• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاک افغان تصادم: ٹرمپ کا امن کیلئے ثالثی کا اشارہ

Updated: February 28, 2026, 6:07 PM IST | Kabul

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اشارہ دیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری مہلک سرحدی جھڑپوں میں مداخلت پر غور کر سکتے ہیں، دوسری جانب افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔

Afghan government spokesman Zabihullah Mujahid ` Photo: X
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں پاک افغانستان کے مابین جاری مسلح تصادم کو ختم کرنے کیلئے اپنی معاونت کا اشارہ دیا ہے، انہوں نے کہا، ’’جی ہاں، میں کروں گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میری پاکستان کے ساتھ بہت اچھی دوستی ہے،‘‘ ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔ ’’آپ کے پاس ایک عظیم وزیراعظم ہیں۔ آپ کے پاس وہاں ایک عظیم جنرل ہے... میرے خیال میں پاکستان بہت اچھا کام کر رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: افغانستا ن اور پاکستان کا ایک دوسرے پر حملہ

واضح رہے کہ بدھ کو کابل کی جانب سے پاکستان کے خلاف سرحدی حملے شروع کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، جس کے نتیجے میں اسلام آباد نے افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے۔اس تصادم کے نتیجے میں سرحدوں کے دونوں جانب کل ۴۸؍ ہلاکتوں کی اطلاع ہیں۔ بعد ازاں افغان حکومت نے جمعے کے روز کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ’’مکالمے اور امن‘‘ کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتی ہے۔افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جنوبی شہر قندھار میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا،’’ ہم نے بار بار پرامن حل پر زور دیا ہے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ مسئلہ مکالمے سے حل ہو۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کے خاندان کا پابندیوں پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

مجاہد نے اسلام آباد کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ پاکستانی طالبان افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر حملے کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اور کہا کہ کابل اب بھی اپنے اس عزم پر قائم ہے کہ وہ کسی بھی فرد یا گروہ کو کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا،’’ پاکستان کی اندرونی جنگ مکمل طور پر اس کا داخلی معاملہ ہے اور کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے،ہماری خارجہ پالیسی باہمی احترام پر مبنی ہے، اور ہم کسی کے خلاف نقصان اور دشمنی کا راستہ اختیار کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ’’مسائل کو مکالمے سے حل کرنے کی کوئی خواہش نہیں دکھائی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK