رسول کریمﷺ کے اسوۂ حسنہ سے ہمیں درس ملتا ہے کہ دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئے۔ آمد ِ رسولؐ کے جشن کے موقع پر یہ عزم کرنا چاہئے کہ دوسروں کیلئے راہ ہموار کریں گے اور اس کی ابتدا اپنے گھر سے کریں گے۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 3:49 PM IST | Khaleda Fodkar | Mumbai
رسول کریمﷺ کے اسوۂ حسنہ سے ہمیں درس ملتا ہے کہ دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئے۔ آمد ِ رسولؐ کے جشن کے موقع پر یہ عزم کرنا چاہئے کہ دوسروں کیلئے راہ ہموار کریں گے اور اس کی ابتدا اپنے گھر سے کریں گے۔
ہم جو ہر معاملے میں اپنے لئے رب سے آسانیاں مانگتے ہیں اور بندوں سے بھی ایسی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے معاملات میں نرمی برتیں تو کیا یہی رویہ ہم دوسروں کیلئے روا رکھتے ہیں؟ ان کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں؟ کیا ہم نے یہ سوال کبھی اپنے آپ سے پوچھا ہے؟ اگر نہیں تو اپنے ضمیر کی عدالت میں خود کو پیش کریں اور ایک بار یہ سوال ضرور پوچھیں۔ اس سوال کا مثبت یا منفی جواب ہماری شخصیت، کردار اور انسانیت نوازی کا پیمانہ بن سکتا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں اپنا محاسبہ ضرور کرنا چاہئے کہ اپنی دانست میں ہم نیک، مخلص اور متواضع بنے رہتے ہیں مگر اکثر نادانستگی میں یا عادتاً ایسے کئی کام سرزد ہو جاتے ہیں جو کسی کیلئے آزار اور مشکل کا سبب بن جاتے ہیں جیسے تلخ رویے، سخت باتیں، یکطرفہ فیصلے یا غیر منصفانہ اقدام وغیرہ۔ مخلوق خداکیلئے آسانیاں پیدا کرنے کے ضمن میں ہم مسلمانوں کیلئے رسول کریمﷺ کی سراپا رحمت و آسانی سے معمور حیات طیبہ اور پاکیزہ تر اسوۂ حسنہ ہی جامع و مستند چارٹر ہے جو انسانوں کی کامل تربیت کیلئے ہر دور میں کافی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا‘‘
اس نفسا نفسی کے دور میں اخلاص، نرمی اور دیانت سے بڑا کوئی منتر نہیں ہے جو معاشرے میں رواج پا رہی نا انصافی اور بے سکونی میں آسانیاں پیدا کرسکنے کا اہل ہو۔ ہر شعبے اور ہر میدان عمل میں خلوص اور ایمانداری کی کار فرمائی ہو تو معاشرے میں بھروسے اور اعتماد کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ عدل و انصاف اور روا داری سے معمور معاشرہ افراد کی زندگیوں کو سہولت و آسانی کا احساس عطا کرتا ہے۔ آسانیاں بانٹنے کا عمل بھی بارش کے قطروں جیسا ہے جو ایک قطرہ سے شروع ہو کر عالم کو سیراب کرتا ہے ویسے ہی فرد واحد سے شروع ہونے والی خیر رفتہ رفتہ اجتماعی خیر میں بدل جاتی ہے۔
اکثر یہ سوال بھی روبرو ہوتا ہے کہ ہم کس طرح آسانیاں بانٹنے والے بنیں اور اس کے لئے کیا کچھ درکار ہے؟ جس کا جواب یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ذات اور اپنے گھر سے اس کی ابتدا کرسکتا ہے۔ اس کے لئے نہ تو اپنا مال و متاع لٹانے کی حاجت ہے اور نہ کسی ایسی جدوجہد کی جو استطاعت سے باہر ہو۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ظرف کی جانچ کریں کہ ہمارے مزاج اور برتاؤمیں سختی تو نہیں؟ ہم دوسروں کی حق تلفی تو نہیں کرتے؟ غصے اور اشتعال میں ہم بد تہذیب تو نہیں ہوجاتے؟ ذاتی منافعت اور حرص و طمع کے زیرِ اثرہم ناانصافی سے کام تو نہیں لیتے؟
یہ بھی پڑھئے: میک اَپ ریموور گھر پر ہی تیار کیا جاسکتا ہے
اگر ان سوالوں کے جواب نفی میں ہوں، اہل خانہ، دوستوں، رشتہ داروں اور ماتحتوں سے ہمارے تعلقات نرمی، درگزر اور سمجھوتے پر مبنی ہوں تو یقیناً ہم آسانی بانٹنے والوں شامل ہیں۔
ایک سوال یہ کہ اپنے گھر سے شروع ہونے والی آسانیاں کیا ہوسکتی ہیں؟
باہر سے آنے پر بے صبری کے عالم میں دروازہ پر زور زور سے دستکیں دینا یا مسلسل ڈور بیل بجاتے جانا ایک ایساعمل ہے جو اہل ِ خانہ اور پڑوسیوں کو نہ صرف بے آرام کرتا ہے بلکہ ان کیلئے سختی اور کوفت کا باعث بھی ہوسکتا ہے، اس کے برعکس دروازے پر ایک دستک دے کر صبر سے دروازہ کھلنے کا انتظار کیا جائے تو یہ آسانی ہے۔
اپنے ذاتی کاموں کے لئے ماؤں، بہنوں یا بیوی بچوں کو ہمہ وقت مصروف رکھنے کو عموماً برا نہیں سمجھا جاتا جبکہ گھر کے دیگر کاموں کے بوجھ کے ساتھ ہماری ذاتی خدمت ان پر اضافی بار ہوتی ہے لہٰذا ان کی تھکن کا احساس کرتے ہوئے خود اٹھ کر پانی پی لینا، اپنے کپڑے استری کر لینا، اپنا کمرہ اور سامان سمیٹ لینا آسانی بانٹنا ہے۔
والدین، استاد، بزرگوں کی نصیحت یا سرزنش تلخ لگے پھر بھی ناگواری کے اظہار کے بغیر اسے صبر سے سن لینا آسانی ہے۔
کھانا پسند نہ آنے پر دستر خوان پر حرف شکایت بلند نہ کرنا، بیوی، بچوں، ملازموں یا ماتحت افراد کو سر عام ڈانٹ ڈپٹ نہ کرنا، سزا کا اختیار ہوتے ہوئے بھی کسی کی معمولی خطا کو معاف کرنا بھی آسانی ہے۔
غصے اور طیش کی حالت میں انسان اپنے مشتعل جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے، اس حال میں دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے گالی گلوج سے پرہیز اور تحمل رکھنا آسانی فراہم کرنا ہے۔
ہر مایوس اور پریشان حال فرد مالی امداد کا محتاج نہیں ہوتا، بیشتر کے کاندھے پر دلاسے اور محبت کی ایک تھپکی یا ہمت بندھانے والا ایک جملہ بھی غنیمت ہوتا ہے۔ کسی کے راز جان کر انہیں اپنے دل میں محفوظ رکھنا، جب زبان کسی کی عزت تار تار کرسکتی ہو تب خاموشی کو چن لینا، لہجے کو نرم رکھنا، کسی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا یہ ایسی کچھ آسانیاں ہیں جو کردار سے ادا ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اچھی کتابیں پڑھنے سے نسلیں با شعور اور صاحبِ فکر بنتی ہیں
اس کے علاوہ کسی غریب حاجت مند کی بیٹی کے رشتے کے لئے کوشش کرنا، مستحق طلبہ کے تعلیمی خراجات کی کفالت کرنا، کسی بےگھر کیلئے چھت کا انتظام کرنا، قرضداروں کو سہولت دینا۔ چھوٹے درجے کے ملازمین، پھیری والوں کو کسی معزر لقب سے پکارنا، ماتحتوں کی جانب سے سلام کا انتظار کئے بغیر خود سلام میں پہل کرنا، ان کا حال احوال پوچھنا بھی آسانی فراہم کرنے کی عملی تفسیر ہے۔
کسی رشتہ دار کے گھر یا کسی دعوت و محفل میں خود کیلئے نمایاں اور مخصوص نشست و مرتبے کی توقع رکھنا میزبانوں کو مشکل میں ڈالنے والا طرز عمل ہے اسکے برعکس کسی کمی بیشی کو اَنا کا مسئلہ نہ بناتے ہوئے انکساری برتنا میزبانوں کے تئیں آسانی ہے۔
ہمارا معاشرہ بھی ہماری جانب سے آسانیوں اور ماحولیاتی شعور کی پاسداری کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں قدرتی وسائل اور عوامی ملکیت کو نقصان نہ پہنچاتے ہوئے بہتر طریقے سے استعمال کرنا، ٹریفک قوانین کی پابندی، قطار میں کھڑے ہونے کے اصول پر عمل کرنا، بلا وجہ ہارن بجانے اور لاؤڈ اسپیکروں پر تیز موسیقی جیسی صوتی آلودگی پھیلانے سے احتراز معاشرے کو جس سکون و راحت کا احساس عطا کرتا ہے وہ بھی ایک طرح کی آسانی ہے۔
آج کے تعصب و بدعنوانی سے بھرے ماحول میں پروفیشنل افراد جیسے استاد، ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، سیاسی، حکومتی و انتظامی امور سے منسلک افراد اپنے دائرۂ اختیار میں آنیوالے لوگوں کیساتھ ہمدردی اور اپنے منصب کیساتھ پیشہ ورانہ ایمانداری برتیں تو تعصب، اقربا پروری اور رشوت خوری جیسی برائیوں سے معاشرہ پاک ہوسکتا ہے۔ سماج اور لوگوں کی خیر خواہی میں شامل ہونا نیز اپنے تعلقات، وسائل و رسوخ کو انسانیت کی فلاح کیلئے استعمال کرنا یہ سب آسانیاں بانٹنے کی مختلف صورتیں ہیں۔
خدمت خلق اور کار خیر کی ہزار راہیں ہیں اور ہر راہ ایک آسانی کا در کھولتی ہے۔ اگر ہماری نیت صاف اور دل خلوص و محبت سے بھرا ہو تو یہ راہ بہت آسان ہے۔ ہمارے معاشرے میں بیشتر افراد ایسے موجود ہیں جن کی زندگیوں میں پہلے ہی کئی مشکلات اور آزمائشیں ہیں۔ ہمارے سخت تیور، ضدی مزاج، حسد، تلخ کلامی و ترش روئی ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث ہوتے ہیں لہٰذا ہمارا رویہ اور برتاؤ ایسا ہو جو دوسروں کے لئے راحت اور سکون کا باعث ہو نیز خانگی، معاشرتی، کاروباری اور شہری فرائض کی ادائیگی میں سب کے لئے آسانیوں کی ترویج کرنے والا ہو۔
اپنے جذبات، عادات و اطوار کو صبر و تہذیب کے دائرے میں رکھ کر خلق خدا اور انسانیت کی جو بھی خدمت کی جائے وہ سب آسانیوں میں شمار ہوں گی۔ انصاف پسندی، ہمدردی اور تحمل جیسے اوصاف کو اپنا کر ہم آسانی بانٹنے والوں میں ضرور شامل ہوسکتے ہیں۔
زندگی کی مشکلات میں اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بنانا ہی منزل تک پہنچنے کی سبیل ہے۔