Updated: September 13, 2026, 9:03 PM IST
| Mumbai
فلم اور ٹیلی ویژن اداکاروں کی معروف تنظیم سنے اور ٹی وی آرٹسٹس اسوسی ایشن (سنٹا) (سی آئی این ٹی اے اے ) میں جاری اندرونی تنازع کے درمیان اپاسنا سنگھ کے گروپ نے بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ اداکارہ پونم ڈھلون اور پدمنی کولہاپورے کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سنٹا کے انتخابات میں اپاسنا سنگھ کی قیادت والے گروپ نے کامیابی حاصل کی ہے۔
اپاسنا، پونم اور پدمنی۔ تصویر:آئی این این
فلم اور ٹیلی ویژن اداکاروں کی معروف تنظیم سنے اور ٹی وی آرٹسٹس اسوسی ایشن (سنٹا) (سی آئی این ٹی اے اے ) میں جاری اندرونی تنازع کے درمیان اپاسنا سنگھ کے گروپ نے بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ اداکارہ پونم ڈھلون اور پدمنی کولہاپورے کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سنٹا کے انتخابات میں اپاسنا سنگھ کی قیادت والے گروپ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ نتیجہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تنظیم کے کام کاج، انتظامی طریقۂ کار اور قیادت کو لے کر کئی ہفتوں سے شدید اختلافات جاری تھے۔
رپورٹس کے مطابق ۱۲؍ ستمبر کو ہونے والے سنٹا انتخابات میں مجموعی طور پر۵۷۱؍ ووٹ ڈالے گئے اور اپاسنا سنگھ کی قیادت والے پینل نے کامیابی حاصل کی۔ اس انتخاب میں خواتین امیدواروں کی بھی نمایاں موجودگی رہی۔ تاہم یہ معاملہ محض ایک انتخابی مقابلہ نہیں تھا بلکہ اس کے پس منظر میں تنظیم کے اندر کئی ماہ سے جاری انتظامی اور گروہی اختلافات شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے:ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ہندوستان دورے میں باندھا بالی ووڈ کا سماں
اُپاسنا سنگھ نے انتخابات اور اس سے قبل عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے تنظیم میں شفافیت، اجتماعی فیصلہ سازی اور مناسب انتظامی طریقۂ کار کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ دوسری جانب پونم ڈھلون اور پدمنی کولہاپورے نے اپاسنا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔ سِنٹا میں تنازع اس وقت مزید گہرا ہوگیا جب تنظیم کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ۱۱؍اراکین نے استعفیٰ دے دیا ۔ مستعفی اراکین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ تنظیم کے اہم معاملات میں اجتماعی فیصلہ سازی کے بجائے یک طرفہ فیصلے کیے جارہے ہیں اور تنظیم کے آئینی اصولوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اس کے بعد تازہ انتخابات کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ اپاسنا سنگھ، جو اس وقت تنظیم کی جنرل سیکریٹری تھیں، نے پونم ڈھلون اور پدمنی کولہاپورے کے کردار پر متعدد سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ سِنٹا کے پلیٹ فارم اور وسائل کو مخصوص افراد کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اپاسنا کے مطابق بعض اہم سرکاری ملاقاتوں اور تقریبات کی تصاویر میں دیگر عہدیداروں کو نظر انداز کرکے صرف پونم ڈھلون اور پدمنی کولہاپورے کو نمایاں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ بعض پریس کانفرنسوں میں سِنٹا کے پیسے استعمال کیے گئے اور تنظیم کے دیگر ایگزیکٹو ارکان کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ دوسری جانب پونم ڈھلون نے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تنظیم کے ذریعے جمع ہونے والی رقم کا مکمل حساب موجود ہے۔
سِنٹا کا تنازع بالآخر عدالت تک پہنچ گیا۔ پونم ڈھلون کی قیادت والے گروپ نے نئے انتخابات کو چیلنج کرتے ہوئے ان پر روک لگانے کی درخواست دائر کی تھی۔ دندوشی عدالت نے ۸؍ستمبر کو انتخابات پر فوری روک لگانے سے انکار کردیا، تاہم عدالت نے یہ واضح کیا کہ انتخابی نتائج جاری مقدمے کے حتمی فیصلے سے مشروط رہیں گے۔ مقدمے کی اگلی سماعت ۲۶؍ اکتوبر کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ یہ عدالتی پیش رفت اپاسنا سنگھ کے لیے اہم کامیابی سمجھی گئی، کیونکہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔ اپاسنا نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا، ’’ہم جیت گئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ریباکینا نے سبالینکا کو شکست دے کر پہلی بار یو ایس اوپن کا تاج اپنے نام کیا
سِنٹا کے انتخابات سے صرف ایک دن قبل تنازع نے مزید سنگین شکل اختیار کرلی۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی جس میں اپاسنا سنگھ، پونم ڈھلون، پدمنی کولہاپورے اور دیگر اداکاراؤں کے درمیان سِنٹا کے دفتر سے متعلق دستاویزات کے معاملے پر بحث ہوتی دکھائی دی۔ اپاسنا نے الزام لگایا کہ تنظیم کے کچھ اہم کاغذات دفتر سے باہر لے جانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اپاسنا کے مطابق انہیں ایک اداکار نے فون کرکے صورتحال سے آگاہ کیا، جس کے بعد وہ فوراً دفتر پہنچیں اور پولیس کو بلایا۔ بعد میں اس واقعے کی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں پولیس اہلکار اداکاراؤں کو پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے دکھائی دیے۔ پولیس کی مداخلت نے پہلے سے جاری سِنٹا تنازع کو مزید عوامی بحث کا موضوع بنا دیا۔