’پھولن‘‘ کا عالمی پریمیر ۲؍ ہزار سے زائد ناظرین کے سامنے ہوا؛ اسنیہا کماری نے پھولن دیوی کا مرکزی کردار ادا کیا، کہانی زندگی کے ایک فیصلہ کن ۴۸؍ گھنٹے پر مرکوز۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 4:10 PM IST | Toronto
’پھولن‘‘ کا عالمی پریمیر ۲؍ ہزار سے زائد ناظرین کے سامنے ہوا؛ اسنیہا کماری نے پھولن دیوی کا مرکزی کردار ادا کیا، کہانی زندگی کے ایک فیصلہ کن ۴۸؍ گھنٹے پر مرکوز۔
معروف فلم ساز رچی مہتا کی نئی فلم ’پھولن‘ کو ۵۱؍ ویں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں عالمی پریمیر کے موقع پر زبردست پذیرائی ملی اور ۲؍ ہزار سے زائد ناظرین نے فلم کے اختتام پر کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں۔ امیزون ایم جی ایم اسٹوڈیوز کی یہ ہندی ایکشن ڈراما فلم فیسٹیول کے خصوصی پریزنٹیشن زمرے میں ٹورنٹو کے معروف پرنسز آف ویلز تھیٹر میں دکھائی گئی۔ فلم میں اسنیہا کماری نے پھولن دیوی کا مرکزی کردار ادا کیا ہے، جبکہ ان کے ساتھ انوراگ ٹھاکر، وکرم پرتاپ سنگھ، آکاش دہیا، پرتیک پچوری اور دیو دت بدھولیا اہم کرداروں میں شامل ہیں۔ عالمی پریمیر کے موقع پر اسنیہا کماری کے ساتھ فلم کی ٹیم بھی موجود تھی، جس میں رچی مہتا اور پروڈیوسرز شرین منٹری کیڈیا، کنول کوہلی اور کشور اروڑہ سمیت دیگر ارکان شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار سے محبت برقرار، مداح نے فینڈم سے کنارہ کشی اختیار کرلی
’پھولن‘ کی کہانی پھولن دیوی کی خودنوشت ’آئی، پھولن دیوی: دی آٹو بایوگرافی آف انڈیا کی بینڈیٹ کوئین‘ سے ماخوذ ہے۔ تاہم رچی مہتا نے ان کی پوری زندگی کو فلم میں سمیٹنے کے بجائے ایک نہایت اہم ۴۸؍ گھنٹے کے دور کو مرکز بنایا ہے، جب مسلح افراد کے ایک بڑے گروہ نے انہیں گھیر لیا تھا۔ فلم اسی محاصرے کے دوران پیش آنے والے واقعات اور اس کے نتیجے میں پھولن دیوی کی شخصیت پر پڑنے والے اثرات کو سامنے لاتی ہے۔ رچی مہتا نے فلم کے عالمی پریمیر کے بعد کہا کہ پھولن دیوی کی کہانی کو ’’ایمانداری اور کسی سمجھوتے کے بغیر بیان کیا جانا چاہیے‘‘۔ ان کے مطابق وہ ان کی زندگی کے اس مخصوص دور کی طرف متوجہ ہوئے جس میں ایک جانب وہ برسوں کی سختیوں سے گزر رہی تھیں اور دوسری جانب دنیا انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھنے لگی تھی جس کے گرد کئی کہانیاں اور تصورات قائم ہوگئے تھے۔
فلم ساز نے کہا کہ ان کے لیے ضروری تھا کہ پھولن دیوی کے گرد وقت کے ساتھ بننے والی داستان اور افسانوی تاثر کو ایک طرف ہٹا کر ’’اس افسانے کے پیچھے موجود انسان‘‘ کو سامنے لایا جائے۔ ان کے مطابق استقامت، مشکلات کے باوجود وقار کی تلاش اور اپنی آواز خود بلند کرنے کی جدوجہد جیسے موضوعات آج بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے اس دور میں تھے۔ ٹورنٹو میں فلم کو ملنے والی پذیرائی پر رچی مہتا نے کہا کہ جب انہوں نے ناظرین کو اپنی نشستوں سے اٹھ کر تالیاں بجاتے دیکھا اور انہیں فلم سے متاثر ہوتے محسوس کیا تو انہیں لگا کہ پھولن دیوی کی کہانی اسی انداز میں ناظرین تک پہنچی ہے جس کی ٹیم نے امید کی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فلم پھولن دیوی کی آواز اور ان کی کہانی کے ساتھ انصاف کرنے میں کامیاب رہی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:برطانوی گلوکارہ پالوما فیتھ نے ایڈ شیران کی ’سیاسی غیر جانبداری‘ پر سوال اٹھایا
پروڈیوسر شرین منٹری کیڈیا نے بھی ٹورنٹو پریمیر کو ٹیم کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے رچی مہتا کی حساس ہدایت کاری اور اسنیہا کماری کی اداکاری کو سراہا۔ ان کے مطابق اسنیہا نے پھولن دیوی کے کردار کو اس انداز میں پیش کیا ہے جو ناظرین کے دلوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ رچی مہتا اس سے قبل ’دہلی کرائم‘ جیسی بین الاقوامی سطح پر مقبول سیریز کے لیے بھی معروف ہیں۔ ’پھولن‘ میں انہوں نے ہدایت کاری کے ساتھ اسکرین پلے اور پروڈکشن کی ذمہ داری بھی سنبھالی ہے۔ فلم کی تیاری نامہ پکچرز کے تحت ہوئی ہے اور ٹورنٹو کے بعد اسے پرائم ویڈیو پر پیش کیا جائے گا، تاہم اس کی باقاعدہ ریلیز تاریخ ابھی جاری نہیں کی گئی۔ فلم میں پیش کی گئی پھولن دیوی کی زندگی کے اس دور کو پہلے بھی مختلف تخلیقات میں موضوع بنایا جاچکا ہے۔ ۱۹۹۴ء میں شیکھر کپور نے ان کی زندگی پر ’بینڈیٹ کوئین‘ بنائی تھی، جس میں سیما بسواس نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم نے قومی فلم ایوارڈز بھی حاصل کیے تھے، تاہم خود پھولن دیوی نے اس کی پیش کش پر اعتراض کیا تھا۔ رچی مہتا کی نئی فلم نے ان کی پوری زندگی کی بجائے ایک محدود مگر فیصلہ کن مرحلے پر توجہ مرکوز کی ہے۔