ہدایت کار رمن کمار ایک خوبصورت محبت کی کہانی کو پردۂ سیمیں پر پیش کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے فلم میں اُس دور کے باصلاحیت اداکاروں کو کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
EPAPER
Updated: July 10, 2026, 1:03 PM IST | Agency | Mumbai
ہدایت کار رمن کمار ایک خوبصورت محبت کی کہانی کو پردۂ سیمیں پر پیش کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے فلم میں اُس دور کے باصلاحیت اداکاروں کو کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہدایت کار رمن کمار ایک خوبصورت محبت کی کہانی کو پردۂ سیمیں پر پیش کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے فلم میں اُس دور کے باصلاحیت اداکاروں کو کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ کسی بھی رومانوی فلم کی کامیابی میں موسیقی اور گیتوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی خواہش تھی کہ فلم کے لیے معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر گیت تحریر کریں۔ لیکن محدود بجٹ کے باعث ایک طرف فلم کی تیاری اور دوسری طرف اتنے بڑے شاعر کی خدمات حاصل کرنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:جیمز بانڈ بننا خواب ہوگا: لوئی پارٹریج نے بانڈ افواہوں کو مسترد کردیا
درحقیقت، فلم ’سلسلہ‘ میں چوتھے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرنے والے رمن کمار نے ۱۹۸۲ءمیں اپنی پہلی فلم ’ساتھ ساتھ‘بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس فلم میں انہوں نے دیپتی نول اور فاروق شیخ جیسے عمدہ فنکاروں کو مرکزی کرداروں کے لیے منتخب کیا۔ اگرچہ فلم کا بجٹ بہت محدود تھا، لیکن رمن کمار چاہتے تھے کہ اس کی موسیقی کسی بھی بڑے بجٹ کی فلم سے کم نہ ہو۔ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ جاوید اختر فلم کے لیے کم از کم ایک گیت ضرور لکھیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ جاوید اختر سے درخواست کی۔ ہر بار جاوید اختر رضامندی کا اظہار تو کرتے، لیکن اپنی مصروفیات کی وجہ سے گیت لکھنے کا وقت نہیں نکال پا رہے تھے۔آخرکار ایک رات رمن کمار ایک بار پھر جاوید اختر کو راضی کرنے ان کے گھر پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھئے:سونم وانگ چک کا۲۰؍ جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا اعلان
رمن کمار کو کسی کام کے سلسلے میں ٹرین بھی پکڑنی تھی، مگر اس سے پہلے وہ ہر صورت جاوید اختر سے گیت لکھوانا چاہتے تھے۔رمن کمار کے مسلسل اصرار پر جاوید اختر نےقلم اور کاغذ اٹھایا اور محض ۹؍منٹ کے اندر ایک مکمل گیت لکھ کر ان کے حوالے کر دیا۔ اس وقت نہ رمن کمار کو اندازہ تھا اور نہ ہی جاوید اختر کو کہ کم بجٹ کی اس فلم کا یہ نغمہ آنے والے برسوں میں ہندی فلمی موسیقی کے تاریخ ساز گیتوں میں شمار ہوگا۔یہی وہ لازوال غزل تھی جس کے بول تھے’تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا‘۔ جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی دلکش آوازوں میں ریکارڈ ہونے والی اس غزل نے ریلیز ہوتے ہی غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی۔ یہ گیت ہر خاص و عام کی زبان پر چڑھ گیا اور فلم کی شناخت بھی اسی نغمے سے قائم ہوئی۔