Updated: August 22, 2026, 6:02 PM IST
| Mumbai
دھنش اور کرینہ کپور پہلی مرتبہ ایک ساتھ ہندی فلم میں نظر آسکتے ہیں۔ سنجے لیلا بھنسالی کی پروڈیوس کردہ اور ایس متھرن کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم کے لیے دونوں اداکاروں سے بات چیت جاری ہے، جس کی تصدیق خود ہدایتکار نے کردی ہے۔ بڑے پیمانے پر بننے والی اس دیومالائی جنگل کی مہم جوئی پر مبنی فلم کی پری پروڈکشن نومبر ۲۰۲۶ء میں شروع ہونے اور شوٹنگ جنوری ۲۰۲۷ء میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
دھنش، کرینہ کپور اور سنجے لیلا بھنسالی۔ تصویر: آئی این این
دھنش اور کرینہ کپور ایک ہندی فلم کے لیے ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔ فلم کو سنجے لیلا بھنسالی پروڈیوس کریں گے جبکہ اس کی ہدایتکاری ایس متھرن کریں گے۔ ہدایتکار نے حالیہ انٹرویو میں اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ دھنش اور کرینہ کپور نے اس سے قبل کبھی ایک ساتھ کسی فلم میں کام نہیں کیا، جبکہ دونوں نے ابھی تک سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ بھی کام نہیں کیا ہے۔ ایس متھرن نے اپنی آنے والی فلم ’’سردار ۲‘‘ کی تشہیر کے دوران سنیما وکاتن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’بات چیت جاری ہے، ہم تاریخوں کی تصدیق کے لیے غور کررہے ہیں۔ امید ہے کہ اس حوالے سے کچھ اچھا سامنے آئے گا۔‘‘
یہ فلم اگست کے آغاز سے ہی بالی ووڈ اور جنوب ہندوستانی فلمی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کررہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ بڑے پیمانے پر بننے والی دیومالائی جنگل کی مہم جوئی پر مبنی فلم ہوگی۔ بالی ووڈ ہنگامہ کے مطابق فلم فی الحال تحریری مرحلے میں ہے اور حتمی شکل دینے سے قبل اس کے اسکرپٹ میں کئی مرتبہ تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔ فلم کا پری پروڈکشن نومبر ۲۰۲۶ء میں شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ مرکزی شوٹنگ جنوری ۲۰۲۷ء میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو یہ ایس متھرن کی بطور ہدایتکار پہلی بالی ووڈ فلم ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: گووندہ کی دوسری شادی کی خبر پر منیجر کا اہم بیان، سنیتا آہوجا کے دعوے مسترد
کرینہ کپور اور سنجے لیلا بھنسالی کے پرانے اختلافات
اس منصوبے میں کرینہ کپور کی ممکنہ شمولیت نے بھی فلم کو مزید دلچسپ بنادیا ہے۔ کرینہ کپور اور سنجے لیلا بھنسالی کے درمیان ۲۰۰۰ء کی دہائی کے آغاز میں اس وقت اختلافات پیدا ہوگئے تھے جب کرینہ نے انہیں فلم ’’دیوداس‘‘ کے لیے اسکرین ٹیسٹ دیا تھا، لیکن بعد میں ایشوریہ رائے بچن کو پارو کے کردار کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ کرینہ نے ۲۰۰۲ء میں فلم فیئر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، ’’انہوں نے میرے ساتھ جو کیا وہ غلط تھا۔ انہوں نے فلم ’’دیوداس‘‘ کے لیے میرا اسکرین ٹیسٹ لیا، مجھے سائننگ اماؤنٹ دیا اور پھر کسی اور کو منتخب کرلیا۔ یہ غلط تھا، خاص طور پر اس لیے کہ میں اپنے کریئر کے آغاز میں تھی، اس لیے مجھے اس بات سے بہت تکلیف ہوئی۔‘‘ تاہم سنجے لیلا بھنسالی نے اس معاملے کا مختلف مؤقف پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق کرینہ نے خود اس کردار کے لیے ان سے رابطہ کیا تھا اور انہوں نے اس کا ٹیسٹ شوٹ اس لیے کروایا کیونکہ اس وقت تک انہوں نے کرینہ کا کام نہیں دیکھا تھا۔ بھنسالی نے واضح کیا تھا کہ اسکرین ٹیسٹ کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انہیں فلم میں کاسٹ کرلیا گیا ہے۔ بھنسالی کے مطابق، ’’تصاویر دیکھنے کے بعد میں نے کرینہ سے کہا کہ مجھے لگتا ہے ایشوریہ رائے شاندار اور پارو کے کردار کے لیے بالکل موزوں ہیں؛ ان کی شکل میں وہ شاہانہ انداز ہے جس کی مجھے ضرورت تھی۔ کرینہ نے اس وقت کچھ نہیں کہا، لیکن چند دن بعد میں نے اخبارات میں انہیں میرے خلاف بیان دیتے دیکھا۔‘‘ انہوں نے کرینہ کے اس الزام کی بھی تردید کی کہ انہیں سائننگ اماؤنٹ اور معاہدہ دینے کے بعد فلم سے نکالا گیا تھا۔
کرینہ ابھی باضابطہ طور پر فلم کا حصہ نہیں
رپورٹ کے مطابق کرینہ کپور کو ابھی اس فلم کے لیے باضابطہ طور پر سائن نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی اعلان سامنے آیا ہے۔ کرینہ اس وقت فلم ’’دائرا‘‘ سے وابستہ ہیں، جو میگھنا گلزار کی ہدایتکاری میں بننے والی کرائم تھرلر فلم ہے۔ اس میں وہ پرتھوی راج سُکمارن کے ساتھ نظر آئیں گی اور فلم کی ریلیز ۱۸؍ ستمبر مقرر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پینٹل ’ہیرو‘ نہیں تھے لیکن ان کے کردار اہم ہوتے تھے
دھنش کے لیے ایک اور بڑا ہندی منصوبہ
دھنش کے لیے یہ فلم ہندی سنیما میں ان کے بڑھتے ہوئے کام کا ایک اور اہم اضافہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اداکار گزشتہ کچھ عرصے سے تمل اور ہندی دونوں فلمی صنعتوں میں مسلسل کام کررہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں آنند ایل رائے کی ۲۰۲۵ء میں ریلیز ہوئی ہندی فلم ’’تیرے عشق میں‘‘ کے ذریعے بالی ووڈ میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ اگر سنجے لیلا بھنسالی کے پروڈکشن میں بننے والا یہ نیا منصوبہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو دھنش اور کرینہ کپور کی پہلی مشترکہ فلم ہونے کے ساتھ ساتھ ایس متھرن کے بالی ووڈ ڈیبیو کے طور پر بھی خاص اہمیت حاصل کرے گا۔