ماہم نے آنکھ کھولی تو موبائل اسکرین جگمگا رہی تھی۔ الارم بند کرتے ہی نوٹیفیکیشنز کی قطار سامنے آ کھڑی ہوئی، جیسے دُنیا نے بیدار ہوتے ہی اس پر اپنے مطالبات رکھ دیئے ہوں۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 3:57 PM IST | Dr. Asma binte Rahmatullah | Mumbai
ماہم نے آنکھ کھولی تو موبائل اسکرین جگمگا رہی تھی۔ الارم بند کرتے ہی نوٹیفیکیشنز کی قطار سامنے آ کھڑی ہوئی، جیسے دُنیا نے بیدار ہوتے ہی اس پر اپنے مطالبات رکھ دیئے ہوں۔
ماہم نے آنکھ کھولی تو موبائل اسکرین جگمگا رہی تھی۔ الارم بند کرتے ہی نوٹیفیکیشنز کی قطار سامنے آ کھڑی ہوئی، جیسے دُنیا نے بیدار ہوتے ہی اس پر اپنے مطالبات رکھ دیئے ہوں۔ اس نے ایک لمحہ توقف کیا، گہری سانس لی اور فون سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ کمرے میں خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی سکون نہیں، ایک مسلسل دباؤ لئے ہوئے تھی.... وہی دباؤ جو برسوں سے اس کے اندر کہیں ٹھہرا ہوا تھا۔
وہ کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ نیچے شہر پھیلا ہوا تھا.... اونچی عمارتیں، موبائل ٹاورز، روشن اسکرینیں، اور لوگوں کی تیز رفتار زندگیاں۔ ہر طرف وائی فائی سگنلز کی غیر مرئی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ ماہم نے سوچا، یہ کیسا زمانہ ہے جہاں سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر خود سے کٹے ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: بارش جب قیامت بن کر برسی
ماہم جدید دور کی عورت تھی۔ اعلیٰ تعلیم، مستحکم نوکری اور ڈجیٹل دُنیا میں ایک واضح شناخت اس کے پاس تھی۔ اس کی تحریریں سوشل میڈیا پر پڑھی جاتیں، اس کی رائے پر گفتگو ہوتی، مگر صرف اسی حد تک جہاں تک سماج کو قبول تھا۔ اس کے بعد روایت، مصلحت اور ’مناسب‘ کے نام پر ایک خاموش دیوار کھڑی ہو جاتی۔
دفتر میں اس کی صبح زوم میٹنگز سے شروع ہوتی تھی۔ وہ دلائل کے ساتھ بات رکھتی، مسائل کے حل تجویز کرتی، مگر اکثر فیصلے کسی اور کی آواز میں سنائے جاتے۔ میٹنگ منٹس میں اس کی بات شامل ہوتی، نام کے بغیر۔
وہ جانتی تھی کہ مسئلہ اس کی اہلیت نہیں بلکہ اس کی شناخت ہے۔ عورت ہونا آج بھی بہت سے دروازوں پر سوال بن جاتا ہے۔
گھر میں سہولتوں کی کمی نہ تھی۔ اسمارٹ لائٹس، خودکار دروازے، آواز سے چلنے والے آلات.... سب کچھ موجود تھا۔
مگر ان سہولتوں کے بیچ ماہم کی اپنی ذات کہیں دب کر رہ گئی تھی۔ اس کی تھکن کو معمول سمجھا جاتا اور اس کی خاموشی کو رضامندی۔ وہ اکثر سوچتی کہ جب ہر شے جدید ہو چکی ہے تو عورت کی آزادی اب بھی قدیم کیوں ہے؟
یہ بھی پڑھئے: افسانہ : کاسۂ الفت
ایک شام اس نے سوشل میڈیا پر ایک سادہ سا جملہ لکھا:
``Women can do anything.``
یہ اعلان نہیں تھا، خود کو یاد دلانے کی ایک کوشش تھی۔ ردِعمل آیا.... تعریفیں بھی، حوصلہ افزائی بھی، مگر ان سب کے درمیان وہی پرانے سوال بھی تھے جو نسلوں سے عورت کے ساتھ چلے آرہے ہیں۔ ماہم نے اسکرین بند کر دی، مگر دل کے اندر ایک در کھل چکا تھا۔
اسی رات اس نے لیپ ٹاپ کھولا اور ایک نیا فولڈر بنایا۔ نام رکھا: Unsent Truths۔ یہ فولڈر اس کی خاموشیوں کا مسکن بن گیا۔ وہ باتیں جو کبھی کہی نہیں گئیں، وہ سوال جو زبان تک آتے آتے رک گئے.... سب اس میں محفوظ ہونے لگے۔ وہ لکھتی گئی، جیسے کوئی ذکر کر رہا ہو۔ ہر لفظ کے ساتھ بوجھ ہلکا ہوتا گیا۔
یہ تحریریں نعرے نہیں تھیں۔ یہ عورت کے اندر کے سچ تھے.... اس کی تھکن، اس کی جدوجہد، اس کا صبر، اور اس کی وہ خاموشی جو چیخ سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔ ماہم نے انہیں نام کے بغیر شائع کرنا شروع کیا۔ جیسے صوفی اپنے کلام پر دستخط نہیں کرتا، کیونکہ مقصد پہچان نہیں، حق ہوتا ہے۔
ایک دن اس کی ایک تحریر غیر معمولی طور پر پھیل گئی۔ لوگ اسے اپنی کہانی کہنے لگے۔ کسی نے اسے اپنی ماں سے جوڑا، کسی نے اپنی بیوی سے، کسی نے اپنی بیٹی سے۔ ماہم نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کا درد فردی نہیں، اجتماعی ہے۔ وہ سمجھ گئی کہ جب ایک عورت بولتی ہے تو دراصل کئی نسلیں سانس لیتی ہیں۔
کچھ دن بعد اس نے اپنی تحریر کے نیچے اپنا نام لکھ دیا۔ یہ فیصلہ خوف سے خالی نہیں تھا، مگر یقین سے بھرپور تھا۔ اسے یاد آیا کہ صوفیا کہتے ہیں: جو خود کو پہچان لے، وہ رب کو پا لیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ : خواب حقیقت بنتے ہیں
اور ماہم اب خود کو پہچان چکی تھی۔
ایک رات اس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور کھڑکی کھول دی۔ ٹھنڈی ہوا اندر آئی۔ دور کہیں اذان کی آواز ابھری.... بغیر کسی ایپ، بغیر کسی نیٹ ورک۔ یہ آواز اسے یاد دلا رہی تھی کہ اصل رابطہ اندر سے اوپر کی طرف ہوتا ہے، اور اصل آزادی بھی وہیں سے ملتی ہے۔
اس نے موبائل فون میز پر رکھ دیا۔ وائی فائی اسٹرانگ تھا، مگر دل اس کا محتاج نہیں رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک ایسے پنجرے میں تھی جو آرام دہ تھا، محفوظ تھا، مگر پنجرہ بہرحال پنجرہ تھا۔ اور صوفیانہ سچ یہی ہے کہ سہولت اگر پرواز چھین لے تو وہ نعمت نہیں، آزمائش بن جاتی ہے۔
ماہم دروازے کی طرف بڑھی۔ فنگر پرنٹ سینسر نے سبز روشنی دکھائی اور دروازہ کھل گیا۔ وہ لمحہ بھر رکی۔ اسے یوں لگا جیسے آج دروازہ اس کی شناخت سے نہیں، اس کی نیت سے کھلا ہے۔
وہ باہر نکلی۔
آسمان صاف تھا۔
کوئی حد مقرر نہیں تھی۔
نہ سگنل، نہ پاس ورڈ، نہ اجازت۔
بس فضا تھی.....
اور ایک عورت
جو جان چکی تھی کہ
پرواز کے لئے نیٹ ورک نہیں،
نیت چاہئے۔
اور جب نیت رب سے جڑ جائے
تو
ہر قید
راستہ بن جاتی ہے۔