Inquilab Logo Happiest Places to Work

جذباتی ہوئے لکی علی، کہا: ’’میں اپنے کفن کو ساتھ لے کر سفر کرتا ہوں ‘‘

Updated: August 11, 2026, 7:37 PM IST | Mumbai

معروف گلوکار لکی علی حالیہ کنسرٹ کے دوران زندگی اور موت کے موضوع پر بات چیت کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے مداحوں سے کہا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں، لیکن انہیں معلوم ہے کہ ایک دن انہیں اس دنیا سے رخصت ہونا ہے اور وہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔

Lucky Ali.Photo:INN
لکی علی۔ تصویر:آئی این این

معروف گلوکار  لکی علی  حالیہ کنسرٹ کے دوران زندگی اور موت کے موضوع پر بات چیت کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے مداحوں سے کہا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں، لیکن انہیں معلوم ہے کہ ایک دن انہیں اس دنیا سے رخصت ہونا ہے اور وہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے لکی علی نے کہا  ’’میں جانتا ہوں کہ میں بھی آپ سب سے محبت کرتا ہوں۔ لیکن ایک دن مجھے جانا ہے نا۔ میں آپ کو اس کے لیے تیار نہیں کر رہا، لیکن میں خود تیار ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:جنوبی کوریا کے خلاف سمیت ناگل اور یوکی بھامبری ہندوستانی چیلنج سنبھالیں گے

 سفر میں کفن ساتھ رکھتے ہیں
لکی علی نے اپنی گفتگو کے دوران ایک ذاتی بات کا انکشاف بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی وہ سفر کرتے ہیں تو اپنے ساتھ  کفن کا کپڑا  رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا  ’’جب بھی میں سفر کرتا ہوں، میں اپنے کفن  کے ساتھ سفر کرتا ہوں، جو میرا کفن ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے مزید کہا’’میں نے بس اسے جانے نہیں دیا یار۔‘‘کنسرٹ کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جس میں لکی علی مداحوں سے یہ بات کرتے ہوئے جذباتی نظر آ رہے ہیں۔ ان کی گفتگو نے سوشل میڈیا پر مداحوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Lucky Ali (@officialluckyali)


 موسیقی لکی علی کی زندگی کا اہم حصہ
لکی علی ہندوستان کے مقبول اور منفرد گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔’’او صنم‘‘،’’سفرنامہ‘‘  اور ’’ایک پل کا جینا‘‘   جیسے گانوں نے انہیں کئی نسلوں کے درمیان مقبول بنایا۔ اپنے ماضی اور کریئر کے بارے میں ایک سابق گفتگو میں لکی علی نے بتایا تھا کہ موسیقار بننے سے پہلے وہ خود کو ایک ایسا شخص سمجھتے تھے جس کی زندگی میں کوئی واضح سمت نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے بارے میں کہا تھا کہ موسیقی میں آنے سے پہلے وہ ’’ویلا‘‘ اور ’’گڈ فار نتھنگ‘‘ تھے اور کوئی مستقل ملازمت بھی برقرار نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ وہ ملازمت کے لیے بنے ہی نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھئے:اللو ارجن نے وائزاگ میں اے اے اے سنیماز لانچ کردیا

گھوڑوں کی پرورش سے موسیقی تک کا سفر
لکی علی نے اپنے بچپن کے بارے میں بتایا تھا کہ ان کی پرورش فارم پر ہوئی اور ان کی تعلیم و تجربہ اینیمل ہزبنڈری اور ہورز بریڈنگ   سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق اس وقت ہندوستان میں ان شعبوں میں ان کے لیے کوئی واضح پیشہ ورانہ راستہ موجود نہیں تھا۔ بعد میں ان کے والد اور معروف اداکار  محمود علی  نے انہیں فلموں میں اداکاری کرنے کا مشورہ دیا۔ لکی علی نے والد کے کہنے پر کچھ فلموں میں کام بھی کیا، جن میں ’’کانٹے‘‘ اور  ’’سُر‘‘ شامل ہیں۔ تاہم اداکاری میں انہیں خود کو آرام دہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ اسی لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ موسیقی کو ہی اپنا کریئر بنائیں گے۔
 اے آئی  میں فنکار کی روح نہیں ہو سکتی 
لکی علی نے سوشل میڈیا پر موسیقی اورآرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی ) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی اپنی رائے دی۔خاص طور پر پرانے اور معروف گلوکاروں کی آوازوں کی اے آئی کلوننگ  کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کسی فنکار کی اصل آواز کی نقل تو کر سکتی ہے، لیکن اس فنکار کی  روح اور جذبات  کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق   ’’ایک فنکار ہمیشہ فنکار رہے گا۔ اے  آئی ہمیشہ بے روح رہے گا۔‘‘ لکی علی کا کہنا تھا کہ اے آئی  سے بننے والی آواز اصل فنکار کی روح نہیں بلکہ صرف اس کی ایک نقل یا  اڈاپڈشن ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK