Updated: August 07, 2026, 9:04 PM IST
| Ranchi
اے آئی ایس اے کی صدر نیہا بورا نے روشنائی حملے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ہم روشنائی سے تاریخ لکھیں گے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ رانچی میں ان پر اور دیگر خواتین مظاہرین پر روشنائی پھینکی گئی، جبکہ طلبہ،جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی-سی جی ایل کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اے آئی ایس اے کی صدر نیہابورا۔ تصویر: ایکس
اے آئی ایس اے کی صدر نیہابورا پر جمعہ کو رانچی میں طلبہ کے احتجاجی مارچ کے دوران مبینہ طور پر روشنائی سے حملہ کیا گیا۔ پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لیا جس پر الزام ہے کہ اس نےجب مظاہرین جھارکھنڈ اسمبلی کی طرف مارچ کر رہے تھے، بورا پر روشنائی پھینکی۔ واضح رہے کہ یہ احتجاج ۱۴؍ ویں،جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) سول سروسز امتحان اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن کمبائنڈ گریجویٹ لیول (جے ایس ایس سی-سی جی ایل) امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے خلاف تھا۔
بعد ازاں بورا نے ایک تصویر شیئر کی جس میں ان کا چہرہ اور کپڑے روشنائی سے لت پت نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’آر ایس ایس-بی جے پی کے غنڈوں‘ نے انہیں اور تقریباً۲۰؍ دیگر خواتین کو مظاہرے کے دوران نشانہ بنایا۔انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’ان کے لیے روشنائی دوسروں کو شرمندہ کرنے کا ذریعہ ہے، ہم روشنائی سے مستقبل لکھیں گے! میں یہ روشنائی فخر کے ساتھ استعمال کرتی ہوں۔‘‘انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’آج ہم برسا منڈا اسٹیڈیم سے مارچ نکال رہے تھے۔ جب میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ وہاں کھڑی تھی، تو امر ناتھ پانڈے (۲۶؍ سالہ) نامی ایک شخص، جو آر ایس ایس کا رکن بھی ہے، نے مجھ پر روشنائی پھینکی۔ اپنے مجرمانہ عمل کو جائز ثابت کرنے کے لیے اس نے وہی کیا جو آر ایس ایس سے وابستہ لوگ کرتے ہیں، ’’جے شری رام‘ ‘کا نعرہ لگایا۔تاہم احتجاج میں موجود لوگوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔‘‘احتجاج کی فوٹیج میںبورا کے چہرے، گردن اور کپڑوں پر سیاہ روشنائی دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو یہ بھی بتایا کہ اس سے پہلے کہ مظاہرین نے اسے قابو کر کے پولیس کے حوالے کیا، ملزم نے مبینہ طور پر ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگایا ۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی، مودی جین زی کو ملک دشمن کہنا بند کریں: ابھیجیت دپکے
واضح رہے کہ رانچی کا یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب بورا سرکاری بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف وسیع تر طلباء تحریک کی ایک نمایاں چہرہ بن چکی تھیں۔ گزشتہ ماہ، انہوں نے طلباء احتجاج کے دوران دہلی کے جنتر منتر پر۲۳؍ روزہ بھوک ہڑتال کی تھی۔ بعد ازاں ان احتجاجات کے نتیجے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا تھا۔مزید برآں اس واقعے کے بعد، بھورا نے سرکاری بھرتی امتحانات میں زیادہ احتساب کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ایسے امتحانات شفاف اور منصفانہ ہوں۔ ساتھ ہی بورا نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو پیپر لیک کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے نہ کہ بے ضابطگیوں کا الزام نجی ایجنسیوں پر ڈالنا چاہیے۔انہوں نے کہا، ہم۱۰؍ تاریخ کو طلبہ کی طرف سے دی جانے والی کال کی حمایت کریں گے اور طلباء کے مستقبل کے لیے کھڑے رہیں گے۔‘‘