• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میکلمور کے’ ’فری فلسطین‘‘ مطالبے پر تنازع، ایڈ شیرن کے ٹور سے ہٹانے کی درخواست

Updated: September 07, 2026, 6:01 PM IST | New York

امریکی ریپر میکلمورکو گلوکار ایڈ شیرن کے امریکہ میں جاری ٹور کے دوران اسٹیج سے ’’فری فلسطین‘‘ کا نعرہ لگانے اور غزہ جنگ پر مبنی احتجاجی گانا ’’ہندز ہال ‘‘ پیش کرنے کے بعد شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ ان کے خلاف ایک آن لائن پٹیشن بھی شروع کردی گئی ہے، جس میں ایڈ شیرن اور ان کی مینجمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ میکلمور کو ٹور کی باقی تاریخوں سے ہٹا دیا جائے۔

Macklemore.Photo:X
میکلمور۔ تصویر:ایکس

امریکی ریپر  میکلمورکو گلوکار  ایڈ شیرن  کے امریکہ میں جاری ٹور کے دوران اسٹیج سے ’’فری فلسطین‘‘ کا نعرہ لگانے اور غزہ جنگ پر مبنی احتجاجی گانا ’’ہندز ہال ‘‘ پیش کرنے کے بعد شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ ان کے خلاف ایک آن لائن پٹیشن بھی شروع کردی گئی ہے، جس میں ایڈ شیرن اور ان کی مینجمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ میکلمور کو ٹور کی باقی تاریخوں سے ہٹا دیا جائے۔
میکلمور، جن کا اصل نام بنجامن ہیمنڈ ہیگرٹی  ہے، نے ۴؍اور ۵؍ستمبر کو نیوجرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم  میں ایڈ شیرن کے کنسرٹس میں بطور اوپننگ ایکٹ پرفارم کیا۔ پرفارمنس کے دوران انہوں نے فلسطین کے حق میں آواز بلند کی اور اپنا ۲۰۲۴ء کا احتجاجی گانا’’ہندز ہال ‘‘  پیش کیا، جس میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی گئی ہے۔
اتوارکو اسرائیلی امریکن کونسل (آئی اے سی) نے ایڈ شیرن اور ان کی مینجمنٹ کے نام ایک پٹیشن جاری کی، جس میں میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ پٹیشن میں الزام عائد کیا گیا کہ میکلمور نے کنسرٹ کے عالمی پلیٹ فارم کو ایک طرفہ سیاسی پیغام کے لیے استعمال کیا۔ تنظیم نے سوال اٹھایا کہ کیا میکلمور کی سیاسی تقریر، اسٹیج پر دکھائے جانے والے مناظر اور’’ہندز ہال‘‘ کی پرفارمنس کو پہلے سے ایڈ شیرن کی ٹیم نے منظور کیا تھا یا نہیں۔ آئی اے سی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایڈ شیرن کی ٹیم ٹور کے اسٹیج پر سیاسی پیغامات کے استعمال کے حوالے سے واضح حدود مقرر کرے۔

یہ بھی پڑھئے:تنقیدوں کے باوجود لبوشین آسٹریلیا کے دورۂ جنوبی افریقہ کے لیے ٹیسٹ ٹیم میں برقرار

میکلمور نے ۴ ؍ستمبر ۲۰۲۶ءکے کنسرٹ کے دوران حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایڈ شیرن کے ٹور میں شامل ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بڑے اسٹیڈیمز میں اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔ انہوں نے فلسطین کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ’’فری فلسطین ‘‘ کے الفاظ واضح اور بلند آواز میں سنے جائیں تاکہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے لوگوں کو معلوم ہو کہ دنیا نے انہیں فراموش نہیں کیا۔ ریپر نے اپنے ۱۱ ؍سالہ بیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے محفوظ ماحول میں بڑے ہوں، تعلیم حاصل کریں، محبت اور خوشی کا تجربہ کریں اور مستقبل کے بارے میں خوف کے بغیر زندگی گزاریں۔
 میکلمور نے اپنی تقریر میں جنگ کے دوران بچوں اور والدین کو درپیش خوف کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو تشدد کی آواز سے پہلے سکون، کھیل کے میدان میں بچوں کی ہنسی اور اپنے بچوں کو صبح اسکول بھیجتے وقت اس خوف سے آزادی ملنی چاہیے کہ شاید یہ ان کی آخری ملاقات ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے بجائے ذاتی سکون یا سامعین کے آرام کو ترجیح دی جائے تو وہ اسٹیج پر کھڑے ہونے کے مقصد سے دور ہوجائیں گے۔اپنی تقریر کے دوران میکلمور نے صرف فلسطین کا ذکر نہیں کیا بلکہ امریکہ، کیوبا، کانگو، سوڈان اور ایران سمیت مختلف خطوں کے لوگوں کے لیے آزادی اور امن کی بات کی۔ انہوں نے امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ادارے آئی سی ای  کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے۔ ان کے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے، جہاں کچھ صارفین نے ان کے فلسطین کے حق میں موقف کی حمایت کی، جبکہ بعض نے موسیقی کے کنسرٹ کو سیاسی پیغامات کے لیے استعمال کرنے پر اعتراض کیا۔

یہ بھی پڑھئے:کارتک آرین کی ’کیپٹن انڈیا‘ نے پانچ سالہ تاخیر کے بعد آخرکار پرواز شروع کی

میکلمور ابھی ایڈ شیرن کے لوپ ٹور کے سپورٹ ایکٹ کے طور پر امریکہ میں مزید  آٹھ شوز  میں پرفارم کرنے والے ہیں۔ یہ سلسلہ نومبر تک جاری رہنے والا ہے۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ایڈ شیرن اور ان کی ٹیم میکلمور کے خلاف جاری پٹیشن اور بڑھتے ہوئے ردعمل پر کیا موقف اختیار کرتی ہے اور آیا میکلمور ٹور کی باقی تمام تاریخوں میں بطور اوپننگ ایکٹ اپنی پرفارمنس جاری رکھیں گے یا نہیں۔ یہ تنازع ایک مرتبہ پھر اس بحث کو نمایاں کرتا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کو بڑے تجارتی میوزک ایونٹس کے دوران سیاسی اور انسانی حقوق سے متعلق اپنے خیالات کس حد تک عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK