• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پورٹسماؤتھ: مہاجر مخالف مظاہرے میں برقع پہننے والے شخص پر مقدمہ

Updated: September 14, 2026, 10:51 PM IST | London

برطانیہ کے شہر پورٹسماؤتھ میں مہاجر مخالف مظاہرے کے دوران برقع پہن کر شناخت چھپانے والے ۷۶؍سالہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو چہرہ ڈھانپنے سے روکنے کیلئےخصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پرتشدد احتجاج اور بدامنی کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

پورٹسماؤتھ میں سنیچر کومہاجر مخالف مظاہرے کے دوران برقع پہن کر اپنی شناخت چھپانے والے ایک شخص پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ۷۶؍ سالہ ٹموتھی ملر ان متعدد مظاہرین میں شامل تھے جنہیں ہفتے کے آخر میں گرفتار کیا گیا۔ شہر کے وسط میں سیکڑوں افراد پر مشتمل ’ساؤتھ کوسٹ پیٹریاٹس‘ اور ’اسٹینڈ اپ ٹو ریسزم‘ کے مظاہرین ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے تھے۔ ساؤتھمپٹن کے ہج اینڈ علاقے کی شیرووڈ ایونیو کے رہائشی ٹموتھی ملر کو پیر کو پورٹسماؤتھ مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ان پر مظاہرے کے دوران شناخت چھپانے والی چیز پہننے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ 
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں مظاہرین نے پورٹسماؤتھ کا رخ کیا تھا اور شہر میں لائے گئے پناہ کے متلاشی افراد کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ ہیمپشائر پولیس کے مطابق ۳۳؍ سالہ ڈیوڈ میک نیلی پر شاہراہ میں دانستہ رکاوٹ ڈالنے اور مجرمانہ نقصان پہنچانے کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ ایک ۱۶؍ سالہ نوجوان کو بھی گزشتہ اتوار ایسٹنی مرینا میں ہونے والی بدامنی کے سلسلے میں پرتشدد ہنگامہ آرائی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ پولیس نے چہرہ ڈھانپنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ وہ تشدد برداشت نہیں کرے گی۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ایسٹنی مرینا اور ڈوور میں سیکڑوں نقاب پوش مظاہرین نے احتجاج کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:غزہ پر اداکارہ کے بیان کے بعد فرانس۵؍ کا پروگرام ری پلے سے ہٹا دیا گیا

ہیمپشائر پولیس نے سیکشن 60AA کا حکم نافذ کیا تھا، جس کے تحت پولیس اہلکاروں کو مظاہرین سے ماسک، چہرہ ڈھانپنے والی اشیا یا شناخت چھپانے کیلئےاستعمال ہونے والی کسی بھی چیز کو اتروانے کا اختیار حاصل ہوگیا تھا۔ دوسری جانب فیس بک گروپ ’دی پیٹریاٹس آف گریٹ برطانیہ‘ کے ایک رکن نے مہاجر مخالف مظاہرین کو مشورہ دیا کہ وہ چہرہ ڈھانپنے کے بجائے ’’ٹوپیاں، چشمے اور چہرے پر جنگی رنگ‘‘ استعمال کریں، تاکہ پابندی سے بچا جا سکے۔ گروپ کے رکن نے کہا کہ ان چیزوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی اور اس سے لوگوں کو خوفزدہ نہ ہونے کا پیغام ملے گا، برطانوی مزاح اور فخر کا اظہار ہوگا اور دائیں بازو کے میڈیا کو بھی تعریف کا موقع ملے گا۔ 
اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل پال بارٹولومیو نے کہا کہ جو لوگ صورتحال کا فائدہ اٹھا کر تشدد اور انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے خلاف پولیس کے تمام اختیارات بھرپور طریقے سے استعمال کرنا درست ہے، تاکہ مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ پرامن احتجاج کے حق کا بھی تحفظ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے مقامی آبادی کے خدشات کو سنا ہے اور وہ اس خوف اور دباؤ سے واقف ہے جو اس وقت محسوس ہوتا ہے جب نقاب پوش گروہ کسی علاقے میں جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اختیارات کا مقصد احتجاج کو روکنا نہیں بلکہ جرائم اور بدامنی کی روک تھام اور لوگوں کو زیادہ محفوظ محسوس کرانا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جو افراد پرامن اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، انہیں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا، تاہم خوف و ہراس پھیلانے اور تشدد پر اکسانے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ 
پورٹسماؤتھ میں ہونے والے ابتدائی مہاجر مخالف مظاہرے کے سلسلے میں گرفتار ہونے والے پہلے شخص کو بھی ہفتے کی صبح عدالت میں پیش کیا گیا۔ ۴۲؍ سالہ ڈیل لیون سومرویل، جو پالزگروو کے رہائشی ہیں، کو پرتشدد ہنگامہ آرائی اور پولیس اہلکار کو فرائض کی انجام دہی کے دوران حملے کا نشانہ بنانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK