Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بوڑھے ملّاح کی داستان

Updated: August 07, 2026, 8:24 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

برطانیہ کے معروف شاعر سیموئیل ٹیلر کولریج کی شہرہ آفاق نظم ’’دی رائم آف دی اینشیئنٹ میرینر ‘‘ The Rime of the Ancient Marinerکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

شادی کی تقریب عروج پر تھی۔ چرچ کے قدیم دروازوں سے نکل کر موسیقی کی مدھم دھنیں فضا میں گھل رہی تھیں۔ مہمان ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ باہر پتھروں کی پرانی گلی میں بھی رونق کم نہیں تھی۔ مہمانوں میں ایک نوجوان بھی تھا جو جلدی جلدی قدم بڑھاتا چرچ کی طرف جا رہا تھا۔ دولہا اس کا قریبی عزیز تھا۔ وہ ابھی گھر سے نکلا ہی تھا کہ اچانک کسی نے اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑ لی۔ اس نے چونک کر دیکھا۔ اس کے سامنے ایک نہایت بوڑھا شخص کھڑا تھا جس کی لمبی سفید ڈاڑھی سینے تک آ رہی تھی، چہرہ سمندری ہواؤں اور دھوپ کی سختیوں سے جھریوں میں ڈھل چکا تھا اور لباس پرانے زمانے کے ملاحوں جیسا تھا۔ لیکن سب سے زیادہ عجیب اس کی آنکھیں تھیں جن میں ایسی غیرمعمولی چمک تھی کہ گویا برسوں کے راز ان میں قید ہوں۔ وہ نگاہ دل میں اترتی محسوس ہوتی تھی۔ 
نوجوان نے نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر اس نگاہ میں کچھ ایسا تھا کہ اس کے قدم وہیں رک گئے۔ شادی کی موسیقی اب بھی سنائی دے رہی تھی لیکن جیسے جیسے وہ آنکھ اس پر جمی رہی، ویسے ویسے باقی تمام آوازیں مدھم ہوتی چلی گئیں۔ آخرکار ملاح نے دھیمی آواز میں کہا، ’’بیٹھ جاؤ اور میری بات سنو۔ ‘‘ 
یہ الفاظ کسی حکم کی طرح تھے۔ 
نوجوان بے خود سا قریب پڑے ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ بوڑھا ملاح بھی سامنے بیٹھ گیا۔ چند لمحے وہ خاموش رہا جیسے برسوں پرانی یادوں کو الفاظ میں ڈھالنے کا حوصلہ جمع کر رہا ہو۔ پھر اس نے کہنا شروع کیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی نظموں کا اردو ترجمہ: بلیوں کی محفل

’’کئی برس پہلے، جب میری ڈاڑھی سیاہ اور میرے بازوؤں میں جوانی کی طاقت تھی، مَیں ایک بڑے تجارتی جہاز پر سفر کرتا تھا۔ ‘‘ اس کی نظریں اب گلی میں نہیں، کہیں بہت دور سمندر کی وسعتوں میں کھو گئی تھیں۔ ’’ایک سرد صبح ہم نے بندرگاہ کو الوداع کہا، اور سفر شروع ہوگیا۔ ابتداء میں یہ خوشگوار رہا۔ پھر ایک رات آسمان کا رنگ بدلنے لگا۔ پہلے بادل آئے، پھر تیز ہوائیں چلیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایسا طوفان اٹھا کہ ہمارا عظیم جہاز بھی تنکے کی طرح لہروں پراچھلنے لگا۔ بادلوں نے سورج کو نگل لیا۔ لہریں پہاڑوں کی مانند بلند ہونے لگیں۔ ہوا چیختی تھی، مستول (جہاز یا کشتی کا وہ لمبا ستون جس پر بادبان باندھا جاتا ہے، یا جھنڈا نصب کیا جاتا ہے) کانپتے تھے، اور ہر ملاح موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا تھا۔ کئی دن تک طوفان کے رحم و کرم پر رہے، یہاں تک کہ دنیا کے اُن سرد علاقوں میں جا پہنچے جہاں نہ کوئی آباد بستی تھی، نہ سبزہ، نہ پرندوں کی آواز، صرف برف ہی برف تھی۔‘‘
اس نے گہرا سانس لیا۔ ’’چاروں طرف برف کے پہاڑ تیر رہے تھے۔ دھند ہر سمت تھی اور ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ ‘‘ نوجوان داستان میں کھو چکا تھا۔ بوڑھے ملاح نے اپنی پراسرار آنکھ اس کی طرف اٹھائی اور آہستہ سے کہا، ’’اور پھر ایک ملاح نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ دھند کے سفید پردوں سے ایک عظیم الجثہ پرندہ اپنے پَر پھیلائے ہماری طرف آ رہا تھا۔ اس کے پروں کی سفیدی برف سے بھی زیادہ روشن تھی اور وہ نہایت وقار کے ساتھ ہوا میں تیر رہا تھا۔ 
’’قادوس!‘‘ (Albatrosses) جہاز کے کپتان نے بے اختیار کہا۔ اس زمانے کے ملاح اس پرندے کو نیک شگون سمجھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ سمندر میں بھٹکے ہوئے جہازوں تک ایسے پرندے اتفاقاً نہیں پہنچتے بلکہ قدرت انہیں کسی مقصد کیلئے بھیجتی ہے۔ پرندہ چند چکر لگا کر جہاز کے مستول پر آ بیٹھا۔ 
ملاحوں نے کھانے کے ٹکڑے اس کی طرف بڑھا دیئے۔ وہ بے خوفی سے ان کے درمیان گھومتا رہا، کبھی کسی شاخ کی طرح بلند رسّی پر بیٹھ جاتا اور کبھی ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے دوبارہ واپس آ جاتا۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ اس کی آمد کے بعد برفانی ہوائیں بدلنے لگیں۔ دھند چھٹنے لگی۔ جہاز، جو کئی دنوں سے برفانی پہاڑوں کی قید میں تھا اب کھلے پانی کی طرف بڑھنے لگا۔ ہر ملاح کے چہرے پر امید لوٹ آئی۔ ’’یہ خوش نصیبی کا پیامبر ہے، ‘‘ ایک بوڑھے ملاح نے کہا۔ ’’خدا نے ہماری دعا سن لی، ‘‘ دوسرے نے آسمان کی طرف دیکھا۔ رفتہ رفتہ قادوس ہمارے سفر کا ساتھی بن گیا۔ ‘‘ پھر بوڑھے ملاح کی نظریں جھک گئیں۔ 
’’آج بھی میں نہیں جانتا کہ اس لمحے میرے دل میں کیا آیا تھا۔ ‘‘ اس کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ مدھم ہو گئی۔ ’’نہ اس پرندے نے مجھے نقصان پہنچایا تھا، نہ اس نے کسی اور کا برا کیا تھا۔ مگر ایک دن، جب سمندر غیر معمولی طور پر پرسکون تھا میں نے اپنی کمان اٹھائی۔ نشانہ لیا، اور تیر چھوڑ دیا۔ ہوا کو چیرتا ہوا تیر قادوس کے سینے میں پیوست ہو گیا۔ پرندے نے ایک دردناک چیخ ماری۔ اس کے سفید پَر چند لمحوں کیلئے سورج کی روشنی میں چمکے، پھر وہ لہراتا ہوا سمندر کی سطح پر آ گرا۔ تمام ملاح حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ آخر ایک نوجوان ملاح چیخ اٹھا، ’’تم نے یہ کیا کر دیا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: صنوبر کا درخت

دوسروں نے ہاتھ سروں پر رکھ لئے۔ ’’یہ تو ہمارے لئے رحمت بن کر آیا تھا!‘‘ کپتان بھی غصے میں تھا۔ لیکن مَیں، خود بھی اپنے کئے کی کوئی وجہ بیان نہ کر سکا۔ لیکن اب ہر چیز بدل چکی تھی۔ جہاز پر خوشی کی جگہ بے چینی نے لے لی تھی۔ قادوس کی موت کے دوسرے دن ہوا رُک گئی۔ بادبان لٹک گئے۔ سمندر آئینے کی طرح ساکت ہو گیا۔ جہاز لہروں پر نہیں، گویا شیشے کی کسی بے حرکت سطح پر کھڑا تھا۔ دن چڑھا۔ سورج آسمان پر بلند ہوا۔ اس کی تپش بڑھتی گئی حتیٰ کہ رسیاں اور مستول بھی جلنے لگے۔ پانی چاروں طرف بے شمار تھا مگر پینے کیلئے ایک قطرہ بھی نہ تھا۔ مشکوں میں محفوظ پانی تیزی سے کم ہونے لگا۔ ملاحوں کے ہونٹ پھٹنے لگے، زبانیں خشک ہو گئیں۔ اس طرح دن گزرنے لگے۔ جہاز ٹھہرا ہوا تھا اور اس پر مکمل خاموشی تھی۔ سب صرف آسمان کو دیکھتے، پھر بے حرکت سمندر کو، اور آخر میں میری طرف۔ ان نگاہوں میں الزام تھا۔ 
اگلی صبح ملاحوں نے ایک پرندے کی خشک لاش میرے گلے میں لٹکا دی۔ اس کا بوجھ زیادہ نہیں تھا مگر شرمندگی بہت بھاری تھی۔ جہاز پر اب کوئی میرا نام نہیں لیتا تھا۔ میں صرف وہ شخص تھاجس نے بے گناہ پرندہ مار ڈالا تھا۔ دن گزرتے گئے۔ سورج تانبے کے گولے کی طرح ہمارے سروں پر دہکتا رہتا۔ رات کو چاند نکلتا، مگر ٹھنڈک نہ آتی۔ ہماری پیاس بڑھتی جا رہی تھی۔ پھر ایک شام جب سورج خون کی مانند سرخ ہو کر افق کے قریب پہنچ رہا تھا، ایک ملاح نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے دور اشارہ کیا۔ ایک سیاہ نقطہ ہماری طرف بڑھ رہا تھا۔ ہمیں لگا کوئی جہاز ہے لیکن قریب آیا تو ہم حیران رہ گئے کہ وہ ہوا کے بغیر چل رہا تھا۔ جہاز کے عرشے پر دو سائے دکھائی دیئے۔ وہ انسانوں جیسے تھے مگر انسان نہیں تھے۔ ان میں سے ایک لمبا، دبلا اور ہڈیوں کے ڈھانچے کی طرح خشک تھا۔ دوسری ہستی ایک عورت تھی۔ اس کے لمبے سنہری بال ہوا کے بغیر بھی لہرا رہے تھے۔ اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر سفید تھا، مگر اس سفیدی میں زندگی کی شادابی نہیں، قبر کی ٹھنڈک تھی۔ اس کے لب سرخ تھے۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک پراسرار بے رحمی چھپی ہوئی تھی۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ موت تھی اور اس کے ساتھ زندگی سے بھی زیادہ خوفناک ایک اور قوت تھی، جسے لوگ ’’زندہ موت‘‘ کہتے ہیں۔ دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ ان کے درمیان ہڈی سے بنے پانسے تھے۔ انہوں نے کھیل شروع کر دیا۔ ہر بار جب پانسہ گھومتا، میری دھڑکن رک سی جاتی۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کس چیز پر شرط لگا رہے ہیں لیکن دل گواہی دے رہا تھا کہ اس کھیل کا تعلق ہم سب سے ہے۔ چند لمحوں بعد ہڈیوں جیسے چہرے والی ہستی نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔ دوسری ہستی کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ اس نے کہا، ’’یہ ملاح میرا ہے۔ ‘‘ یہ الفاظ سن کر میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔ اسی لمحے سورج ڈوب گیا۔ ہوا کا ایک ہلکا جھونکا آیا، اور تب پہلا ملاح فرش پر گرا۔ پھر دوسرا۔ پھر تیسرا۔ ایک ایک کر کے دو سو ملاح میرے سامنے گرگئے۔ چند ہی لمحوں میں پورا جہاز لاشوں سے بھر گیا۔ مَیں اکیلا رہ گیا۔ ‘‘ بوڑھے ملاح کی آواز بھرا گئی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انمول رتن

’’میں نے پہلی بار تنہائی کا اصل مطلب جانا۔ مردہ پرندہ میری گردن سے الزام کی طرح لٹک رہا تھا۔ کئی مرتبہ میں نے چاہا کہ خدا سے دعا مانگوں مگر الفاظ لبوں تک آ کر رک جاتے۔ دل پتھر ہو چکا تھا، اور شاید ایسا دل دعا کے قابل بھی نہیں رہتا۔ رات کے ایک پہر میری نگاہ جہاز کے پہلو سے گزرنے والے پانی پر پڑی۔ پہلے مجھے یوں لگا جیسے سمندر کی سطح پر سبز شعلے ناچ رہے ہوں۔ پھر غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ننھی ننھی سمندری مخلوقات تھیں۔ کوئی نیلے یاقوت کی مانند چمک رہی تھی، کوئی زمرد کی طرح سبز، اور کوئی ایسے دمک رہی تھی جیسے کسی نے تاروں کی روشنی پانی میں گھول دی ہو۔ ان کے جسموں پر چاند کی کرنیں پڑتیں تو پورا سمندر رنگ بدلنے لگتا۔ تبھی میرے لبوں سے بے اختیار نکلا، ’’اے میرے پروردگار! تُو نے کیسی عجیب اور کیسی حسین مخلوق پیدا کی ہے۔ ‘‘
اسی لمحے مجھے محسوس ہوا جیسے برسوں سے جما ہوا بوجھ ذرا سا ہلکا ہو گیا ہو۔ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ مجھے پہلی بار اپنے گناہ پر افسوس اسلئے ہوا کہ میں نے ایک بے ضرر مخلوق کی زندگی کو معمولی سمجھ لیا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ جس پرندے کو میں نے ایک لمحے کی بے پروائی میں مار ڈالا تھا، وہ بھی اسی خالق کی تخلیق تھا جس نے مجھے پیدا کیا۔ اچانک میرے گلے میں لٹکا ہوا پرندہ ڈھیلا پڑ گیا۔ گرہ خود بخود کھل گئی۔ پرندے کی خشک لاش آہستہ سے پھسل کر سمندر میں جا گری۔ 
اسی رات بادل جمع ہونے لگے۔ مہینوں بعد ہوا نے دوبارہ سانس لی۔ دور کہیں بجلی چمکی۔ پھر گرج سنائی دی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے بارش برسنے لگی۔ ہر قطرہ میرے لئے زندگی بن کر آ رہا تھا۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیئے۔ بارش کا پانی پیا اور سجدۂ شکر میں سر جھکا دیا۔ آدھی رات کے قریب ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ مَیں نے دیکھا کہ میرے مرے ہوئے ساتھی آہستہ آہستہ اٹھنے لگے۔ ایک نے رسی سنبھالی۔ دوسرے نے بادبان درست کئے۔ تیسرے نے چپو کی نگرانی شروع کر دی۔ میں خوف سے کانپ اٹھا۔ ان کے چہروں پر زندگی کی گرمی نہیں تھی، نہ وہ ایک دوسرے سے بات کرتے تھے اور نہ ہی میری طرف دیکھتے تھے۔ وہ خاموشی سے اپنا کام کر رہے تھے، جیسے کسی ان دیکھی قوت نے انہیں چند لمحوں کیلئے حرکت دے دی ہو۔ جہاز، جو ہفتوں سے ساکن کھڑا تھا، آگے بڑھنے لگا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب میرا سفر صرف سمندر کا سفر نہیں رہا۔ یہ میری روح کا سفر تھا، اور اس کی منزل ابھی بہت دور تھی۔ مَیں نے کئی مرتبہ اپنے ساتھیوں کو آواز دی، مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔ وہ میرے پاس سے گزرتے، اپنا کام کرتے اور آگے بڑھ جاتے، گویا میں ان کیلئے موجود ہی نہ تھا۔ ان دنوں مجھے احساس ہوا کہ سزا صرف تکلیف کا نام نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی اصل سزا یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی غلطی کو پوری طرح سمجھ لے اور پھر ساری عمر اس کی یاد کے ساتھ جیتا رہے۔ چند دن بعد افق پر ایک مانوس لکیر نمودار ہوئی۔ دور کہیں زمین دکھائی دے رہی تھی۔ پہاڑ، چرچ کا مینار اور ساحل کے قریب کھڑے درخت۔ 
میری دھڑکن تیز ہو گئی۔ ’’یہ میرا وطن ہے!‘‘ میں بے اختیار پکار اٹھا۔ میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ جہاز آہستہ آہستہ ساحل کی طرف بڑھنے لگا۔ اسی وقت مجھے ایک چھوٹی کشتی دکھائی دی جس میں تین آدمی سوار تھے۔ ایک معمر راہب، جس کے چہرے پر سکون اور وقار تھا۔ ایک ملاح، جو کشتی چلا رہا تھا۔ اور اس کے ساتھ ایک نوجوان، جو حیرت سے ہمارے جہاز کو دیکھ رہا تھا۔ شاید انہوں نے دور سے ہمارے جہاز کو بے سہارا بہتے دیکھا تھا اور مدد کیلئے نکل آئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں

میرا پُر امید ہوگیا کہ آخرکار میرا عذاب ختم ہونے والا ہے۔ جیسے ہی وہ کشتی ہمارے جہاز کے قریب پہنچی، اچانک جہاز کے نیچے سے ایک گرج دار آواز سنائی دی۔ لکڑیوں نے زور سے چرچرانا شروع کیا۔ عرشہ ہلنے لگا۔ پورا جہاز ایسے لرز رہا تھا جیسے برسوں سے اپنے انجام کا انتظار کر رہا ہو۔ میں نے خوفزدہ ہو کر چاروں طرف دیکھا۔ میرے خاموش ساتھی بدستور اپنی جگہ کھڑے تھے مگر اب ان کی ضرورت ختم ہو چکی تھی۔ مَیں سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ پورا جہاز ایک جھٹکے سے نیچے بیٹھ گیا۔ ایسا لگا جیسے سمندر نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر اسے اپنی گہرائی میں کھینچ لیا ہو۔ چند ہی لمحوں میں وہ عظیم جہاز، جس نے برسوں سمندروں کی مسافتیں طے کی تھیں، گرداب میں گھومتا ہوا نظروں سے اوجھل ہونے لگا۔ مَیں ایک تختے کو پکڑ کر پانی میں گر پڑا۔ ٹھنڈا سمندر مجھے اپنی موجوں کے ساتھ ادھر اُدھر اچھالتا رہا۔ پھر اچانک کسی نے میرا بازو تھام لیا۔ وہ ساحل سے آنے والی کشتی تھی۔ ملاحوں نے مجھے کھینچ کر اندر بٹھا لیا۔ میں کئی لمحوں تک کچھ بول نہ سکا۔ میرے جسم میں جان تھی، مگر روح جیسے ابھی تک اسی ڈوبتے ہوئے جہاز پر کھڑی تھی۔ کشتی میں موجود بوڑھے راہب نے میری طرف غور سے دیکھا۔ 
اس نے نرمی سے پوچھا، ’’تم کون ہو؟‘‘
یہ ایک سادہ سوال تھا۔ مگر میرے لئے اس کا جواب دینا آسان نہ تھا۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، جو سمندر کے نمک اور وقت کی سختیوں سے کھردرے ہو چکے تھے۔ پھر آہستہ سے کہا، ’’میں وہ آدمی ہوں جس نے ایک بے گناہ پرندے کو مار ڈالا تھا۔ ‘‘ یہ کہتے ہی میرا دل جیسے ٹوٹ گیا۔ مَیں نے راہب کے سامنے اپنا پورا قصہ بیان کر دیا۔ جب میری داستان ختم ہوئی تو اس نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور کہا، ’’جو دل سچ میں نادم ہو، خدا کی رحمت اس سے دور نہیں رہتی۔ لیکن بعض گناہوں کا بوجھ انسان کو یاد دلاتا رہتا ہے تاکہ وہ دوبارہ اسی اندھیرے میں نہ گرے۔ ‘‘ یہ الفاظ میرے لئے سزا بھی تھے اور سکون بھی۔ اس دن سے میری زندگی بدل گئی۔ میں کئی بار سمندری سفر پر گیا مگر پہلے والا انسان کبھی نہ بن سکا۔ کبھی کبھی میرا دل بے چین ہوجاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر میں اپنی داستان کسی ایسے شخص کو نہ سناؤں جسے اس کی ضرورت ہے، تو میرا دل پھٹ جائے گا۔ تب میں لوگوں کے درمیان نکل پڑتا ہوں۔ میں کسی ہجوم میں، کسی بندرگاہ پر، کسی راستے میں یا کسی تقریب کے باہر کھڑا ہو جاتا ہوں۔ پھر میری نظر ایک ایسے انسان پر ٹھہرتی ہے جس کے دل کو یہ کہانی سننا چاہئے۔ مَیں اسے روک لیتا ہوں اور اپنی داستان سنا دیتا ہوں۔ ‘‘
بوڑھے ملاح نے یہ کہتے ہوئے نوجوان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں اب وہی پراسرار چمک تھی مگر ان میں اب ایک گہرا سکون بھی شامل ہو چکا تھا۔ ’’آج میری منزل تم تھے، ‘‘ اس نے دھیرے سے کہا۔ ’’اب تم جان چکے ہو کہ اس دنیا میں کوئی مخلوق بے وقعت نہیں۔ پرندہ ہو، جانور ہو یا انسان، ہر ایک اسی ایک خالق کی تخلیق ہے۔ جو شخص اس کی مخلوق کے ساتھ محبت اور رحم سے پیش آتا ہے، وہ دراصل اپنے رب کی عظمت کا احترام کرتا ہے۔ ‘‘
اتنا کہہ کر بوڑھا ملاح خاموش ہو گیا۔ اسی لمحے گرجا گھر کی گھنٹیاں دوبارہ بجنے لگیں۔ شادی کی تقریب ختم ہونے کو تھی۔ نوجوان آہستہ آہستہ اٹھا۔ جب وہ یہاں آیا تھا تو اس کے چہرے پر جشن کی خوشی تھی۔ اب اس کی آنکھوں میں ایک ایسی سنجیدگی تھی جو چند لمحے پہلے موجود نہ تھی۔ اس نے احترام سے بوڑھے ملاح کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے چرچ کی طرف چل دیا۔ وہ تقریب میں تو شامل ہوا، لیکن اس رات وہ دوسروں کی طرح صرف خوشی لے کر واپس نہیں لوٹا۔ وہ ایک ایسی داستان بھی اپنے ساتھ لے گیا جو ساری زندگی اس کے دل میں گونجتی رہی۔ اور شاید یہی اس قدیم ملاح کی اصل نجات تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK