• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں ایسے کردار نبھانا چاہتی ہوں جن میں کچھ نیا کرنے کا موقع ملے ‘‘

Updated: September 20, 2026, 11:40 AM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی اور فلم اداکارہ شِکھا پانڈے کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے اندر کسی کام کو کرنے کا جذبہ ہے تو اس کیلئے کوشش کریں، راستہ آسان نہیں ہوگا، رکاوٹیں بھی آئیں گی لیکن کامیابی ضرور ملے گی۔

TV and film actress Shikha Pandey. Photo: INN.
ٹی وی اور فلم اداکارہ شِکھا پانڈے۔ تصویر: آئی این این

اداکارہ شکھا پانڈے ٹیلی ویژن اداکارہ ہیں، جنہوں نے کئی معروف ٹی وی شوز میں کام کیاہے۔  شکھا کی پیدائش الہ آباد میں ہوئی ہے اور انہوں نے انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی ہے۔ انہوں نے دہلی میں تھیٹر آرٹسٹ کے طور پر اپنے فنی سفر کا آغاز کیا، جس کے بعد ٹیلی ویژن انڈسٹری کا رخ کیا۔ شِکھا کو خاص طور پر اسٹار پلس کے مقبول ڈرامے ’گم ہے کِسی کے پیار میں ‘ میں مرنمی کے کردار سے شناخت ملی۔ ۲۰۲۶ءمیں بھی ان کا ٹی وی سفر جاری رہا۔ وہ ’منّت: ہر خوشی پانے کی‘ میں مانیتا راج ونشی کے کردار میں نظر آئیں۔ اس کے علاوہ وہ ’اوئے چِل مار‘ نامی فلم میں بھی نظر آنے والی ہیں۔ نمائندہ انقلاب نے شکھاسے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
سب سے پہلے یہ بتائیے کہ شوبز انڈسٹری میں آنے کا فیصلہ آپ نے کس طرح کیا؟ اس کے پیچھے کیا کہانی تھی؟
ج:کہانی تو بہت لمبی ہے، لیکن میں اسے مختصر انداز میں بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں ایک بہت چھوٹے شہر سے ہوں۔ بچپن میں جب فلموں کے بڑے بڑے اسٹارز کو پردے پر دیکھتی تھی تو میرے ذہن میں یہ خیال آتا تھا کہ شاید ہم بھی ایک دن یہ سب کرسکتے ہیں۔ مجھے ڈانس کا بھی شوق تھا اور کالج کے زمانے میں میں تھیٹر بھی کیا کرتی تھی۔ اسی دوران ایک ویک اینڈ پر میرے شہر میں ایک فلم کی شوٹنگ ہورہی تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے مجھ سے بات کی اور پوچھا کہ کیا میں اداکاری میں دلچسپی رکھتی ہوں۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ کوشش کی جائے۔ میں نے اس فلم کیلئے آڈیشن دیا اور خوش قسمتی سے میرا انتخاب ہوگیا۔ وہ فلم ابھی ریلیز نہیں ہوئی ہے، اسلئے فی الحال میں اس کا نام یا پروڈکشن ہاؤس ظاہر نہیں کرسکتی، لیکن اس فلم میں کام کرنا میرے لیے بہت اچھا تجربہ تھا۔ میں نے وہاں تقریباً ۱۵؍ دن تک شوٹنگ کی اور پہلی مرتبہ اتنے قریب سے فلم بنانے کے عمل کو دیکھا۔ وہ تجربہ میرے لیے بہت اہم ثابت ہو اکیونکہ وہیں سے مجھے محسوس ہوا کہ شاید مجھے یہی کام کرنا ہے۔ 
کیا اس فلم میں کام کرنے کے بعد ہی آپ نے فیصلہ کیا کہ اداکاری کو ہی اپنا کریئر بنانا ہے؟
ج:جی ہاں، بالکل۔ آپ جانتے ہیں ایک ’کیڑا‘ ہوتا ہے۔ جب کسی کو اداکاری کا کیڑا لگ جائے تو پھر اسے یہ کام چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی بالکل یہی ہوا۔ جب میں نے پہلی مرتبہ فلم کے سیٹ پر کام کیا تو مجھے اداکاری کا ایسا شوق پیدا ہوگیا کہ میں نے سوچ لیا کہ اب مجھے یہی کرنا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنی کارپوریٹ ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور ممبئی آنے کی تیاری شروع کردی۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ کارپوریٹ ملازمت ایک محفوظ راستہ تھا، لیکن اندر سے مجھے لگ رہا تھا کہ اگر میں نے ابھی اپنے خواب کیلئے قدم نہیں اٹھایا تو شاید بعد میں افسوس ہوگا۔ اس لیے میں نے جوکھم لیا اور ممبئی آگئی۔

یہ بھی پڑھئے: پریم نذیرنے شاہ رخ، امیتابھ اور رجنی کانت کے مجموعے سے بھی زیادہ ہٹ فلمیں دیں

آپ ممبئی کب آئیں اور آنے کے بعد آپ کی جدوجہد کیسی رہی؟
ج:میں جنوری ۲۰۲۳ء میں ممبئی آئی تھی۔ یہاں آنے کے بعد اصل جدوجہد شروع ہوئی۔ میں تقریباً ہر جگہ آڈیشن دینے جاتی تھی۔ پروڈکشن ہاؤسیز کے چکر لگاتی، آڈیشن دیتی اور کئی مرتبہ لائن میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتی تھی۔ کبھی کسی جگہ آڈیشن اچھا جاتا تھا، کبھی نہیں۔ کئی مرتبہ مجھے یہ سننے کو ملا کہ ’’آپ اس کردار کیلئے فٹ نہیں ہیں۔ ‘‘ بہت سے لوگوں نے مجھے ’نوٹ فٹ‘ کہا۔ یہ سننا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب آپ اپنا گھر، اپنی نوکری اور ایک محفوظ زندگی چھوڑ کر کسی خواب کے پیچھے ممبئی آئے ہوں۔ میں نے بہت سی چیزوں کا مقابلہ کیا۔ کبھی آڈیشن کے بعد کوئی جواب نہیں آتا تھا، کبھی امید بندھ جاتی تھی اور پھر پروجیکٹ نہیں ملتا تھا۔ میں ہمیشہ یہ سوچتی تھی کہ اگر میں پوری ایمانداری اور شدت کے ساتھ کام کرتی رہوں گی تو ایک دن مجھے موقع ضرور ملے گا۔ 
آپ کو اپنا پہلا بڑا ٹی وی پروجیکٹ کب ملا؟
ج:میری محنت کا نتیجہ اس وقت سامنے آیا جب مجھے سونی ٹی وی کے شو ’مہندی والا گھر‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے بہت اہم موقع تھاکیونکہ یہ میرا پہلا بڑا ٹی وی شو تھا۔ جب مجھے اس شو کیلئے منتخب کیا گیا تو میرے لیے یہ بہت خوشی کا لمحہ تھا۔ میں نے سوچا کہ جس کام کیلئے میں ممبئی آئی تھی، اب اس راستے پر واقعی آگے بڑھ رہی ہوں۔ ’مہندی والا گھر‘ سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ٹی وی پر کام کرنے کا اپنا ایک الگ انداز ہے۔ یہاں باقاعدگی، رفتار اور مسلسل کام کرنے کی عادت بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس شو کے دوران مجھے کیمرے کے سامنے خود کو مزید بہتر بنانے کا موقع ملا۔ 
پہلے شو کے تجربے نے آپ کی شخصیت اور اداکاری میں کیا تبدیلی پیدا کی؟
ج:پہلے شو نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ مجھے خود پر اعتماد بڑھانے کا موقع ملا۔ جب آپ پہلی مرتبہ کسی بڑے پروجیکٹ کا حصہ بنتے ہیں تو بہت سی چیزیں نئی ہوتی ہیں۔ آپ کو کیمرہ، سیٹ، ڈائریکٹر، پوری ٹیم اور کام کی رفتار کے ساتھ خود کوہم آہنگ کرنا پڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ مجھے سمجھ میں آنے لگا کہ کس طرح اپنے کردار میں جان ڈالنی ہے اور کس طرح منظر کو محسوس کرکے ادا کرنا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہر پروجیکٹ اداکار کو کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے اور’مہندی والا گھر‘ میرے لیے بھی ایسا ہی تجربہ تھا۔ 
کیا ممبئی آنے سے پہلے ہی آپ نے فلم میں کام کرلیا تھا؟
ج:جی ہاں۔ جب میں ممبئی آئی تھی، اس وقت تک میں وہ فلم کرچکی تھی جس کیلئے مجھے اپنے شہر میں آڈیشن کے ذریعے منتخب کیا گیا تھا۔ اس فلم کی شوٹنگ میرے لیے ایک بہت خاص تجربہ تھی، لیکن چونکہ وہ ابھی ریلیز نہیں ہوئی ہے، اسلئے میں اس کے بارے میں زیادہ تفصیل نہیں بتانا چاہتی، لیکن میرے لیے اس فلم کا تجربہ بہت اہم تھا، کیونکہ اسی نے مجھے یہ یقین دیا کہ میں اداکاری کرسکتی ہوں اور مجھے اسی شعبے میں آگے بڑھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: اتل کلکرنی کا کردار چھوٹا ہو یا بڑا، اداکاری ہمیشہ بڑی ہوتی ہے

آپ کے سفر سے نوجوان اداکاروں کو کیا پیغام ملتا ہے؟
ج:میں صرف اتنا کہوں گی کہ اگر آپ کے اندر کسی کام کو کرنے کا جذبہ ہے تو کوشش ضرور کریں۔ راستہ آسان نہیں ہوگا، بہت سی رکاوٹیں آئیں گی، لوگ آپ کو مسترد بھی کریں گے اور کبھی آپ کو لگے گا کہ شاید آپ سے نہیں ہوپائے گا، لیکن آپ کو خودپر یقین رکھنا ہوگا، کامیابی ضرور ملے گی۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ مجھے کئی مرتبہ’ناٹ فٹ‘ سننا پڑا، لیکن میں نے یہ نہیں سوچا کہ اب مجھے واپس چلے جانا چاہیے۔ میں نے خود سے کہا کہ اگر ایک دروازہ بند ہوا ہے تو دوسرے دروازے کی تلاش کروں۔ میں آج بھی سیکھ رہی ہوں اور آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہوں۔ میرے لیے اہم بات یہ ہے کہ میں مثبت رہوں، اچھے کام پر توجہ دوں اور اپنے خواب کو کبھی نہ چھوڑوں۔ 
اب جبکہ آپ نے شو بز انڈسٹری کاانتخاب کرلیا ہے تو آنے والے وقت میں آپ خود کو کس طرح کے کرداروں میں دیکھنا چاہتی ہیں ؟
ج: میں ایسے کردار کرنا چاہتی ہوں جن میں کچھ نیا کرنے کا موقع ملے، ہر نیا کردار پچھلے کردار سے مختلف ہو اور بطور اداکارہ مجھے چیلنج کرے۔ میرا سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے، لیکن ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔ میں صرف اچھے مواقع اور اچھے کرداروں پر توجہ دینا چاہتی ہوں اور سب سے بڑھ کر، میں اپنی توجہ مثبت چیزوں پر رکھنا چاہتی ہوں کیونکہ میرے سفر نے مجھے یہی سکھایا ہے کہ اگر آپ دیانتداری سے محنت کرتے رہیں اور اپنے خواب پر یقین رکھیں تو دیر ہوسکتی ہے، لیکن راستہ ضرور نکلتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK