’دی سیٹلرز‘ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری تحریک اور غزہ تک توسیع کے منصوبوں کا جائزہ لیتی ہے۔
EPAPER
Updated: September 26, 2026, 9:08 AM IST | New York
’دی سیٹلرز‘ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری تحریک اور غزہ تک توسیع کے منصوبوں کا جائزہ لیتی ہے۔
برطانوی امریکی صحافی اور دستاویزی فلم ساز لوئی تھیرو کی فلم ’دی سیٹلرز‘ کو ۲۰۲۶ء کے انٹرنیشنل ایمی ایوارڈز میں بہترین دستاویزی پروگرام کی کیٹیگری کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ فلم مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری تحریک، اس سے وابستہ نظریات اور غزہ تک آبادکاری کے منصوبوں کا جائزہ لیتی ہے۔ ۵۴؍ ویں انٹرنیشنل ایمی ایوارڈز میں دستاویزی پروگرام کی کیٹیگری میں فلم کا مقابلہ میکسیکو، سنگاپور اور فرانس سے تعلق رکھنے والی ۳؍ دیگر پروڈکشنز سے ہوگا۔ ’دی سیٹلرز‘ کی فلم بندی ۲۰۲۴ء میں اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کی گئی تھی۔ اس میں تھیرو نے فلسطینیوں، اسرائیلی آبادکاروں اور آبادکاری کی توسیع کی مخالفت کرنے والے اسرائیلی کارکنوں سے گفتگو کی ہے۔ فلم میں آبادکار برادری کے روزمرہ حالات کے ساتھ ساتھ ان نظریات اور مقاصد کو بھی پیش کیا گیا ہے جن کے تحت مغربی کنارے میں نئی آبادیاں اور غیر قانونی چوکیوں کے قیام کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
یہ فلم تھیرو کے لیے اس موضوع کی طرف واپسی بھی ہے۔ انہوں نے اس سے قبل ۲۰۱۱ء میں ’دی الٹرا زاینسٹس‘ کے ذریعے اسرائیلی مذہبی قوم پرست آبادکاروں کا جائزہ لیا تھا۔ تقریباً ۱۴؍ سال بعد بنائی گئی نئی دستاویزی فلم میں وہ دوبارہ ان حلقوں کے درمیان پہنچے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ گزشتہ برسوں میں آبادکاری تحریک کے عزائم اور سرگرمیوں میں کیا تبدیلی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’مَیں ہوں نا ۲‘ کے متعلق فرح خان کا پراسرار جواب
فلم کی نمایاں شخصیات میں دانیئلا وائس بھی شامل ہیں، جو اسرائیلی آبادکاری تحریک کی ایک طویل عرصے سے سرگرم لیڈر ہیں۔ فلم میں وائس نے تھیرو سے غزہ میں اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ دستاویزی فلم میں مغربی کنارے میں نئی آبادکار چوکیوں کے قیام کی کوششوں اور اس عمل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح بعض آبادکار برادریاں ابتدا میں غیر رسمی طور پر قائم ہونے کے بعد وقت کے ساتھ اسرائیلی حکام سے باضابطہ منظوری حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
’دی سیٹلرز‘ کے موضوع کا تعلق اسرائیل فلسطین تنازع کے انتہائی حساس مسئلے سے ہے۔ فلم میں آبادکاری کے حامی اسرائیلیوں کے مؤقف کے ساتھ فلسطینیوں اور ان کی مخالفت کرنے والے اسرائیلی کارکنوں کے نقطۂ نظر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح فلم صرف آبادکاروں کے انٹرویوز تک محدود نہیں بلکہ مغربی کنارے میں ان سرگرمیوں کے فلسطینی آبادی اور علاقے کی صورتحال پر اثرات کو بھی موضوع بناتی ہے۔ انٹرنیشنل ایمی نامزدگی کا اعلان ۲۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو کیا گیا۔ اس سال مجموعی طور پر ۶۴؍ پروگراموں اور پرفارمنسز کو ۱۶؍ کیٹیگریز میں نامزد کیا گیا ہے، جن کا تعلق ۲۲؍ ممالک سے ہے۔ انٹرنیشنل ایمی ایوارڈز کی تقریب ۲۳؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو نیویارک میں ہوگی، جہاں فاتحین کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: میکلمور کا ’فری فلسطین ٹور‘ کا اعلان
اس سال اسرائیل اور غزہ سے متعلق مزید پروگرام بھی انٹرنیشنل ایمی کی مختلف کیٹیگریز میں شامل ہیں۔ ITV کی دستاویزی تحقیقات ’Breaking Ranks: Inside Israel’s War‘ کو Current Affairs کیٹیگری میں نامزد کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام غزہ میں خدمات انجام دینے والے اسرائیلی فوجیوں، ریزرو فوجیوں اور سابق فوجیوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے اور ان میں شہریوں کو نشانہ بنانے، فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے اور اندھا دھند بمباری سے متعلق الزامات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات پروگرام میں شامل سابق اور موجودہ فوجی اہلکاروں کی گواہی کے طور پر پیش کیے گئے ہیں، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ عدالتی نتائج کے طور پر۔ قطر سے تعلق رکھنے والے الجزیرہ عربی کے پروگرام ’Missing in Gaza‘ کو News کیٹیگری میں نامزد کیا گیا ہے، جبکہ الجزیرہ انگلش کی ’Hasina: 36 Days in July‘ کو بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال پر Current Affairs کیٹیگری میں نامزد کیا گیا۔ اس طرح ۲۰۲۶ء کی نامزدگیوں میں مشرق وسطیٰ اور خطے سے متعلق کئی پروگرام مختلف کیٹیگریز میں شامل ہیں۔
’دی سیٹلرز‘ کی انٹرنیشنل ایمی نامزدگی اس سے پہلے ملنے والی ایک اور بڑی ٹیلی ویژن نامزدگی کے بعد سامنے آئی ہے۔ فلم کو 2026 BAFTA Television Awards میں بھی Single Documentary کیٹیگری میں نامزد کیا گیا تھا۔ اس کیٹیگری میں فلم کا نام دیگر دستاویزی پروگراموں کے ساتھ شامل تھا، تاہم BAFTA کا ایوارڈ ’Grenfell: Uncovered‘ نے جیتا۔ اب لوئی تھیرو کی یہ فلم انٹرنیشنل ایمی کے لیے حتمی مقابلے میں ہے۔ فاتح کا فیصلہ ۲۳؍ نومبر کو نیویارک میں ہونے والی تقریب میں ہوگا، جبکہ اس وقت فلم کے بارے میں حتمی نتیجہ صرف نامزدگی تک محدود ہے۔