Updated: August 26, 2026, 5:06 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن رکھشا بندھن کے موقع پر زیورات کے برانڈ جیوا( GIVA) کے لیے بنائی گئی تشہیری مہم تنازع کا شکار ہوگئی۔ اداکارہ کے لباس پر سوشل میڈیا کے ایک حلقے کی جانب سے شدید اعتراضات کے بعد برانڈ نے اشتہار کو اپنے تمام میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا ہے۔
کریتی سینن۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن رکھشا بندھن کے موقع پر زیورات کے برانڈ جیوا( GIVA) کے لیے بنائی گئی تشہیری مہم تنازع کا شکار ہوگئی۔ اداکارہ کے لباس پر سوشل میڈیا کے ایک حلقے کی جانب سے شدید اعتراضات کے بعد برانڈ نے اشتہار کو اپنے تمام میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا ہے۔ اس اشتہار میں کریتی سینن تہوار کے موقع پر اپنے آن اسکرین بھائی کو راکھی باندھتی دکھائی دی تھیں۔ انہوں نے آف وائٹ رنگ کا بریلیٹ اسٹائل بلاؤز، کیپ اور ڈریپڈ اسکرٹ پہن رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:نیپال: وزیراعظم بالین شاہ کو پارلیمنٹ میں کالا چشمہ پہننے کی اجازت
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اعتراض کیا کہ روایتی تہوار کے اشتہار میں اس طرح کا لباس مناسب نہیں تھا۔ اشتہار کے جدید اور روایتی امتزاج نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔تنقید کے بعد کریتی سینن نے سوشل میڈیا پر اپنے لباس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی خاتون کی ثقافت یا احترام کو صرف اس کے لباس سے نہیں پرکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خواتین کو یہ بتانا کب بند کیا جائے گا کہ انہیں کیا پہننا چاہیے؟ ان کا مؤقف تھا کہ تہواروں کی اصل اہمیت جذبات، رشتوں اور روایات سے جڑی ہوتی ہے، صرف لباس سے نہیں۔
اس تنازع میں اداکارہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت بھی شامل ہوگئیں۔ انہوں نے اشتہار پر سوال اٹھاتے ہوئے کریتی کے لباس کو رکھشا بندھن جیسے تہوار کے لیے نامناسب قرار دیا۔ کنگنا کے تبصرے کے بعد یہ معاملہ مزید سوشل میڈیا بحث کا موضوع بن گیا۔ دوسری جانب کریتی کی بہن نوپور سینن نے بھی اداکارہ کا دفاع کیا اور کہا کہ راکھی باندھنے کا عمل ان کے درمیان ذاتی خاندانی معاملہ ہے اور لوگوں کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ تنازع بڑھنے کے بعد جیوا نے اشتہار واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ برانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے ہندوستانی ثقافت، روایات اور تہواروں کا انتہائی احترام ہے اور اگر مہم سے کسی کے جذبات غیر ارادی طور پر مجروح ہوئے ہیں تو وہ اس پر معذرت خواہ ہے۔ برانڈ نے واضح کیا کہ اسی احترام کے تحت اس نے اشتہار کو اپنے میڈیا پلیٹ فارمز سے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اے کے ہنگل فلموں کے سدا بہار ’انکل‘ تھے
یہ معاملہ صرف ایک اشتہار تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے خواتین کی مرضی، لباس کی آزادی، ثقافتی روایات اور تہواروں کی تشہیر میں حساسیت کے حوالے سے بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ روایتی تہواروں کی تشہیر میں ثقافتی حساسیت کا خیال رکھا جانا چاہیے، جبکہ دوسری جانب کریتی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ خواتین کے لباس کو ان کی ثقافت، کردار یا احترام کا پیمانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔