Updated: September 18, 2026, 5:07 PM IST
| New Delhi
دہلی یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات جاری ہیں۔ کیمپس میںمختلف قسم کی انتخابی سرگرمیاں ، ریلیاں اور انتخابی مہمات جاری ہیں جن کے پیش نظر یونیورسٹی کے متعدد کالجوں میں طلبہ کے درمیان جھڑپوں اور تشدد کے کئی واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔ ان پر دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو پھٹکار لگائی اور دہلی پولیس، یونیورسٹی انتظامیہ سمیت مرکزی حکومت سے بھی جواب طلب کیا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (DUSU) انتخابات میں انتخابی مہم کے دوران ہونے والے تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ تاہم خبردار کیا ہے کہ اگر عدالت، یونیورسٹی، دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کے جوابات سے مطمئن نہ ہوئی تو ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان پر روک لگائی جا سکتی ہے۔ بدھ کو انتخابی مہم کے آخری دن کیمپس میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر سماعت کررہے دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تبصرہ کرتے ہوئے سخت الفاظ میںکہا کہ ’’بس اب بہت ہو گیا۔‘‘ عدالت نے یونیورسٹی، پولیس اور مرکزی حکومت کو جمعہ تک اس تشدد کے ذمہ دارافراد کے خلاف کی گئی کارروائی سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فٹبال کھلاڑی اور لفافہ: ممتا بنرجی کے کیمپ اور باغیوں کو نیا نام اور نشان الاٹ
بدھ کو پیش آنے والے واقعات میں، موتی لال نہرو کالج میں انتخابی مہم میں شامل طلبہ کے ایک گروہ نے کالج میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی اور روکے جانے پر ایک استاد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس میں `لاء سینٹر ون کے باہر انتخابی بینرز ہٹانے کے تنازع پر پرتشدد جھڑپ ہوئی۔ آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی نے الزام لگایا کہ اس کے تین اراکین زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے دعویٰ کیا کہ اے بی وی پی کے کارکنوں نے کالج کے باہر ان کے ایک طالب علم پر حملہ کیا، تاہم اے بی وی پی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ اس کے علاوہ سری اروبندو کالج اور دیگر کالجوں سے بھی جھڑپوں اور تکرار کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ ان انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری (جمعہ)ہے جبکہ ووٹوں کی گنتی ہفتے کے دن کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: منی پور کے راحتی کیمپوں میں ۳۰؍سے زائد اموات پر سپریم کورٹ کے سنگین سوالات
جمعرات کو سماعت کے دوران عدالت نے نوٹ کیا کہ یونیورسٹی اور پولیس مسلسل یہ یقین دہانی کراتے رہے تھے کہ پرانے واقعات کا اعادہ نہیں ہوگا، لیکن عدالت کے سامنے پیش کردہ معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکام، طلباء اور انتظامیہ انتخابات کو پرامن طریقے سے کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ طلبہ انتخابی سرگرمیوں کے نام پراپنے ہی اساتذہ کو پیٹ رہے ہیں اور بندوقیں لہرا رہے ہیں، یا پھر یونیورسٹی صاف کہہ دے کہ وہ کچھ بھی کنٹرول نہیں کر سکتی۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات اور عدالتی احکامات کےبار بار خلاف ورزی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ۲۰۰۵؍ میں طلبہ انتخابات میں تشدد اور بدنظمی کو روکنے، امیدواروں کی عمر کی حد طے کرنے اور تعلیمی اداروں کو سیاسی جماعتوں کے اثر و رسوخ سے پاک رکھنے کی تدابیر تجویز کرنے کیلئے لنگدوہ کمیٹی تشکیل دی تھی۔