اس سلسلے کی تازہ مثال یہ ہے کہ مہاراشٹر میں مدرسین کی تقرری کی جو قواعد ’پوتر پورٹل‘ کے ذریعہ شروع ہوئی ہے اس میں اردو اور ہندی کی اسامیاں ندارد ہیں۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 4:39 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
اس سلسلے کی تازہ مثال یہ ہے کہ مہاراشٹر میں مدرسین کی تقرری کی جو قواعد ’پوتر پورٹل‘ کے ذریعہ شروع ہوئی ہے اس میں اردو اور ہندی کی اسامیاں ندارد ہیں۔
عالمی سطح پر ہندوستان کی انفرادیت کے مختلف حوالوں میں ایک اہم حوالہ اس ملک کا وہ لسانی تنوع ہے جو دیگر ملکوں میں کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ماہرین لسانیات نے اس ملک کو زبانوں کا عجائب گھر کہا ہے۔ وطن عزیز کی یہ شناخت نہ صرف لسانی بلکہ تہذیبی اور ثقافتی سطح پر بھی اس کی انفرادیت کو عیاں کرتی ہے۔ زبانیں مختلف سماجی پس منظر کے حامل افراد کے مابین محبت و یگانگت پیدا کرنے کا اہم وسیلہ ہوتی ہیں۔ کوئی شخص اگر بہ یک وقت ایک سے زیادہ زبانوں میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے پر قادر ہو تووہ نہ صرف سماجی و تہذیبی بلکہ معاشی سطح پر بھی دیگر افراد سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ اکیسویں صدی میں سائنس و تکنیک کی حیرت افزا ترقی نے جہاں عالمی انسانی معاشرہ میں لسانی تنوع کے رجحان کو تقویت عطا کی ہے وہیں وطن عزیز میں یرقانی افکار کے پروردہ سیاست دانوں نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں لسانی تعصب اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ ادارہ جاتی سطح پر اس تعصب کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا رہا ہے اور اس کا مرکزی ہدف اردو زبان رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سوت پھینی کی مقبولیت جہان آباد کی گلیوں سے نکل کر آس پاس کے اضلاع تک پہنچ گئی
اس سلسلے کی تازہ واردات یہ ہے کہ ریاست مہاراشٹر میں اسکولی سطح پر مدرسین کی تقرری کی جو قواعد ’پوتر پورٹل‘ کے ذریعہ شروع ہوئی ہے اس میں اردو اور ہندی کی اسامیاں ندارد ہیں۔ اردو اور ہندی میڈیم اسکولوں میں تدریس کے اہل امیدواروں نے جب اس صورتحال پر مایوسی اورناراضگی کا اظہار کیا تو محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے یہ کہہ کر انھیں دلاسہ دینے کی کوشش کی کہ ان میڈیم کی خالی اسامیوں کی تفصیلات کا کام مکمل نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ ان حکام نے یہ وعدہ بھی کیا کہ پوتر پورٹل کے اگلے راؤنڈ میں ان اسامیوں کی معلومات بھی جاری کی جائیں گی۔ حکام کی اس وضاحت اور وعدے کے باوجود یونینوں نے اس صورتحال کو محکمہ ٔ تعلیم کی بدنظمی اور لاپروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
مہاراشٹر کا شمار ان ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں لسانی تعصب کے سبب سماج بارہا انتشار کی کیفیت سے دوچار ہوتا رہا ہے۔ اس ریاست میں کبھی طاقتور سیاسی پارٹی کی حیثیت رکھنے والی شیو سینا کی سیاسی حکمت عملی میں اس لسانی تعصب کو نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ ریاست میں مراٹھی زبان کی عوامی مقبولیت اور ادارہ جاتی سطح پر اس زبان کو فروغ دینے کی کاوش اور تدابیر شیو سینا اور ایم این ایس کی سیاسی شناخت کا اہم حوالہ رہی ہے۔ ریاست میں مراٹھی زبان کے فروغ کی کاوشیں حق بہ جانب ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ۲۲؍ آئینی زبانوں کا سرمایہ اپنے دامن دولت میں سمیٹے رکھنے والے ملک میں دیگر زبانوں کی ترقی کے راستوں کو مسدود کر دیا جائے۔ مہاراشٹر کے اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری کی قواعد میں اردو اور ہندی کی عدم شمولیت یہ واضح اشارہ ہے کہ ارباب اقتدار اور محکمہ ٔ تعلیم کے اعلیٰ افسران کی نظروں پر لسانی تعصب کا ایسا دبیز پردہ پڑا ہوا ہے جو اردو کے ساتھ ہی ملک کی قومی زبان ہندی کے ساتھ بھی امتیازی رویہ روا رکھنے کو غلط نہیں سمجھتے۔ ریاست گیر سطح پرمدرسین کی تقرری کے عمل میں ان دو اہم زبانوں کے ساتھ اس امتیازی رویہ پر محکمۂ تعلیم کے افسران کی وضاحت محض ایک عذر لنگ کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آزادی کے معنی پرچم سے کردار تک
سوال یہ ہے کہ جب دیگر مضامین کی خالی اسامیوں کی تفصیلات جمع ہو گئیں تو صرف اردو اور ہندی کے ساتھ ہی ایسی سست روی سے کام کیوں لیا گیا؟ کیا محکمۂ تعلیم کے افسران کے نزدیک ان زبانوں کی اسامیوں کو پر کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ آخر کیوں اردو اور ہندی میں تدریس کے اہل امیدواروں کو اگلے راؤنڈ تک انتظار کرنے پر مجبور کیا گیا ؟ کیا اس صورتحال سے ان امیدواروں میں مایوسی اور اضطراب نہیں پیدا ہوگا؟ ان تمام سوالات کا دوٹوک جواب صرف یہ ہے کہ نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک گیر سطح پر بڑے منظم انداز میں اردو کی ادارہ جاتی حیثیت کو کم اور بعض صورتوں میں ختم کرنے کی سیاسی سازش نے ملک کی لسانی ثروت مندی کو معرض خطر میں ڈال دیا ہے۔
اسکولی سطح پر اردو کے ساتھ امتیازی رویہ نہ صرف کم عمر طلبہ کو زبان شناسی سے محروم اور ان اسکولوں میں تدریس کے اہل امیدواروں کو مالی بحران میں مبتلا کر سکتا ہے بلکہ اس کے سبب اعلی تعلیمی سطح پر بھی اردو کے لئے کئی مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ یونیورسٹی اور کالج میں شعبہ ٔ اردو کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ جن یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اردو کے شعبے باقی ہیں وہاں تدریس پر مامور اساتذہ نما ملازمین اپنی ملازمت کے تئیں اس قدر عدم تحفظ کا شکار ہیں کہ زبان کی بقا کے لئے کوئی جوکھم اٹھانا ان کے بس سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۵؍ اگست کو ہی ہندوستان کی آزادی کیلئے کیوں چنا گیا؟
شمالی ہند میں کبھی اردو کا مرکز رہنے والے شہروں میں صورتحال اس حد تک دگر گوں ہے کہ یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ طلبہ کی تقاریب میں علی الاعلان کہتے ہیں کہ اردو پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں اور اس موقع پر اردو کی روٹی کھانے والے اساتذہ مہر بہ لب رہتےہیں اور سماج سے بھی کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔ اس خفت کو برداشت کرلینے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اساتذہ اردو زبان و ادب سے وابستہ ان بنیادی حقائق سے نابلد ہوتے ہیں جن سے زبان کا موثر دفاع کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ناساز گار حالات اور اردو کو ناپسند کرنے والے متعصب سیاست دانوں کی تمام ترسازشیں ملک کے لسانی تنوع کو کسی حد تک متاثر تو کر سکتی ہیں لیکن اردو زبان کی لسانی جاذبیت، عوامی وابستگی اور تہذیبی افتخار اسے ناپید ہونے سے محفوظ رکھے گا۔