائے تو وہ محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔
جاوید اختر۔ تصویر: آئی این این
معروف شاعر، نغمہ نگار اور دانشور جاوید اختر نے کہا ہے کہ سیکولرازم کو کسی ایک دن کے لیکچر یا چند نکاتی اسباق کے ذریعے نہیں سکھایا جا سکتا، بلکہ یہ ایک ایسا شعور ہے جو انسان کی پوری زندگی، اس کی پرورش اور روزمرہ کے رویّوں میں رچا بسا ہونا چاہیے۔ جاوید اختر نے یہ خیالات جے پور لٹریچر فیسٹیول میں ایک مکالماتی نشست کے دوران ظاہر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کو ایک دن بٹھا کر یہ سمجھا دیا جائے کہ سیکولرازم کیا ہے اور کیا نہیں، تو اس سے کوئی پائیدار تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ ایسے تصورات محض وقتی ہوتے ہیں اور جلد ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی سیکولرازم وہ ہوتا ہے جو انسان اپنے گھر کے ماحول میں دیکھتا ہے، اپنے بڑوں کے طرزِ عمل سے سیکھتا ہے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں اپناتا ہے۔ اگر بچپن سے ہی انسان یہ دیکھے کہ مختلف عقائد، مذاہب اور خیالات کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ عزت اور برداشت سے پیش آتے ہیں، تو یہی چیز اس کے اندر سیکولرازم کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سدھارتھ ملہوترا باتوں سے زیادہ کام میں یقین رکھتے ہیں
جاوید اختر نے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ ایسے گھرانے میں پلے بڑھے جہاں مذہب کو زبردستی مسلط نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ان کے نانا نے ایک بار مذہبی اشعار یاد کرنے پر انعام دینے کی بات کی، مگر ان کی نانی نے فوراً اس کی مخالفت کی اور کہا کہ عقیدہ کسی پر تھوپا نہیں جا سکتا۔ جاوید اختر کے مطابق یہی رویّہ اصل سیکولرازم کی روح ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج کے دور میں سیکولرازم کو صرف ایک سیاسی یا نظریاتی اصطلاح بنا دیا گیا ہے، جب کہ اس کی اصل طاقت انسان کے روزمرہ کردار میں ہوتی ہے۔ ان کے بقول، اگر کوئی شخص اپنی عملی زندگی میں عدم برداشت کا مظاہرہ کرے اور پھر سیکولرازم پر لمبے لیکچر دے، تو ایسے خیالات کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔
یہ بھی پڑھئے: موہن لال نے ٹیزر کے ذریعہ اپنی فلم ’’دِرِشیم۳ ‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان کیا
اس گفتگو کے دوران جاوید اختر نے فلمی دنیا کے اپنے ابتدائی دنوں کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ کس طرح وقت کے ساتھ سماجی رویّے اور پیشہ ورانہ تعلقات تبدیل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کی اصل ترقی نعروں سے نہیں بلکہ رویّوں میں تبدیلی سے آتی ہے۔ جاوید اختر کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ہندوستانی سماج میں مذہبی ہم آہنگی اور برداشت پر مسلسل بحث جاری ہے، اور ان کا بیان ایک فکری یاد دہانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔