Updated: September 07, 2026, 6:00 PM IST
| New Delhi
ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کے بعد دہلی یونیورسٹی کے طلبہ میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور وہ اپنی مختلف مانگوں کو لے کر غیر معینہ مدت کے احتجاج پر بیٹھ گئے ہیں۔ طلبہ نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ، ہاسٹل کی سہولیات میں اضافہ اور حادثے کیلئے ڈی یو انتظامیہ و دہلی حکومت کی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
طلبہ احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی
دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونےکے بعد سےطلبہ میں شدید ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس ضمن میں دہلی یونیورسٹی کے طلبہ متعدد مطالبات کے ساتھ غیر معینہ مدت کیلئے احتجاج پر بیٹھ گئے ہیں ۔ بروز پیر، درگا بائی دیشمکھ ساؤتھ کیمپس میٹرو اسٹیشن، جو ستیہ نکیتن کے قریب ہے، کے باہر دہلی یونیورسٹی کے طلبہ غیر معینہ مدت کیلئے دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں ۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی ذمہ داری جتنی ڈی یو انتظامیہ کی ہے اتنی ہی دہلی سرکار کی بھی ہے، اسی لئے سب کی جوابدہی طے ہونی چاہئے۔ طلبہ کے مطابق دہلی یونیورسٹی میں ہاسٹل سہولیات کا فقدان ہے، جس کے باعث طلبہ کیمپس کے باہر اس طرح کے پرائیوٹ پی جیز میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں مہنگے کرائے بھی دینے پڑتے ہیں اورحفاظت کا بھی کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھئے: رکن پارلیمان سپریا سُلے کا موجودہ تعلیمی نظام پر تشویش کا اظہار
دہلی یونیورسٹی سے لاء کی تعلیم حاصل کر رہی ایک طالبہ ساوی گپتا نے انقلاب سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس حادثے کے بعد طلبہ میں جہاں خوف کا ماحول ہے وہیں طلبہ غم و غصے میں بھی مبتلا ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ غیر معینہ مدت کیلئے احتجاج پر بیٹھ گئے ہیں ، طلبہ کے مطالبات ہیں کہ حادثے سے جن طلبہ کی موت واقع ہوئی ہے ان کے اہل خانہ کوجلد از جلد ایک کروڑ کا معاوضہ دیا جائے، تاہم ہونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کیلئے ہاسٹل کی تعداد بڑھائی جائے اور اس حادثے میں یونیورسٹی انتظامیہ اور دہلی سرکار کی بھی جوابدہی طے کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: جالنہ : منوج جرنگے کا اب پانی پینے اور علاج کرانے سے بھی انکار
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ۷؍ طلبہ کی موت کی خبر ہے لیکن امکان ہے کہ یہ تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ اب تک پوری طرح سے ملبہ ہٹایا نہیں گیا ہے، طلبہ اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے یونیورسٹی طلبہ یونین پر الزام عائد کرتے ہوئے ہےکہا کہ ہاسٹل کی سہولیات سے متعلق ہمیشہ یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ یونین الیکشن کے دوران سیاست کرتی ہے لیکن یونین کے منتخب ہونے کے بعد اس پر کوئی خاص مطا لبہ ڈی یو انتظامیہ سے نہیں کیا جاتانا ہی اس کے متعلق کوئی مہم چلائی جاتی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک حادثے کا شکار ہوئے طلبہ کو انصاف نہیں مل جاتا وہ اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ حالانکہ اس پورے معاملے میں اب تک دہلی میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر سمیت ۵؍ افراد کو معطل کر دیا گیا ہے اور پی جی کے مالک ہری رام گپتا کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہےاور مزید تفتیش جاری ہے۔