• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جانی ڈیپ مجسمہ سازی کی دنیا میں داخل، ’دی بنی مین‘ کا تعلق بچپن کے خواب سے

Updated: September 20, 2026, 8:07 PM IST | İstanbul

۲؍ میٹر بلند سفید کانسی کا مجسمہ ۲۲؍ ستمبر سے استنبول میں نمائش کیلئے پیش ہوگا، اداکار کے بیٹے جیک کی ۵؍ برس کی عمر کی بنائی تصویر نے برسوں پرانے خواب کی یاد تازہ کردی۔

Johnny Depp and the sculpture he created. Photo: X
جانی ڈیپ اور ان کا بنایا ہوا مجسمہ۔ تصویر: ایکس

ہالی ووڈ اداکار جانی ڈیپ نے اداکاری کے ساتھ بصری فنون میں اپنی سرگرمیوں کو ایک نئے مرحلے تک پہنچاتے ہوئے مجسمہ سازی کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ ان کا پہلا مجسمہ ’دی بنی مین‘۲۲؍ سے ۲۷؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک ہونے والے کنٹیمپرری استنبول آرٹ میلے میں پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ تقریباً ۲؍ میٹر بلند سفید کانسی کا یہ مجسمہ استنبول کے تاریخی ترسانے استنبول میں کھلے مقام پر رکھا جائے گا۔ ’دی بنی مین‘ کوئی نیا تخیل نہیں بلکہ ڈیپ کے فن پاروں میں برسوں سے بار بار نمودار ہونے والا کردار ہے۔ اسے آدھا انسان، آدھا خرگوش دکھایا گیا ہے اور وہ ایک محافظ کی شکل میں ہاتھ میں ’’سچ کی تلوار‘‘ تھامے نظر آتا ہے۔ یہ کردار ڈیپ کی ڈرائنگز، پینٹنگز اور پرنٹس میں پہلے بھی دکھائی دے چکا ہے، لیکن اب پہلی بار اسے سہ جہتی مجسمے کی شکل دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’گول مال ۵‘ کی ریلیز تاریخ کا اعلان، ۸؍ جنوری ۲۷ء کو لوٹے گا اجے دیوگن کا گینگ

اس مجسمے کی کہانی کا تعلق ڈیپ کے بیٹے جیک سے ہے۔ جیک نے تقریباً ۵؍ برس کی عمر میں ایک کردار کی تصویر بنائی تھی۔ ڈیپ کے مطابق بیٹے کی اس تصویر نے انہیں اپنے بچپن میں بار بار آنے والے ایک خواب کی یاد دلا دی۔ اس خواب میں وہ اپنے کینٹکی کے بچپن کے گھر کے تہہ خانے کی سیڑھیوں کے اوپر ایک بے چہرہ شخصیت کو کھڑا دیکھا کرتے تھے۔ ڈیپ نے اس کردار کی تخلیق کی وجہ بتاتے ہوئے کہا، ’’جب لوگ میری بنائی ہوئی ’دی بنی مین‘ پینٹنگ دیکھتے ہیں تو ہمیشہ یہی پوچھتے ہیں کہ یہ کہاں سے آیا؟ جیک نے ایک کردار بنایا تھا، اس کی خوبصورت سی لکیروں اور اس شکل نے مجھے بچپن کے ایک ایسے خواب کی یاد دلائی جو بار بار آیا کرتا تھا، غالباً اس وقت جب میری عمر بھی جیک جتنی، یعنی ۵؍ یا ۶؍ برس تھی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’میں ایسے کردار نبھانا چاہتی ہوں جن میں کچھ نیا کرنے کا موقع ملے ‘‘

ڈیپ کے مطابق اس خواب میں دکھائی دینے والی شخصیت عام انسان جیسی نہیں تھی۔ اس نے اپنے فن پاروں میں اس کردار کو ایک ایسے محافظ کے طور پر پیش کیا ہے جو خوف اور اندھیرے کے مقابل کھڑا ہے۔ ’دی بنی مین‘ کے ابتدائی تصور میں ڈیپ نے اس شخصیت کے جسم کو مختلف رنگوں کے ریت کے ذرات سے بنی جھلی جیسی ساخت کے طور پر بھی بیان کیا تھا۔ مجسمے کی تیاری سِگ آرٹ فاؤنڈیشن، پینتھیون آرٹ اور میلان کی فونڈیریا آرٹسٹیکا بٹّالیہ کے اشتراک سے ہوئی ہے۔ اسے روایتی کھوئی ہوئی موم کی تکنیک کے ذریعے سفید کانسی میں ڈھالا گیا۔ اس عمل میں استعمال ہونے والی ریت بھی ڈیپ کے بچپن کے اس خواب سے علامتی تعلق رکھتی ہے، جس میں وہ اپنے جسم کے اندر ریت کے ذرات کو حرکت کرتے دیکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: پریم نذیرنے شاہ رخ، امیتابھ اور رجنی کانت کے مجموعے سے بھی زیادہ ہٹ فلمیں دیں

استنبول میں اس مجسمے کی نمائش ایسے وقت ہورہی ہے جب ڈیپ کے بصری فنون کو مختلف ملکوں میں نمایاں کیا جارہا ہے۔ چین کے شنگھائی میوزیم آف ماڈرن آرٹ میں ان کی نمائش ’اے بنچ آف اسٹف‘ جاری ہے، جس میں ۲۰۰؍ سے زائد فن پارے شامل ہیں۔ ’دی بنی مین‘ بھی اس نمائش کا حصہ ہے، جس سے استنبول اور شنگھائی میں ان کے فن کی موجودہ پیش کش ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہے۔ ڈیپ کی فنکارانہ سرگرمی صرف حالیہ برسوں تک محدود نہیں۔ ۲۰۲۲ء میں ان کے پینٹنگ کلیکشن نے ریلیز کے ۲۴؍ گھنٹے سے بھی کم وقت میں فروخت ہوکر ان کے بصری فن کے لیے موجود طلب کا اندازہ پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا رہا ہے کہ وہ فن کو اپنے جذبات اور ان لوگوں کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں جو ان کی زندگی میں اہم ہیں۔ اب ۲۲؍  ستمبر سے استنبول میں پیش کیا جانے والا ’دی بنی مین‘ ڈیپ کے اسی ذاتی تخیل کو ایک بڑے سہ جہتی فن پارے میں تبدیل کرے گا، ایک ایسا کردار جو پہلے ان کے بچپن کے خواب میں موجود تھا، پھر بیٹے کی بنائی تصویر کے ذریعے دوبارہ سامنے آیا اور بالآخر ان کی پینٹنگز سے نکل کر تقریباً ۲؍ میٹر بلند کانسی کے مجسمے کی شکل اختیار کرگیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK