Updated: September 18, 2026, 5:06 PM IST
| New Delhi
گزشتہ روز (جمعرات) رضیہ سلطان اسماعیل عباسی کا ۸۷؍ برس کی عمر میں نوئیڈا کے بزرگوں کی نگہداشت مرکز میں انتقال ہوا۔ انہوں نے انڈین ایکسپریس سے اپنا صحافتی سفر شروع کیا تھا۔ یونیسف میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد انڈیا الائنس فار چائلڈ رائٹس قائم کیا تھا۔
بچوں کے حقوق کی سرگرم کارکن رضیہ سلطان اسماعیل عباسی۔ تصویر: ایکس
ملک کی ممتاز خاتون صحافی اور بچوں کے حقوق کی سرگرم کارکن رضیہ سلطان اسماعیل عباسی جمعرات کی صبح ۸۷؍ برس کی عمر میں نوئیڈا کے ایک بزرگوں کی نگہداشت مرکز میں انتقال کر گئیں۔ وہ گزشتہ چند برس سے وہیں مقیم تھیں۔فالج کے بعد ان کی صحت متاثر ہوئی تھی۔ ان کے پسماندگان میں ان کی بڑی بہن شامل ہیں۔ رضیہ اسماعیل کا صحافتی سفر ۱۹۶۰ء کی دہائی کے اواخر میں شروع ہوا، جب انہوں نے دہلی آکر انڈین ایکسپریس میں کام کیا۔ اس سے قبل وہ چنڈی گڑھ یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں تدریس سے وابستہ تھیں۔ انڈین ایکسپریس میں انہوں نے ترقیاتی مسائل پر تفصیلی اور تحقیقی مضامین لکھے اور خارجہ امور بھی کور کیے۔ ۱۹۷۱ء میں وہ ورلڈ پریس انسٹی ٹیوٹ کے پروگرام کے لیے منتخب ہونے والی پہلی ہندوستانی خاتون صحافی بنیں۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: سقوطِ حیدرآباد کے عنوان سے اجلاس، حیدرآباد کےمورخین اور ماہرین کا خطاب
صحافت کے بعد ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا بڑا حصہ یونیسف سے وابستہ رہا۔ وہ یونیسف انڈیا میں مواصلات کی سربراہ اور نائب ملکی سربراہ کے عہدے تک پہنچیں۔ بچوں کے مسائل پر ان کی توجہ خاص طور پر غریب، محروم اور سڑکوں پر زندگی گزارنے والے بچوں کی حالت کی طرف رہی۔ اقوام متحدہ میں انہوں نے ایسے متعدد پینلز کی سربراہی کی جن کا مقصد بچوں کے مسائل کو عالمی پالیسی کے مرکز میں لانا تھا۔ رضیہ اسماعیل ان ابتدائی کارکنوں میں شامل تھیں جنہوں نے بچوں کی جنسی تناسب، جنس کے انتخاب، کم عمری کی شادی اور چائلڈ لیبر جیسے مسائل پر عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔ دہلی میں یونیسف کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے سڑکوں پر رہنے والے بچوں کے استحصال کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، ان کی دلچسپی محض سرکاری ذمہ داریوں تک محدود نہیں تھی؛ وہ بچوں کو سڑکوں سے نکال کر اسکول تک پہنچانے کی کوشش کرتیں اور ضرورت پڑنے پر اپنی جیب سے بھی مدد فراہم کرتی تھیں۔
۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۵ء تک وہ ورلڈ وائی ڈبلیو سی اے کی صدر رہیں اور اس عالمی تنظیم کی پہلی ایشیائی صدر تھیں۔ بچوں اور خواتین کے حقوق سے متعلق ان کی سرگرمیاں ہندوستان تک محدود نہیں رہیں۔ ۱۹۹۹ء میں انہوں نے ویمنز کولیشن ٹرسٹ اور ۲۰۰۲ء میں انڈیا الائنس فار چائلڈ رائٹس کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ یونیسف سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بچوں کے حقوق کے لیے ان کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ انڈیا الائنس فار چائلڈ رائٹس کی سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے حکومت کے ساتھ مل کر بچوں کے حقوق سے متعلق متبادل رپورٹ تیار کرنے میں کام کیا، جسے جنیوا میں اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کے سامنے پیش کیا گیا۔ ۲۰۰۷ء میں قومی کمیشن برائے تحفظ حقوقِ طفل کے قیام کے بعد بھی وہ اس کے اجلاس میں شرکت کرکے بچوں سے متعلق اقدامات کے لیے مشورے دیتی رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فٹبال کھلاڑی اور لفافہ: ممتا بنرجی کے کیمپ اور باغیوں کو نیا نام اور نشان الاٹ
ان کی زندگی کا ایک اور اہم پہلو عالمی وائی ڈبلیو سی اے سے ان کا طویل تعلق تھا۔ وہ ۱۹۸۳ء سے ۱۹۹۹ء تک اس کی عالمی ایگزیکٹو کمیٹی سے وابستہ رہیں اور ۱۹۹۱ء میں صدر منتخب ہوئیں۔ ورلڈ پریس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، صحافت میں واپسی کے بعد انہوں نے کرسچن سائنس مانیٹر کے لیے بھی لکھا اور ۱۹۷۶ء میں یونیسف سے وابستہ ہوگئیں۔ رضیہ اسماعیل کی شخصیت کا نرم اور گھریلو پہلو بھی ان کے قریبی ساتھیوں کی یادوں میں نمایاں ہے۔ ان کی سالگرہ ۲۵؍ دسمبر کو یعنی کرسمس پر ہوتی تھی۔ صحافت اور سماجی خدمت کے درمیان ان کی زندگی کا سفر کئی دہائیوں پر محیط رہا۔ ایک طرف انہوں نے ترقیاتی مسائل اور خارجہ امور پر رپورٹنگ کی، دوسری طرف یونیسف اور عالمی اداروں کے پلیٹ فارم سے بچوں کے حقوق کے لیے پالیسی سطح پر کام کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے بچوں کے حقوق کی وکالت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے رکھا۔ انڈین ایکسپریس کی یادگاری تحریر کے مطابق، وہ اپنے پیچھے ایسی پالیسیاں اور ان زندگیوں کی یاد چھوڑ گئی ہیں جن میں ان کی کوششوں سے تبدیلی آئی۔