Inquilab Logo Happiest Places to Work

’آپ انڈوں سے ڈرتی ہیں!‘: سپریم کورٹ نے مہوا موئترا کی ورچوئل پیشی کی درخواست مسترد کردی

Updated: August 07, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi

موئترا کے کونسل، گوپال شنکر نارائنن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ موئترا کو پولیس کے سامنے پیش ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ ورچوئل طور پر پیش ہونے کی اجازت چاہتی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر وہ پولیس اسٹیشن گئیں تو ان پر دوبارہ انڈے پھینکے جا سکتے ہیں۔ اس پر جسٹس دتہ نے تبصرہ کیا کہ ”سیاست میں قدم رکھنے کے بعد، آپ انڈوں سے ڈرتی ہیں؟ جبکہ ہمارے مجاہدینِ آزادی نے اپنے سینوں پر گولیاں کھائی ہیں؟“

Mahua Moitra. Photo: INN
مہوا موئترا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا کی ایک درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں انہوں نے جولائی میں اپنے مبینہ طور پر اشتعال انگیز تبصروں سے متعلق کیس میں پولیس کے سامنے ورچوئل (آن لائن) موڈ میں پیش ہونے کی اجازت مانگی تھی۔

یہ کیس یکم جولائی کو پیش آئے ایک واقعے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس دن مغربی بنگال کے کرشنانگر میں ٹی ایم سی کے ایک دفتر پر سبزیوں اور انڈوں سے حملہ کیا گیا تھا جب موئترا اندر موجود تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی کے ”غنڈے“ اس کے ذمہ دار تھے۔ بعد ازیں، ایک ویڈیو میں موئترا نے کہا کہ جو لوگ ان پر انڈے پھینکنا چاہتے ہیں اگر وہ چھپے رہنا چاہتے ہیں تو انہیں ’برقع پہننا چاہئے۔‘ اس کے بعد ایک بی جے پی لیڈر نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ اس تبصرے سے ہندو مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے ۲۱ جولائی کو موئترا کو ۵ اکتوبر تک گرفتاری سے عبوری تحفظ فراہم کیا تھا، لیکن انہیں ۱۴ اگست کو تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی، مودی جین زی کو ملک دشمن کہنا بند کریں: ابھیجیت دپکے

موئترا کے کونسل، گوپال شنکر نارائنن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ موئترا کو پولیس کے سامنے پیش ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ ورچوئل طور پر پیش ہونے کی اجازت چاہتی ہیں۔ جسٹس دیپانکر دتہ نے سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ ”کیا صرف اس لئے کہ آپ ایک ایم پی ہیں؟“ جب شنکر نارائنن نے یکم جولائی کے واقعے کا حوالہ دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگر وہ پولیس اسٹیشن گئیں تو ان پر دوبارہ انڈے پھینکے جا سکتے ہیں، تو جسٹس دتہ نے تبصرہ کیا کہ ”سیاست میں قدم رکھنے کے بعد، آپ انڈوں سے ڈرتی ہیں؟ جبکہ ہمارے مجاہدینِ آزادی نے اپنے سینوں پر گولیاں کھائی ہیں؟“ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی درخواستیں ”اس عدالت کے سامنے بالکل نہیں آنی چاہئیں۔“ ان تبصروں کے بعد، شنکر نارائنن نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

واضح رہے کہ یکم جولائی کا واقعہ ۴ مئی کو مغربی بنگال میں بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے ٹی ایم سی لیڈران پر ہونے والے حملوں کے سلسلے کی تازہ ترین تھا۔ ٹی ایم سی کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی پر ۳۰ مئی کو سونار پور کے دورے کے دوران انڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا گیا تھا اور پارٹی ایم پی کلیان بنرجی نے الزام لگایا تھا کہ اگلے ہی دن ہوگلی ضلع میں ان پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK