Updated: August 22, 2026, 5:02 PM IST
| Kolkata
ہندوستان کے سابق کپتان بائی چنگ بھوٹیا نے ۳؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں ہونے والے ہندوستان برازیل دوستانہ میچ کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایک ۹۰؍ منٹ کے میچ پر مبینہ طور پر ۵۰؍ سے ۷۰؍ کروڑ خرچ کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہی رقم ہندوستانی فٹبال کے بنیادی ڈھانچے، کلبوں اور نوجوان کھلاڑیوں پر خرچ ہونی چاہیے۔
ہندوستان کے سابق فٹبال کپتان بائی چنگ بھوٹیا۔ تصویر: ایکس
ہندوستان کے سابق فٹبال کپتان بائی چنگ بھوٹیا نے ہندوستانی فٹبال شائقین سے ۳؍ اکتوبر کو برازیل کے خلاف ہونے والے دوستانہ میچ کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ مقابلہ کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا اور برازیل کی ٹیم ۵؍ مرتبہ کی عالمی چیمپئن ہے۔ بھوٹیا نے کہا کہ ایک میچ پر بڑی رقم خرچ کرنے کے بجائے ہندوستانی فٹبال کے طویل مدتی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ بھوٹیا نے 420 Grams کو دیے گئے انٹرویو میں کہا، ’’اس برازیل میچ کا بائیکاٹ کریں۔ پھر یہ ایک بڑا پیغام ہوگا۔ اس کے بعد ہر منتظم اور ہر فیڈریشن ۲؍ بار سوچے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مغربی بنگال حکومت میچ کے لیے رقم خرچ یا جمع کرنے والی ہے تو اسے ریاست کے ایسے کھلاڑیوں پر خرچ کیا جائے جو Commonwealth Games میں اگلے چند گولڈ میڈل جیت سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم نریندرمودی کی۲۰؍خلائی اسٹارٹ اپس کے سربراہوں سے ملاقات
میچ کے انعقاد پر تقریباً ۵۰؍ سے ۷۰؍ کروڑ خرچ ہونے کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم اے آئی ایف ایف نے واضح کیا ہے کہ اس سے متعلق گردش کرنے والے غیر مصدقہ مالی اعداد و شمار کی کوئی دستاویزی بنیاد نہیں۔ فیڈریشن نے کہا کہ برازیل کے خلاف میچ کا فیصلہ مناسب ادارہ جاتی طریقۂ کار کے تحت کیا گیا اور یہ ہندوستانی فٹبال، قومی ٹیم اور لاکھوں شائقین کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے۔ بھوٹیا نے اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’اگر ایک ۹۰؍ منٹ کے میچ کے لیے ۵۰؍ سے ۷۰؍ کروڑ برازیل کو دیے جانے ہیں تو ہمیں اس کے بدلے کیا مل رہا ہے؟ شاید ۹۰؍ منٹ کی تفریح۔‘‘ ان کے مطابق یہی رقم ہندوستانی فٹبال کے بنیادی ڈھانچے اور کھلاڑیوں کی ترقی پر خرچ کی جائے تو اس کا اثر کئی برس تک برقرار رہ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ادیشہ سیلاب: ریاست کے ۷؍اضلاع میں۴۴ء۱۳؍ لاکھ سے زائد افراد متاثر
انہوں نے خاص طور پر مغربی بنگال کے فٹبال کلبوں کا ذکر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ریاست سے ۵۰؍ کروڑ یا اس سے زیادہ رقم ایک میچ پر خرچ ہوگئی تو ایسٹ بنگال اور محمدن اسپورٹنگ جیسے کلبوں کو سرمایہ کاری اور اسپانسرشپ کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ بھوٹیا نے کہا کہ ہندوستانی فٹبال پہلے ہی مالی مشکلات سے گزر رہا ہے، اس لیے ایسے وقت میں ایک بڑے دوستانہ میچ پر بھاری رقم خرچ کرنا ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔ برازیل کے خلاف میچ کو ترجیح دینے کا فیصلہ اس وقت مزید متنازع ہوا جب آل انڈیا فٹبال فیڈریشن نے FIFA ASEAN Cup سے ہندوستان کی دستبرداری کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان کو اس افتتاحی ٹورنامنٹ میں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کے ساتھ گروپ میں شامل کیا گیا تھا، لیکن ۳؍ اکتوبر کے برازیل میچ اور ٹورنامنٹ کے شیڈول میں ٹکراؤ کے باعث AIFF نے برازیل کے مقابلے کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم پرنسپل کے تبادلے کو روکنے کیلئے ہندو اکثریتی گاؤں کے طلبہ کا دھرنا
AIFF نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ برازیل جیسی ۵؍ مرتبہ کی عالمی چیمپئن ٹیم کے خلاف کھیلنے سے قومی ٹیم کو حوصلہ ملے گا اور ہندوستانی فٹبال کی جانب شائقین کی توجہ بڑھے گی۔ فیڈریشن نے یہ بھی کہا کہ میچ کو یک طرفہ مالی انتظام کے طور پر پیش کرنا درست نہیں کیونکہ یہ دونوں فٹبال فیڈریشنز کے درمیان باہمی طور پر طے شدہ بین الاقوامی مقابلہ ہے۔ تازہ پیش رفت میں برازیلین فٹبال کنفیڈریشن سے قریبی ذرائع نے بھی واضح کیا ہے کہ بائیکاٹ کی اپیل کے باوجود برازیل کی ٹیم ۳؍اکتوبر کو کولکاتا میں ہندوستان کے خلاف دوستانہ میچ کھیلنے کے اپنے منصوبے میں تبدیلی نہیں کر رہی۔