Updated: September 27, 2026, 10:03 PM IST
| Mumbai
ملک بھر میں بینک ملازمین پیر سے تین روزہ ہڑتال پر جانے والے ہیں، جس کے باعث چیک کلیئرنس، نقد رقم جمع کرانے اور رقم نکالنے جیسی بینکاری خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔ یہ ہڑتال بینک ملازمین کی مشترکہ تنظیم یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کی اپیل پر کی جا رہی ہے۔
بینک کی ہڑتال۔ تصویر:آئی این این
ملک بھر میں بینک ملازمین پیر سے تین روزہ ہڑتال پر جانے والے ہیں، جس کے باعث چیک کلیئرنس، نقد رقم جمع کرانے اور رقم نکالنے جیسی بینکاری خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔ یہ ہڑتال بینک ملازمین کی مشترکہ تنظیم یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (UFBU) کی اپیل پر کی جا رہی ہے۔ UFBU میں بینک ملازمین اور افسران کی سات تنظیمیں شامل ہیں۔ یونینوں کا اہم مطالبہ بینکوں میں ہفتے میں پانچ دن کام کرنے کا نظام نافذ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تیزی سے آگے بڑھ رہا ہندوستان کا یو پی آئی، نئے چارجز سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا
تین روزہ ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر سرکاری بینکوں، پرانے نجی بینکوں اور علاقائی دیہی بینکوں پر پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم، ڈجیٹل بینکاری اور آن لائن خدمات معمول کے مطابق دستیاب رہنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب آئی سی آئی سی آئی بینک ، ایچ ڈی ایف سی بینک اور ایکسس بینک جیسے نئی نسل کے نجی بینکوں کی شاخیں ہڑتال کے تینوں دن کھلی رہنے کی توقع ہے۔ اس سے قبل۱۱؍ ستمبر کو بھی بینک ملازمین کی جانب سے ایک روزہ ہڑتال کی گئی تھی۔زیادہ تر سرکاری بینک اپنے صارفین کو ہڑتال کے حوالے سے پہلے ہی آگاہ کر چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ بینک شاخوں اور دفاتر میں ضروری خدمات جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی، تاہم ہڑتال کے دوران بعض بینکاری خدمات متاثر ہوسکتی ہیں اور صارفین کو دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بینکوں نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ضروری بینکاری کام ہڑتال شروع ہونے سے پہلے ہی مکمل کرلیں۔ اگر کسی کو نقد رقم کی ضرورت ہے تو وہ پہلے سے اے ٹی ایم سے رقم نکال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین YONO، Internet Banking، Mobile Banking اور UPI جیسی ڈجیٹل بینکاری سہولیات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرسکتے ہیں۔ اس طرح شاخیں بند ہونے یا بعض خدمات متاثر ہونے کی صورت میں روزمرہ کے متعدد مالیاتی کام آن لائن انجام دیے جاسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کافی ود کرن سیزن ۹؍: عالیہ بھٹ کے ساتھ پہلی بار شاہین بھٹ بھی نظر آئیں گی
بینک یونینوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوئی تو ۲۶؍اکتوبر ۲۰۲۶ء سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی جاسکتی ہے۔ ہفتے میں پانچ دن کام کرنے کا مطالبہ کافی عرصے سے زیر التوا ہے۔حالیہ دنوں میں چیف لیبر کمشنر کے سامنے ہونے والی بات چیت میں بھی یونینوں کو اس معاملے پر حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں مل سکی۔ آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن کے جنرل سکریٹری روپم رائے کے مطابق حکومت اور بینک انتظامیہ کے رویے کی وجہ سے یونینوں کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ دوسری جانب نیشنل کنفیڈریشن آف بینک ایمپلائز کے جنرل سکریٹری ایل چندرشیکھر نے کہا کہ مرکزی و ریاستی حکومت کے متعدد دفاتر، آر بی آئی ، ایل آئی سی، جی آئی سی اور نابارڈ سمیت کئی اداروں میں پہلے ہی ہفتے میں پانچ دن کام کا نظام موجود ہے۔ ان کے مطابق اسٹاک مارکیٹ اور فارن ایکسچینج مارکیٹ بھی ہفتے میں پانچ دن ہی کام کرتی ہیں۔
بینک یونینوں کے مطالبات صرف پانچ روزہ ورکنگ ویک تک محدود نہیں ہیں۔ ان کے دیگر مطالبات میں پنشن کے فوائد میں اضافہ، تمام پنشن یافتگان کے لیے مہنگائی الاؤنس (DA) کا یکساں فارمولہ نافذ کرنا اور نئی پنشن اسکیم کے تحت آنے والے ملازمین کو پرانے پنشن نظام کا انتخاب کرنے کا موقع دینا شامل ہے۔ وزارت خزانہ نے اسی ہفتے بینک ملازمین سے ہڑتال پر نہ جانے کی اپیل کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یونینوں کے بیشتر خدشات کا پہلے ہی ازالہ کیا جاچکا ہے، جبکہ باقی مطالبات پر بھی بات چیت جاری ہے۔