• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرینہ کپور نے فلمی دنیا میں خاتون پولیس افسر کی ’مردانہ‘ شبیہ پر سوال قائم کیا

Updated: September 18, 2026, 6:02 PM IST | Mumbai

کرینہ کپور خان نے کہا کہ ’دائرہ‘ میں ڈی سی پی اجونی کوہلی لپ اسٹک لگاتی ہیں، مسکرا کر کام کرتی ہیں مگر سخت فیصلے کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتیں؛ اداکارہ نے روایتی تاثر سے ہٹ کر کردار نبھانے کی وجہ بتا ئی۔

Kareena Kapoor. Photo: INN
کرینہ کپور۔ تصویر: آئی این این

کرینہ کپور نے اپنی نئی فلم ’دائرہ‘ میں خاتون پولیس افسر کے کردار کے ذریعے بالی ووڈ میں رائج اس تصور پر سوال اٹھایا ہے جس میں مضبوط خاتون پولیس افسر کو عموماً سخت مزاج، مردانہ انداز رکھنے والی، بندوق اٹھانے اور ایکشن کرنے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ فلم میں کرینہ نے ڈی سی پی اجونی کوہلی کا کردار ادا کیا ہے، جو اپنی نسوانیت برقرار رکھتے ہوئے ایک سخت اور فیصلہ کن پولیس افسر کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ دہلی میں فلم کی تشہیر کے دوران کرینہ سے خاتون پولیس افسر کی روایتی فلمی شبیہ کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے خاتون پولیس افسر کی ایک روایتی تصویر بنا رکھی ہے کہ وہ قدرے مردانہ انداز رکھتی ہے، ایک خاص طرح سے چلتی ہے، بندوق اٹھا کر ایکشن کرتی ہے۔ لیکن ’دائرہ‘ میں اس کے برعکس ایک ایسی خاتون پولیس افسر دکھائی گئی ہے جو نسوانی ہے، لپ اسٹک لگاتی ہے، مگر اس کے باوجود انتہائی سخت ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: میکلمور تنازع کے بعد ایڈ شیرن کے ۵ء۱؍ لاکھ انسٹاگرام فالوورز کم، ریپر کو ۵ء۷؍ لاکھ کا فائدہ

کرینہ کے مطابق فلم کی حساس کہانی کو دیکھتے ہوئے ہدایت کار میگھنا گلزار ابتدا ہی سے چاہتی تھیں کہ مرکزی پولیس افسر ایک خاتون ہو، لیکن اس کردار کو محض طاقت کا مظاہرہ کرنے والی شخصیت نہ بنایا جائے۔ اجونی اپنے کام کو سنجیدگی سے انجام دیتی ہے، مگر ہر مسئلے کا جواب بندوق یا جسمانی طاقت سے نہیں دیتی۔ کرینہ نے کہا کہ اجونی ’’سیدھی راہ پر چلتی ہے، لیکن بندوق اٹھا کر ایکشن کرنا اس کے کردار کا حصہ نہیں ہے۔‘‘ اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ اجونی کو نبھانا ان کے لیے آسان نہیں تھا، کیونکہ فلم میں کردار کو مسلسل اخلاقی کشمکش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول حقیقی زندگی میں وہ معاملات کو سیاہ یا سفید زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتی ہیں، جبکہ ’دائرہ‘ میں حالات زیادہ پیچیدہ اور ’’سرمئی‘‘ ہیں۔ 
’دائرہ‘ میں پرتھوی راج سوکمارن نے بھی پولیس افسر کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کردار ڈی سی پی رمن کمار اجونی کے کردار سے انصاف اور سزا کے طریقۂ کار پر مختلف نقطۂ نظر رکھتا ہے۔ فلم اسی اختلاف کے ذریعے یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جرم کے بعد سزا کس طرح طے ہونی چاہیے اور قانون اور انصاف کے درمیان موجود فرق کو کیسے سمجھا جائے۔ پرتھوی راج نے فلم کے بارے میں کہا کہ کہانی صرف اصل جرم کے واقعے تک محدود نہیں بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والے سوالات پر توجہ دیتی ہے۔ ان کے مطابق فلم ’’جرم، سزا کی مقدار، انصاف اور انصاف فراہم کیے جانے کے طریقے‘‘ کو موضوع بناتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:اجمیر میں شاہ رخ خان کے ۵۰۰۰؍ روپے گم ہوئے، فقیر نے ۵۰۰؍ کروڑ کی پیش گوئی کی تھی

میگھنا گلزار نے بھی واضح کیا کہ ان کی فلموں میں قانون، جرم اور انصاف جیسے موضوعات کا بار بار آنا کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فلم کی طرف ان کی توجہ کا بنیادی سبب ’’انسانی پہلو‘‘ ہوتا ہے، جبکہ قانون، انصاف، جرم اور سزا جیسے بڑے موضوعات بعض اوقات کہانی کے ساتھ ازخود جڑ جاتے ہیں۔ ’دائرہ‘ کئی حقیقی واقعات اور جرائم و پولیس کارروائیوں سے متاثر ایک پولیس تفتیشی ڈراما ہے۔ کہانی میں ایک اجتماعی عصمت دری اور اس کے بعد قتل کے معاملے کی تحقیقات کے دوران دو پولیس افسران کے مختلف نظریات سامنے آتے ہیں۔ فلم کو میگھنا گلزار نے ہدایت دی ہے جبکہ اسے جنگلی پکچرز اور پین اسٹوڈیوز نے پیش کیا ہے۔ فلم ۱۸؍ ستمبر ۲۰۲۶ء یعنی آج سنیما گھروں میں ریلیز ہوچکی ہے۔ کرینہ کے لیے ’دائرہ‘ دو سال بعد بڑے پردے پر واپسی بھی ہے۔ ان کی آخری فلم ’سنگھم اگین‘‘ ۲۰۲۴ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ ’دائرہ‘ میں ان کا کردار ایک ایسی پولیس افسر کی تصویر پیش کرتا ہے جس کی پیشہ ورانہ سختی کو اس کی ظاہری نسوانیت سے الگ نہیں کیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK