• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممتا پارٹی کےنام ونشان کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

Updated: September 22, 2026, 9:14 AM IST | Agency | New Delhi/Kolkata

ضمنی الیکشن کے نوٹیفکیشن کے بعد پارٹی کا نام اور انتخابی نشان منجمد کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر شدید اعتراض کیا، جلد سماعت کی اپیل کی، عدالت نے منظور کرلیا۔

Mamata Banerjee seeks a hearing on the petition challenging the Election Commission`s decision before the by-election. Photo: INN
ممتا بنرجی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پٹیشن پر ضمنی الیکشن سے قبل سماعت چاہتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال میں نندی گرام اور  ریجی نگر اسمبلی حلقہ میں ضمنی الیکشن کے اعلان  اور نوٹیفکیشن تک جاری ہوجانے کے بعد ترنمول کانگریس کے نام اور انتخابی نشان کو  منجمد کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ممتا بنرجی  خیمہ نے سپریم کورٹ میں  چیلنج کردیا ہے ۔ معروف  وکیل کپل سبل نے  چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ  میں اس پٹیشن کا حوالہ دیا اور فوری شنوائی کی اپیل کی جسے بنچ نے یہ کہتے ہوئے قبول کرلیا کہ ’’دونوں  فریق کو اس معاملے میں بہت کچھ کہنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس (پٹیشن کو جلد ہی) لسٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

عین الیکشن کے وقت کمیشن کافیصلہ غلط

کپل سبل نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی والی  سہ  رکنی بنچ جس میں جسٹس جوائے مالا باغچی  اور جسٹس وی موہنا بھی شامل ہیں، سے کہاکہ ’’(مغربی بنگال میں ) غیر معمولی واقعات پیش آئے ہیں۔‘‘ انہوں  نے ٹی ایم سی میں  بغاوت کے بعد پارٹی پر  باغی گروپ کی کی دعویداری  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’کارروائی جون میں شروع ہوئی تھی اور ہم نے جولائی میں اپنا جواب داخل کردیا تھا، اس کے باوجود الیکشن نے کچھ نہیں کیا۔ پھر (ضمنی الیکشن کا)نوٹیفکیشن جاری کیا اور اسی کے دوران انتخابی نشان منجمد کردیا۔ آخر کیا ہو رہا ہے؟ ہمیں سمجھ ہی نہیں آرہا کہ ایسا کیسے کیا  جاسکتاہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی سبل نے  معاملے کی فوری شنوائی کی ضرورت پر زور دیا۔اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ’’دونوں فریقوں کے پاس کہنے کیلئے کچھ نہ کچھ ہوگا۔ جب معاملہ سماعت  ہو توتو دلائل پیش کیجیے۔ ہم اسے سماعت کیلئےلسٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

ضمنی الیکشن  کے اعلان کے ۱۰؍ دن بعد فیصلہ

  یاد رہے کہ ٹی ایم سی جسے ممتا بنرجی نے قائم کیا ہے، پر   شیوسینا اور این سی پی کی طرح باغیوں  نے دعویٰ دائر کیا ہے۔ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں جون سے زیر سماعت ہے۔ باغیوں  کے دعویٰ پر الیکشن کمیشن نے دونوں خیموں سے ۶؍ جولائی تک تحریری  دلائل مانگے تھے۔ ممتا خیمہ نے طے شدہ تاریخ  پر اپنے دلائل پیش کردیئے مگر باغی  گروپ نے انتخابی کمیشن سے  ۲؍ بار وقت میں توسیع مانگی اور پھر کہیں جاکر اپنے تحریری دلائل پیش کئے۔  اس کے بعد ۱۲؍ اور ۱۶؍ ستمبر کو الیکشن کمیشن نے سماعت کی اور ۱۸؍ ستمبر کو  فیصلہ سنایا کہ معاملہ کے تصفیہ تک ٹی ایم سی کا کوئی بھی دھڑا پارٹی کا نام اور انتخابی نشان استعمال نہیں کرسکتا۔کمیشن نے یہ فیصلہ ضمنی الیکشن کے اعلان کے ۱۰؍ دن بعد سنایا۔ 

انتخابی نشان منجمد کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کی دلیل

الیکشن کمیشن  نے پارٹی کا نام اورنشان منجمد کرنے کیلئے  دلیل دی کہ ضمنی الیکشن    سےقبل تنازع  کےحل کیلئے خاطر خواہ  وقت نہیں ہے اس لیے ’’دونوں حریف گروپوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے، ان کے حقوق و مفادات کے تحفظ کیلئے  اور ماضی کی نظیر کو مدنظر رکھتے ہوئے‘‘ کسی بھی گروپ کو آل انڈیا ترنمول کانگریس کا نام اور پارٹی کا انتخابی نشاناستعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کپل سبل کی داخل کردہ پٹیشن میں  بنیادی اعتراض الیکشن کی تاریخ   کے اعلان کے ۱۰؍ بعد انتخابی نشان کو منجمد کرنا ہے۔  ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت کب ہوگی۔

ممتا  بنرجی نئےانتخابی نشان کا اجراء کیا

پیر کو ممتا بنرجی  نے  پارٹی کے نئے نام ’’ممتاآل انڈیا ترنمول کانگریس‘‘ اور انتخابی نشان  کے ساتھ  نیا  لوگو جاری کیا۔  لیڈروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پارٹی کے نئے انتخابی نشان کوعوام میں عام کرنے کی مہم پر جٹ جائیں۔ نندی گرام اورریجی نگر میں ضمنی الیکشن کو صرف ۲؍ ہفتے بچے ہیں۔ اسی دوران پارٹی کو اپنے ووٹرس کے ذہن میں پارٹی کے انتخابی نشان کے تعلق سے کنفیوژن دور کرنا ہے۔ 

ممتا گروپ کو  ۳؍ بینک کھاتوں کے استعمال کا حق

پیر کو ترنمول کانگریس کے ممتا بنرجی گروپ کو اس وقت بڑی راحت ملی جب کولکاتا ہائی کورٹ نے پارٹی کے ۳؍ بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم کو جزوی طور پر اور شرائط کے ساتھ استعمال جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی سنگل بنچ نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کا وہ حکم جس کے تحت  ٹی ایم سی کا  نام اور  انتخابی نشان کو کچھ وقت کیلئے منجمد کردیاگیا، ممتا بنرجی گروپ کو اکاؤنٹس پر اختیار دینے والے عدالت کے سابقہ حکم پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی (ممتا گروپ) کے کوئی بھی۲؍مجاز افراد تینوں اکاؤنٹ کے چیک پر دستخط کر سکتے ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK