Updated: August 26, 2026, 6:21 PM IST
| Ahmedabad
گجرات کے احمد آباد میں ایک نجی اسکول کی مطالعاتی فہرست سے ملالہ یوسف زئی اور این فرینک کی کتابیں نکالے جانے پر تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ سول سوسائٹی اور طلبہ و اساتذہ نے حکومتی مداخلت اور دائیں بازو کی تنظیموں کے احتجاج پر سوال اٹھاتے ہوئے اسکول کی تعلیمی خودمختاری بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملالہ یوسف زئی اور این فرینک کی کتاب پر ہنگامہ برپا ہوا۔ تصویر: آئی این این
کم از کم۲۰۰؍افراد نے احمد آباد کے ایک نجی اسکول سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے، جسے دائیں بازو کی تنظیموں کے احتجاج کے بعد نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اور ہولوکاسٹ سے بچ جانے والی این فرینک کی کتابیں لازمی مطالعاتی فہرست سے نکالنے پر مجبور ہونا پڑا۔ احمد آباد کی سول سوسائٹی کی تنظیم اسٹوڈنٹ اینڈ یوتھ کلیکٹو نے پیر کو جاری ایک بیان میں ان کتابوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کو ’’گجرات اور مجموعی طور پر ہندوستان میں تعلیم کی صورتحال کی ایک انتہائی تشویشناک علامت‘‘ قرار دیا۔ تنظیم نے ریاستی حکومت اور تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ تعلیم ایک کثیرالجہتی عمل ہے اور اسے اسکولوں میں شامل کرنے کیلئے نصابی کتابوں کے علاوہ تنقیدی نوعیت کی کتابوں اور دیگر تعلیمی وسائل سے بھی استفادہ کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس نے مردم شماری کے طریقۂ کار کو مسترد کر دیا
احمد آباد کے آنند نیکیتن اسکول، شلاج کی کینٹین میں فراہم کئےگئے کھانے میں مبینہ طور پر شیشے کا ٹکڑا ملنے کے معاملے پر والدین کا احتجاج ۱۱؍اگست کو شروع ہوا تھا، جو بعد میں ’’ایک مذہب کے خلاف امتیاز‘‘ کے الزامات تک جا پہنچا۔ ان الزامات کا تعلق ملالہ یوسف زئی کی کتاب ’’آئی ایم ملالہ‘‘ اور این فرینک کی ’’ڈائری آف اے ینگ گرل‘‘ کو اسکول کے بک کلب میں شامل کئے جانے سے تھا۔ یہ بک کلب غیر نصابی سرگرمی ہونے کے باوجود لازمی مطالعاتی فہرست کا حصہ تھا۔ والدین کا الزام تھا کہ اسکول کی جانب سے مقررکئے گئے ایک کنسلٹنٹ نے نصاب میں تبدیلی کرکے ان کتابوں کو شامل کیا تھا۔ یہ اسکول کونسل فار دی انڈین اسکول سرٹیفکیٹ ایگزامینیشن (CISCE) سے وابستہ ہے۔
دائیں بازو کی تنظیموں، جن میں وشوا ہندو پریشد (VHP) اور بجرنگ دل شامل ہیں، کے ارکان بھی والدین کے احتجاج میں شامل ہوگئے اور اسکول کے احاطے میں مظاہرے کئے۔ ضلع انتظامی افسر روہت چودھری کی جانب سے نوٹس جاری کئےجانے کے بعد اسکول نے نہ صرف دونوں کتابوں کو لازمی مطالعاتی فہرست سے خارج کردیا بلکہ اپنے کنسلٹنٹ منزہ شمس کی خدمات بھی ختم کردیں۔ اسکول نے کینٹین کے سپروائزر کو بھی ملازمت سے برطرف کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کنال چاہتا تھاکہ بس اس کے والد گھر آجائیں‘‘
’’اسکول کو خود مختاری دی جائے‘‘
اسٹوڈنٹ اینڈ یوتھ کلیکٹو، احمد آباد نے تمام متعلقہ افراد سے اپیل کی ہے کہ اسکول کو خود مختاری دی جائے، جو تنظیم کے مطابق اسکول کے تعلیمی اقدامات کو جاری رکھنے کیلئے ضروری ہے۔ اس بیان پر طلبہ، نوجوانوں، اساتذہ، پرنسپلوں، سماجی کارکنوں، وکلا اور پروفیسروں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے دستخط کئےہیں۔ بیان میں ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسکول صرف تعلیم حاصل کرنے کی جگہ نہیں بلکہ تنقیدی مطالعے، گفتگو اور صحت مند مباحثے کے مراکز بھی ہونے چاہئیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ اور معلمین ایسے متون کو طلبہ کے سامنے لائیں جو ہمارے موجودہ دور سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ‘‘
ہہ بھی پڑھئے: مالیگائوں : پاپلین کے بعد کاٹن اور پالیسٹر کے کارخانے بھی بند میں شامل
بیان میں مزید کہا گیا کہ۲۰۰۵ءکا نیشنل کریکولم فریم ورک ابتدائی قومی پالیسی دستاویزات میں شامل تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ طلبہ کلاس روم میں جو کچھ پڑھیں اور سیکھیں، وہ ان کی روزمرہ زندگی اور دنیا میں رونما ہونے والے واقعات سے متعلق اور قابلِ فہم ہونا چاہئے۔ بیان کے مطابق، ’’اسی جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ جن دو کتابوں کو قابلِ اعتراض قرار دیا گیا، وہ تعلیمی اعتبار سے انتہائی اہم وسائل ہیں۔ ملالہ یوسف زئی نے خواتین اور بچوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی اور پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے بھرپور کام کیا۔ ان کی کتاب ان کی زندگی اور جدوجہد کی داستان ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’آتشزدگی کے قصورواروں کو سخت سزا دی جائے ‘‘
بیان میں کہا گیا کہ ’’دی ڈائری آف اے ینگ گرل‘‘ نازی دور میں زندگی کی ایک تاریخی اہمیت رکھنے والی دستاویز ہے، جو ہولوکاسٹ کے دوران ایک بچی کے ذاتی تجربات پیش کرتی ہے اور دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے لیے تحریک اور امید کا ذریعہ رہی ہے۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ دونوں کتابیں آج بھی طلبہ کیلئے انتہائی اہم اور بروقت تعلیمی وسائل ہیں۔ کلیکٹو نے کہا، ’’جس انداز میں اس معاملے سے نمٹا گیا، حکومت کی کارروائی اور بیرونی تنظیموں کی جانب سے اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں میں مداخلت، وہ ہمارے لئے انتہائی تشویشناک ہے۔ ‘‘تنظیم کے ایک رکن نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ کلیکٹو کے ارکان منگل کو اسکول کے متاثرہ عملے کے بعض ارکان سے ملاقات کرکے ان سے اظہارِ یکجہتی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔