• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن میں موہن بھاگوت کا خطاب، کہا ’ اتحاد کیلئے یکسانیت ضروری نہیں ہے‘

Updated: September 07, 2026, 4:57 PM IST | London

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے لندن میں ہندو راشٹر اور ہندوتوا کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے تنوع میں اتحاد کو بنیادی اصول قرار دیا۔ دوسری جانب ان کے برطانیہ دورے کے خلاف لندن میں مظاہرین نے آر ایس ایس کی نظریاتی سیاست اور برطانوی حکومت کی خاموشی پر احتجاج کیا۔

Mohan Bhagwat speaking in London. Photo: PTI
لندن میں موہن بھاگوت خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے لندن میں بڑی تعداد میں موجود ہند نژاد افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندو راشٹر‘‘ کا تصور مذہب، عبادت یا طرزِ زندگی پر مبنی نہیں ہے، بلکہ یہ تنوع کو قبول کرنے کے اصول پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادکیلئے یکسانیت ضروری نہیں ہے۔ لندن میں بھاگوت کی یہ سرگرمی آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے تحت عالمی سطح پر رابطہ مہم کا حصہ ہے۔ سنگھ دنیا کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط کرنے اور اپنی تنظیم اور اس کے کام کے بارے میں ’’درست‘‘ نقطۂ نظر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھاگوت نیویارک اور ٹورنٹو میں بھی اسی نوعیت کی تقریبات سے خطاب کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ پر امریکی حمایت کے خلاف ٹرمپ کی سابق حلیف مار جوری ٹیلر گرین برہم

سوال و جواب کے سیشن کے دوران ہندو راشٹر اور ہندوتوا کے بارے میں آر ایس ایس کے نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ ’’ہندو‘‘ لفظ کو کسی مذہبی عمل یا طرزِ زندگی کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ایک فطرت ہے، یعنی تمام قسم کے تنوع کا احترام اور اسے قبول کرنے کی فطرت۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے ہر طرح کے خیالات سامنے آئے ہیں، جن میں الحاد بھی شامل ہے۔ سب کہتے ہیں کہ ہر شخص کا راستہ درست ہے اور ہم سب ایک ہی منزل تک پہنچیں گے۔ ہمیں ایک دوسرے کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف ہم ہی درست ہیں ؟ نہیں، ہم بھی درست ہیں اور آپ بھی درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی رویہ ’’ہندو‘‘ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کروشیا: ہزاروں ٹن کوڑاکرکٹ ہٹانے میں تاخیر پر حکومت کے خلاف زبردست احتجاج

بھاگوت نے ’’نیشن‘‘ اور ’’راشٹر‘‘ کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ نیشن سے مراد ایسی قومی ریاست ہے جہاں لوگ زبان، مذہب یا طرزِ حکمرانی جیسی مماثلتوں کی بنیاد پر اکٹھے ہوتے ہیں اور ریاست مشترکہ قوانین نافذ کرتی ہے۔ اس کے برعکس ’’راشٹر‘‘ کی بنیاد سب سے پہلے ایک مشترکہ مقصد پر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہندو راشٹر کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ تنوع فطری ہے اور اتحاد ہی حقیقت ہے۔ ‘‘بھاگوت نے کہا کہ حملوں اور غلامی کے باوجود ہندوستان ایک ’’راشٹر‘‘ کے طور پر قائم رہا۔ ان کے بقول، ’’ایک مقصد رکھنے والے لوگ راشٹر ہوتے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر ملک اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھا تو ’’نہ کبھی کوئی آمر پیدا ہوگا اور نہ جنگیں ہوں گی۔ ‘‘ موجودہ نسل کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو بھاگوت نے کہا کہ انہیں مستقبل کی نسلوں پر زیادہ اعتماد ہے۔ ان کے مطابق نوجوان دنیا کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس مقصد کیلئے ’’چھوٹے اور معمولی اختلافات‘‘ کو ترک کرنے کیلئےتیار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا: آتش فشاں کی راکھ سے۵؍ ہوائی اڈے متاثر آپریشن معطل، سیکڑوں پروازیں منسوخ

انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو ایک مقصد اور اسے حاصل کرنے کیلئے ضروری علم دیا جانا چاہئے، لیکن ان پر کوئی مخصوص طریقہ مسلط نہیں کیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا، ’’مقصد طے کریں، طریقہ نہیں۔ ‘‘ ان کے مطابق نوجوان خود اس مقصد کو حاصل کرنے کے ایسے طریقے تلاش کر لیں گے جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوں گے۔ برطانیہ میں مقیم ہندوؤں کو اس صورتِ حال میں کیا کرنا چاہئے جب برطانیہ اور ہندوستان کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوں، اس سوال کے جواب میں بھاگوت نے کہا کہ اگر ’’برطانوی ہندو پکے ہندو ہوں ‘‘ تو کوئی تنازع نہیں ہوگا۔ تاہم اگر ایسا تنازع پیدا ہو تو انہوں نے تسلیم کیا کہ برطانوی ہندو فطری طور پر برطانیہ کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوتوا آپ سے اپنی کرم بھومی سے غداری کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ ‘‘
ہندو اتحاد کی بنیاد کے بارے میں پوچھے جانے پر بھاگوت نے کہا کہ توجہ اختلافات کے بجائے مشترکہ پہلوؤں پر ہونی چاہئے۔ ان کے الفاظ میں، ’’جو چیز ہمیں متحد کرتی ہے اس پر زیادہ زور دیں، نہ کہ اس پر جو ہمیں تقسیم کرتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یورپ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے، ڈچ شہروں میں غزہ کی یکجہتی میں پتنگ بازی

بھاگوت کے برطانیہ کے دورے کا پروگرام خفیہ، پارلیمنٹ کے قریب احتجاج
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت جب ۳؍ ستمبر کو برطانیہ پہنچے تو ان کے بین الاقوامی دورے کا آخری مرحلہ شروع ہوا، جو ۲۵؍ اگست کو امریکہ سے شروع ہوا تھا اور اس کے بعد انہیں کنیڈابھی لے گیا۔ تاہم ان کے دورۂ برطانیہ کا کوئی باقاعدہ یا حتمی پروگرام عوام کے سامنے نہیں لایا گیا تھا۔ بھاگوت کی نقل و حرکت کے بارے میں کسی حتمی تصدیق کے باوجود اتوار کو لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر کے باہر مظاہرین جمع ہوگئے۔ یہ مظاہرہ اس دن ہوا جب توقع کی جا رہی تھی کہ بھاگوت کا دورۂ برطانیہ اگلے روز ختم ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عربیہ: ۵؍ ستمبر کو ’’عالمی یوم عطیہ‘‘منایا گیا

پارلیمنٹ کی عمارت اور بگ بین پس منظر میں موجود تھے۔ مظاہرین کا مقصد دو پیغامات دینا تھا۔ ایک یہ کہ وہ آر ایس ایس کے ہندو اکثریت پر مبنی سیاسی نظریے کو مسترد کرتے ہیں، اور دوسرا یہ کہ وہ بھاگوت کے دورے پر برطانوی حکومت کی مبینہ خاموشی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مختلف احتجاجی تنظیموں، ہند نژاد گروہوں، طلبہ اور ماہرینِ تعلیم سے تعلق رکھنے والے افراد دوپہر کے وقت وہاں جمع ہوئے۔ فلسطینی پرچموں کے ساتھ مختلف پلے کارڈز بھی نظر آئے، جن پر ’’۲۰۰۲ء کی گجرات نسل کشی کو کبھی نہ بھولیں ‘‘، ’’فاشزم کے خلاف تارکینِ وطن متحد‘‘ اور ’’انقلاب زندہ باد‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ ایک پلے کارڈ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم سے مخاطب تھا: ’’کیا آپ آر ایس ایس پر پابندی لگائیں گے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی حمایت یافتہ اسرائیلی افسران ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹ: رپورٹ

مظاہرین میں ایک ہائی اسکول ٹیچر بھی شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تارکینِ وطن برادری کو ایسے احتجاج میں ضرور شریک ہونا چاہئےکیونکہ ان کے خیال میں آر ایس ایس کی سیاست ہندوستان میں جبر کو تقویت دیتی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر گزشتہ ہفتے وائرل ہونے والے ہندوتوا نظریات کے حامی سواتنترا بھاردواج کے انٹرویو کا حوالہ دیا، جس میں اس نے ایک طلبہ کارکن کے والد پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ٹیچر نے دعویٰ کیا کہ بھاگوت کا مغربی ممالک کا سفر کرنا اور اپنے ’’سرمایہ دار دوستوں ‘‘ سے ہندوستان میں مبینہ جبر کی مالی معاونت کیلئے بڑی رقم حاصل کرنا اس بات کو مزید واضح کرتا ہے کہ ان کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ 
ایک مقرر نے مظاہرے کو وسیع تر تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’نسلی قوم پرستی کے نظریے‘‘ کے خلاف احتجاج کیلئے جمع ہوئے ہیں۔ ’’ہندوز فار ہیومن رائٹس یو کے‘‘ کے ڈائریکٹر راجیو سنہا نے دعویٰ کیا کہ بھاگوت کے دورے کے دوران آر ایس ایس بتدریج زیادہ ’’خوف زدہ‘‘ نظر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بھاگوت کی روانگی سے پہلے ہفتے کے روز نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ایک بڑا پروگرام منعقد کیا گیا۔ ان کے بقول وہاں انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور ملاقاتیں حاصل کرنے کیلئے انہیں اپنی شناخت، سیاست اور نظریے کے بارے میں غلط بیانی کرنا پڑی۔ انہوں نے سوال کیا کہ برطانیہ میں اب تک اس دورے کے بارے میں زیادہ کچھ کیوں نہیں سنا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارہ کے شمالی دیہات کو اسرائیلی فوج نے تباہ کر دیا

بھاگوت کے نیویارک پہنچنے پر امریکہ کے ایک مذہبی آزادی کے کمیشن نے ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ سے ان کا ویزا منسوخ کرنے اور انہیں مستقبل میں امریکا میں داخلے کے لیے نااہل قرار دینے کی اپیل کی تھی۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے کہا کہ وہ بھاگوت کے دورے پر ’’گہری تشویش‘‘ میں مبتلا ہے۔ کمیشن نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس سے وابستہ گروہوں نے حالیہ برسوں میں عیسائیوں، دلتوں، مسلمانوں اور سکھوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف پرتشدد حملے کئے ہیں۔ کمیشن نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں ہندوستان کی حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایسی پالیسیاں نافذ کی ہیں جو آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے سے قریبی مطابقت رکھتی ہیں اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا باعث بنتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: بحیرۂ روم میں مائیکرو الجی کی اچانک اور تیز پیداوار، متعدد ڈی سیلینیشن پلانٹس متاثر

۲۹؍ اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں تقریباً ۵؍ ہزار ہندو امریکیوں اور ہندو غیر مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کرنے کے بعد، بھاگوت کے ساتھ اسٹیج پر موجود دو مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ منتظمین نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ ہندوتوا کے رہنما بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔ ریورسائیڈ چرچ کی وزیر ایڈرین تھورن نے دعویٰ کیا کہ انہیں تقریب میں شرکت کیلئے ’’دھوکے سے‘‘ لایا گیا۔ ایک اور مذہبی رہنما شمسی علی نے اپنی شرکت کو ’’فیصلے کی سنگین غلطی‘‘ قرار دیا۔ نیویارک کی اس تقریب کے مقام کے باہر بھی مظاہرین نے احتجاج کیا تھا۔ 
بھاگوت کے۳۱؍ اگست کو کنیڈا پہنچنے سے قبل دو ارکانِ پارلیمنٹ نے جمعہ کو حکومت سے آر ایس ایس پر پابندی لگانے اور اس کے سربراہ کوکنیڈا آنے سے روکنے کی اپیل کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بھاگوت کی کنیڈا میں موجودگی ’’سماجی انتشار‘‘ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ۴۰؍ سے زائد کنیڈین سول سوسائٹی اور مذہبی تنظیموں نے بھی ملک کے وزیرِ عوامی تحفظ گیری آننداسنگرے سے بھاگوت کو کنیڈا میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کی اپیل کی۔ ایسے واقعات کے نتیجے میں جب یہ دورہ برطانیہ پہنچا تو بھاگوت کے پروگرام کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا۔ ’’ہندوز فار ہیومن رائٹس یو کے‘‘ کے ڈائریکٹر سنہا کے مطابق ان کے دورے کی تفصیلات بھی سامنے نہیں لائی گئیں۔ انہوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’وہ اس لیے چھپ رہے ہیں کیونکہ وہ خوف زدہ ہیں، اور انہیں ہونا بھی چاہئے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم متحد ہوکر سامنے آئیں گے، جیسا کہ آج ہم یہاں آئے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے میں بچوں کیلئےعارضی سنیما، کارٹون دیکھ کر چہروں پر مسکراہٹ لوٹی

منتظمین کے مطابق پارلیمنٹ کے عین سامنے احتجاج کا مقام برطانوی حکام کیلئے بھی ایک پیغام تھا، کیونکہ ان کے بقول برطانوی حکام نے اب تک بھاگوت کے دورے کے بارے میں واضح مؤقف اختیار نہیں کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ نادیہ وٹوم کو ایک تحریری پارلیمانی سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کیا حکومت نے ہوم آفس کی ’’ناقابلِ قبول رویوں ‘‘ سے متعلق پالیسی کے تحت بھاگوت کے دورے کا جائزہ لیا ہے۔ برطانیہ کے سیکوریٹی وزیر ڈین جاروس نے براہِ راست بھاگوت کی موجودگی پر تبصرہ کئے بغیر کہا کہ محکمہ انفرادی معاملات پر تبصرہ نہیں کرسکتا، تاہم حکومت ’’ہر قسم کے خطرات‘‘ سے نمٹنے اور تشدد و نفرت کو فروغ دینے والے خیالات پھیلانے والوں کو جواب دہ بنانےکیلئے پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی اخبار کی انوکھی تجویز، مقروض امریکیوں کے قرضے معاف کر کے انہیں ایران پر حملے کیلئے بھیج دو

لندن کے میئر صادق خان نے بھی اس معاملے پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔ ’’ہندوز فار ہیومن رائٹس یو کے‘‘ نے ان سے یہ تصدیق کرنے کی درخواست کی تھی کہ آر ایس ایس کے پروگرام کے لیے کسی میئر یا کونسل کے مقام یا سرکاری فنڈز کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب۲۰؍ سے زائد تارکینِ وطن تنظیموں کے اتحاد نے بھی صادق خان سے اپیل کی تھی کہ وہ گریٹر لندن اتھاریٹی کی ملکیت والے مقامات کو آر ایس ایس کی تقریبات کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں اور یہ واضح کریں کہ بھاگوت کے دورے کے دوران میٹروپولیٹن پولیس نے سکیوریٹی کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ احتجاج میں پمفلٹ تقسیم کرنے والی تنظیموں میں ’’اسپارٹاکسٹ لیگ‘‘ بھی شامل تھی۔ اس کے پمفلٹ میں کہا گیا کہ آر ایس ایس سربراہ کے دورے کی مخالفت کو ’’محض ہندوستانی یا جنوبی ایشیائی معاملہ نہیں رہنا چاہئے‘‘ کیونکہ دنیا کے مختلف حصوں میں دائیں بازو کی تحریکوں کا عروج بھی اسی کے متوازی دیکھا جا رہا ہے۔ پمفلٹ میں کہا گیا، ’’ہمیں بھاگوت کے دورے کا مقابلہ کرنے اور اسے روکنے کیلئے زیادہ سے زیادہ وسیع متحدہ محاذ بنانے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK