Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنگنا رناوت کا یو ٹرن، جین زی کو بتایا ملک کی طاقت اور ثقافتی سفیر

Updated: August 07, 2026, 10:07 PM IST | New Delhi

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے جین زی اور جین الفا کے احتجاج کے حق کی حمایت کرنے کے ایک دن بعد، رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رانوت نے جمعہ کے روز یو ٹرن لیتے ہوئے نوجوان مظاہرین کو ملک کی طاقت اور ثقافتی سفیر بتایا ہے۔

Kangana Ranaut.Photo:INN
کنگنا رناوت۔ تصویر:آئی این این

 راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے جین زی اور جین الفا  کے احتجاج کے حق کی حمایت کرنے کے ایک دن بعد، رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رانوت نے جمعہ کے روز یو ٹرن لیتے ہوئے نوجوان مظاہرین کو ملک کی طاقت اور ثقافتی سفیر بتایا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے اس نسل کو گٹر جنریشن  کہا تھا، جس پر کافی تنازع ہوا تھا اور شدید تنقید کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:شبھ من گل زخمی، سری لنکا الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں کے ایل راہل کپتان


رناوت نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کر رہے نوجوانوں کے بارے میں اپنے گزشتہ تبصروں سے پلٹتے ہوئے پارلیمنٹ کے احاطے میں جمعہ کے روز صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا’’جین زی  ہمارے ملک کی طاقت اور ایک بڑا اثاثہ ہے۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہمارے نوجوان تیزی سے ہماری ثقافت اور شناخت کے سفیر کے طور پر ابھر رہے ہیں۔‘‘
اس سے پہلے انہوں نے نوجوانوں کو گٹر جنریشن  کہتے ہوئے ان پر جارحانہ رویہ اختیار کرنے اور ذاتی جوابدہی میں کمی کا الزام لگایا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کی سخت مذمت ہوئی تھی۔ جمعہ کے روز انہوں نے مسٹر بھاگوت کی نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تعریف کی اور کہا کہ وزیر اعظم کو گالی دینے والے کچھ مٹھی بھر لوگ پوری جین زی کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ممبئی میں جمعرات کے روز ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت میں احتجاج بات چیت کا ایک جائز طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا’’اگر جین زی  تحریک چلا رہے ہیں، تو وہ ملک دشمن نہیں ہیں۔ وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، ہماری اگلی نسل ہیں۔‘‘اس دوران، کانگریس لیڈرپرینکا گاندھی نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں کہا کہ نوجوانوں کو آر ایس ایس کے سربراہ سے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ پر پارلیمنٹ سے بچنے کا الزام لگایا اور نیٹ پیپر لیک کے احتجاج کے دوران طالب علموں پر مبینہ پولیس زیادتیوں کی ذمہ داری حکومت کی طرف سے لیے جانے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے:اگر ’’رامائن‘‘ کو آسکر نہ ملا تو مجھے مایوسی ہوگی: دیویندر فرنویس


تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سنگھ کا یہ موقف تعلیم اور نوکریوں جیسے مسائل پر آواز اٹھانے والی نوجوان نسل سے جڑنے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کے جارحانہ بیانات سے خود کو الگ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ سیاسی طور پر اسے ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے، کیونکہ نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹرز ایک بڑا انتخابی طبقہ بنتے جا رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK