• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ پر بلڈوزروں کا سایہ

Updated: September 18, 2026, 4:52 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ووکر ٹرک (Volker Turk)اقوام متحدہ کے شعبۂ حقوق انسانی کے سربراہ ہیں۔ ان کے ایک حالیہ بیان سے غزہ کی موجودہ صورت حال کا احساس ہوتا ہے کہ حکومت ِ اسرائیل نے زندوں کے ساتھ تو بہت بُرا سلوک کیا مگر اب اُتنا ہی بُرا سلوک اُن لوگوں کے ساتھ بھی کررہی ہے جن کے جسد خاکی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ووکر ٹرک (Volker Turk)اقوام متحدہ کے شعبۂ حقوق انسانی کے سربراہ ہیں۔ ان کے ایک حالیہ بیان سے غزہ کی موجودہ صورت حال کا احساس ہوتا ہے کہ حکومت ِ اسرائیل نے زندوں کے ساتھ تو بہت بُرا سلوک کیا مگر اب اُتنا ہی بُرا سلوک اُن لوگوں کے ساتھ بھی کررہی ہے جن کے جسد خاکی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ان نعشوں کو ملبہ سے نکال کر تجہیزو تکفین کے عمل سے گزارا جانا چاہئے۔ یہ ان کا حق ہے مگر حکومت اسرائیل، جو ناکردہ گناہی کی سزا دینے کے ریکارڈ قائم کرچکی ہے، اس بنیادی انسانی احترام کی بھی روادار نہیں ہے۔ یہ اگر کسی چیز کی روادار ہے تو جنگ کی، وحشیانہ ظلم کی اور ایذا پہنچا کر حظ اُٹھانے اور اپنا الو سیدھا کرنے کی۔ ووکر ٹرک نے کہا ہے کہ ’’بمباری سے منہدم ہونے والے غزہ کے مکانات کا ملبہ بلڈوزروں کے ذریعہ ہٹایا جارہا ہے۔ یہ کام جنگی پیمانے پر جاری ہے۔ اس مہم کے دوران یہ دیکھنے تک کی زحمت نہیں کی جارہی ہے کہ آیا ملبے کے نیچے لاشیں ہیں۔ اگر ہیں تو ان کے ساتھ احترام کا معاملہ کیا جانا چاہئے۔ ‘‘ واکر ٹرک کا مطالبہ انسانیت کا کم ترین تقاضا ہے مگر اسرائیل کو یہ بھی منظور نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی گرتی معاشی ساکھ

آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ غزہ میں ۵۰؍ تا ۶۰؍ ملین ٹن ملبہ پڑا ہوا ہے۔ اس ملبے کو ہٹانے کیلئے بلڈوزروں اور ہیوی مشینری کا استعمال کیا جارہا ہے۔مکانات کے ملبے کی وجہ سے سڑکوں اور راستوں سے آمدو رفت تو بند ہے ہی، ان کے نیچے انسانی لاشیں دبی ہوسکتی ہیں کیونکہ ایک اندازے کے مطابق ۸؍ تا ۱۱؍ ہزار لاشیں اب تک ملی نہیں ہیں۔وہ لوگ جو بچ گئے اس انتظار میں ہوسکتے ہیں کہ شاید ملبے سے اُن کے عزیزوں کی لاشیں نکل آئیں، اگر ایسا ہوا تو وہ ناکافی وسائل کے باوجود اُنہیں عزت و احترام کے ساتھ اُن کی آخری منزل تک پہنچائیں گے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ حکومت ِ اسرائیل اور اس کی فوج دشمنی کی آخری حد تک بھی جانے کو تیار ہیں خواہ اس کیلئے لاشوں کی بے حرمتی کرنی پڑے یا بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی، اگر وہ ضابطے اب بھی نافذ ہیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اسے کوئی روکتا ٹوکتا نہیں ہے۔ روکنے ٹوکنے کا عمل ناپیدنہ ہوگیا ہوتا تو سفارتی سختی کے ذریعہ ہی اس کی عقل ایک دن میں ٹھکانے پر لائی جاسکتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی کتنی ہرجائی!

بلڈوزوں اور بھاری مشینوں کے ذریعہ ملبہ ہٹانے کے کام میں حکومت ِ اسرائیل کی خاص دلچسپی اس لئے بھی ہے کہ ملبے کے ساتھ اس کے جرائم کے نشانات بھی ہٹ جائیں۔ جرائم کی نوعیت کا اندازہ بھی شواہد کی نوعیت سے ہوگا اس لئے ملبے کی صفائی کا عمل نہایت ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہئے، اس کی ویڈیو گرافی ہونی چاہئے اور ایک ایک ثبوت کو درج کیا جانا چاہئے۔ فلسطینی اور حقوق انسانی رضاکاروں نے اس عمل پر سوال اُٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل بہت منظم طریقے سے جرائم کے شواہد کو مٹا رہا ہے۔ اسی ملبے میں لوگوں کی ایسی اشیاء بھی دبی ہوئی ہیں جن سے اُن کی نہایت قیمتی یادیں وابستہ ہیں۔ وہ چیزیں بھی ہیں جنہیں نسل در نسل بہت سنبھال کر رکھا گیا کہ یہ پشتینی یادگاریں ہیں۔ پہلے غزہ کے لوگوں کی زندگیاں چھینی گئیں، اب باقیماندہ لوگوں کو شدید ذہنی و جذباتی ایذا پہنچائی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK