Updated: February 28, 2026, 6:07 PM IST
| Mumbai
کیرالا ہائی کورٹ سے قانونی منظوری ملنے کے ایک دن بعد ’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ ریاست بھر میں خاموشی سے ریلیز ہوئی، مگر تنازع اور سیاسی بحث کے باوجود تھیٹروں میں ناظرین کی تعداد انتہائی کم رہی۔ کئی شوز منسوخ کرنے پڑے جبکہ سیاسی جماعتوں کے احتجاج نے ماحول کو مزید حساس بنا دیا۔
کیرالا اسٹوری ۲؍ کا پوسٹر۔ تصویر: آئی این این
کیرالا ہائی کورٹ نے ڈویژن بنچ کے ذریعے فلم کی نمائش کی اجازت دی، جس کے بعد ’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ ریاست میں ریلیز ہو سکی۔ اس سے قبل سنگل بنچ نے اعتراضات کے بعد فلم کی ریلیز پر ۱۵؍ دن کی عارضی روک لگا دی تھی۔ ڈویژن بنچ کے فیصلے نے قانونی رکاوٹ دور کر دی، مگر تنازع نے ریاست میں سیاسی و سماجی تقسیم کو نمایاں کر دیا۔ تنازع کے باوجود فلم باکس آفس پر رفتار حاصل نہ کر سکی:
(۱) کوزی کوڈ کے ریگل تھیٹر میں پہلے شو کے لیے صرف دو ٹکٹ فروخت ہوئیں، شو منسوخ کرنا پڑا۔
(۲) ایرناکولم میں سات تھیٹروں میں ناظرین کی تعداد بہت کم رہی۔
(۳) پی وی آر کوچی میں صرف دو ٹکٹیں فروخت ہوئیں۔
(۴) پین سنیماز ایک شو کے لیے چھ بکنگ ہوئیں۔
(۵) شینویز تھیٹر، کوچی میں صبح کی اسکریننگ میں نہ ہونے کے برابر حاضری رہی۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کے باوجود عوامی دلچسپی محدود رہی۔
یہ بھی پڑھئے: اہان پانڈے میں ہے اولڈاسکول رومانوی ہیرو جیسی دیانتداری ہے: علی عباس ظفر
سیاسی ردعمل اور احتجاج
ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا ، جو سی پی آئی (ایم) کی یوتھ ونگ ہے، نے کوچی، تھریسور اور کنور میں سنیماگھروں کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرے پرامن رہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’’ہم کسی کو فلم دیکھنے سے نہیں روکیں گے، ابھی تک کوئی نہیں آیا۔‘‘
کیرالا کے وزیر اعلیٰ پنارائے وجین نے پہلے ہی فلم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کو ’’تقسیم یا مسخ شدہ انداز میں پیش کرنا قابل قبول نہیں۔‘‘ دوسری جانب بی جے پی کے سینئر لیڈر اور میگھالیہ کے سابق گورنر کمانم راج سیکھرن نے فلم دیکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’یہ نہیں کہ کتنے لوگ دیکھتے ہیں، بلکہ فلم کیا کہتی ہے۔‘‘
فلم کی ریلیز سے قبل شدید قانونی اور سیاسی کشمکش نے اسے خبروں میں ضرور رکھا، مگر یہ توجہ تھیٹر کی نشستیں بھرنے میں ناکام رہی۔ کیرالا جیسے سیاسی طور پر حساس اور باشعور ریاست میں ناظرین کا رویہ محض تنازع سے متاثر نہیں ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ریاست سے باہر فلم کو بہتر ردعمل ملے گا یا ابتدائی سست شروعات ہی مجموعی کارکردگی کا رخ متعین کرے گی؟